مرد اور عورت کو، ،خالق کائنات نے محبت، ہمدردی اور سکون کے لیے پیدا کیا ہے۔ تاہم آج اگر ان دونوں کی محبت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ مسئلہ بڑا گھمبیر ہوچکا ہے۔ اس گھمبیر مسئلہ نے گھروں کو برباد کر ڈالا ہے۔
مرد اپنی محبت کا اظہار خاموشی سے کرتا ہے اور بکھری پڑی ایک کمزور سی لڑکی کو بیاہ کرکے گھر لاتا ہے، اس کی تحفظ کی ضمانت بن جاتا ہے، اس کو ریلیکس رکھنے کے لیے ہزار جتن کرتا ہے، گرمی سردی کی پرواہ کیے بغیر اس عورت کو خوش اور محفوظ رکھنے کے لیے رُلتا رہتا ہے اور ایثار و قربانی کی انتہا کر دیتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہی وہ لڑکی اس ہنستے مسکراتے مرد کی زندگی مشکل بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ اس کو ڈسٹرب کرنے کے ہزار بہانے ہوتے ہیں اور طرح طرح سے اسے اذیت دینے لگتی ہے۔ ایسے ایسے ڈیمانڈ کرجاتی ہے کہ بیچارہ مرد اپنی زندگی سے بیزار ہوجاتا ہے۔ عورت اپنے جائز ناجائز مطالبات منوانے کے لیے میٹھی میٹھی باتیں بھی کرتی ہے، آنسو بھی بہاتی ہے، دھونس دھمکی پر بھی آجاتی ہے، ناراض بھی ہوجاتی ہے، غرض سب کچھ کرنے لگتی ہے۔
مرد کے سامنے ہزاروں مشکلات ہوتی ہیں لیکن عورت کو اپنی شاپنگ سے فرصت نہیں ہوتی۔ اور اس کی خواہشات کی آگ اسے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ ذرا اپنے اردگرد کا جائزہ لیں، مرد عورت کی ان بےہودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے کہاں کہاں سے نہیں گزرتا؟ کرپشن کرنے لگ جاتا ہے، صحت اجازت دے نہ دے مگر آوور ٹایم لگاتا ہے، سیکنڈ ٹائم جاب کرتا ہے، پھر بھی کام نہ چلے تو چوریاں کرنے لگتا ہے، ڈاکے ڈال دیتا ہے، اپنے دیگر اقارب کے حقوق مارنے لگتا ہے اور بہت کچھ کرنے لگتا ہے لیکن دوسری طرف سے پھر بھی ڈیمانڈ کم نہیں ہوتے اور نتیجتاً ہنستا مسکراتا "مرد” نفسیاتی امراض کا شکار ہوکر، زندگی سے نجات پانے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔
یہ ہمارے گھر گھر کی کہانی ہے۔ پھر یہی عورت اپنے شوہر نامدار کو زیر کرنے کے لیے جعلی پیروں اور تعویذ فروش کا سہارا لیتی ہے۔ اپنا زیور تک بیچ کر مرد کو کنٹرول کرنے کے تعویذ بنواتی ہے۔ ہر جائز ناجائز عمل سے گزرتی ہے مگر شوہر کو زیر کرنا ہوتا ہے۔ ذرا ان تعویذوں کا جائزہ لیں جو قبروں اور دیگر مقامات سے نکالے جاتے ہیں، یہی کہ مرد کو کنٹرول کرنے کے تعویذ ہوتے ہیں۔
اور پھر عورت تو، ذرا سی بات پر میکے چلے جاتی ہے اور ریلکس ہوکر واپس بھی آجاتی ہے مگر مرد کہاں جائے ، اس کا تو پورا وجود ہی ذمہ داری کا "مجسمہ” ن جاتا ہے ، والدین کی خوشیاں اور بیوی بچوں کی خواہشات اور سپنوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے وجود تک کو فراموش کر دیتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ وہ بھی اس دنیا میں ہنسنے، مسکرانے ، سکون پانے، ھمدردی سمینٹنے اور محبت کرنے اور محبت لینے کے لیے پیدا کیا گیا تھا….۔! یاللعجب!
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی تخلیق ہی سکون، محبت، ھمدردی اور احترام کے لیے کیا ہے، اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(سورۃ الروم: 21)
ترجمہ
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔”
آپ نے ملاحظہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ روم میں صاف ارشاد کیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیق محبت، ہمدردی اور سکون کے لیے کی گئی ہے، مگر یہاں آج کی عورتیں خدا کی اس آفاقی ہدایت کو پرے ڈال کر مرد کی زندگی کو جہنم بنانے کے لیے ہزار جتن کرتی ہیں۔ اور اللہ کا غضب یہ کہ اَن پڑھ خواتین سے زیادہ پڑھی لکھی خواتین اور اچھی خاصی عہدہ والی خواتین یہی کام کرتی ہیں۔
اگر مجھ پر یقین نہیں آتا تو ان پیشہ ور عاملوں سے پوچھیں جن کے پاس ایسی خواتین یا ان کی مائیں، بہنیں یا بھائی وغیرہ آتے ہیں اور بس یہی رونا روتے ہیں۔
مجھے مردوں کی زیادتیوں سے انکار نہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ مردوں کی زیادتیاں بھی اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔ ظلم، بے وفائی، بدزبانی اور ناانصافی کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔ لیکن عمومی حالات کا جائزہ یہی بتاتا ہے کہ یہ اکثر تب ہوتا ہے جب عورت کی بدزبانیاں اور لچھن بڑھ جائیں تو مرد صبر اور ایثار کے بجائے جور و جفا پر اتر آتے ہیں۔
مرد ساری دنیا سے مقابلہ کرسکتا، ہر مصبیت جھیل سکتا ہے لیکن اپنی فیملی اور عورت کا بگڑا ہوا رویہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوجاتا ہے۔
علماء کرام، خطباء عظام، سماجی مفکرین اور اصلاحی تحریکوں سے وابستہ افراد کو اس حوالے سے بھرپور آگہی دینی چاہیے تاکہ ہنستے بستے گھر قبرستان نہ بن جائیں۔
کہنے کے لیے بہت کچھ ہے، سماج میں دردناک کہانیاں ہیں مگر مرد اور عورت کو ،بالآخر یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنی چاہیے کہ محبت وہاں زندہ رہتی ہے جہاں انا و بدزبانی کم، ایثار و قربانی زیادہ، مطالبات و خواہشات کم، صبر و شکرگزاری زیادہ اور اللہ کا خوف ہر فیصلے پر غالب ہو۔ اور خدائی ہدایات اور نبوی طریقہ آخری اصول ہو۔