کہتے ہیں، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، مگر وقت سے زیادہ انسان بدلتے ہیں۔ کبھی ایک دسترخوان پر بیٹھ کر اختلاف کرنے والے بھی ایک دوسرے کے دل میں جگہ رکھتے تھے، آج ایک ہی گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔ کبھی نظریں ملتیں تو محبت بولتی تھی، آج نظریں ملتی ہیں تو انا جاگ اٹھتی ہے۔ زبانیں پہلے سے زیادہ رواں ہیں، مگر دل پہلے سے زیادہ خاموش۔ گفتگو بہت ہے، مگر مکالمہ نہیں؛ تعلقات بہت ہیں، مگر رفاقت نہیں؛ ہجوم بہت ہیں، مگر انسان تنہا ہے۔
ایسے ہی کسی سماجی زوال کو دیکھ کر شاعر بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
"ہر شخص ہے اپنی ہی انا میں گم صم،
کیسی ہوا چلی ہے، یہ کیسا دور آیا ہے۔”
یہ شعر صرف دو مصرعے نہیں، بلکہ ہمارے عہد کا اجتماعی نوحہ ہے۔ ایسا نوحہ جس کی بازگشت عدالتوں میں بھی سنائی دیتی ہے، ٹوٹتے ہوئے گھروں میں بھی، بے رونق رشتوں میں بھی، اور ان آنکھوں میں بھی جو برسوں سے کسی اپنے کی واپسی کی منتظر ہیں۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بیرونی حملوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے افراد اپنی ذات کے خول میں بند ہو جائیں۔ جب ہر شخص اپنی رائے کو حرفِ آخر اور اپنے مفاد کو سب سے بڑی حقیقت سمجھنے لگے تو محبت، ایثار، برداشت اور باہمی احترام جیسی اقدار آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتی ہیں۔
آج انا نے محبت کی جگہ لے لی ہے۔ معمولی باتوں پر برسوں کے تعلقات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی غلط فہمی خاندانوں کو تقسیم کر دیتی ہے۔ ہر شخص خود کو درست اور دوسرے کو قصوروار ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، حالانکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے احساسات کو اہمیت دے۔
اسلام نے انسان کو عاجزی، انکساری اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔”
(سورۃ النحل: 23)
یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ غرور اور تکبر بندے کی شان نہیں۔ حقیقی عظمت عاجزی، اچھے کردار اور دوسروں کے احترام میں ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی عاجزی، تحمل اور درگزر کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، بلکہ ہمیشہ رحمت اور معافی کا راستہ اختیار فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
آج ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے، مگر دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ گھر، خاندان اور معاشرتی تعلقات اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب انسان اپنی انا کو پیچھے رکھ کر محبت اور برداشت کو آگے بڑھائے۔
سوشل میڈیا نے اظہار کا ذریعہ ضرور فراہم کیا ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی عائد کی ہے۔ ہر بات کو عام کرنا، ہر اختلاف کو منظرِ عام پر لانا اور ہر معاملے میں اپنی ذات کو نمایاں کرنا رشتوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی اور درگزر وہ کام کر جاتے ہیں جو لمبی بحثیں بھی نہیں کر سکتیں۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وہ غلطی کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی ماننے کو اپنی شکست سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جو شخص اپنی انا کو زیر کر لیتا ہے، وہی زندگی کا اصل فاتح بنتا ہے۔ دنیا کی ہر جنگ دوسرے کو ہرا کر جیتی جا سکتی ہے، مگر دلوں کی جنگ صرف خود کو ہرا کر جیتی جاتی ہے۔
آج ہمیں نئی عمارتوں سے زیادہ نئے کردار تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئی سڑکوں سے زیادہ دلوں کے درمیان ٹوٹے ہوئے راستے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہوگی جو دلیل سے بات کرے، ضد سے نہیں؛ محبت سے جیتے، نفرت سے نہیں؛ اور خدمت کو اپنی پہچان بنائے، برتری کو نہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو سلامتی کی بات کہتے ہیں۔”
(سورۃ الفرقان: 63)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مؤمن کی پہچان عاجزی، تحمل اور اچھا رویہ ہے۔
ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ آخر ہم کس چیز کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ اگر اس جنگ کے اختتام پر ہمارے پاس دولت تو ہو، مگر اپنے نہ ہوں؛ شہرت تو ہو، مگر سکون نہ ہو؛ دلیل تو ہو، مگر محبت نہ ہو؛ تو پھر ایسی جیت بھی دراصل ایک بہت بڑی ہار ہے۔
تہذیبیں اس وقت زوال پذیر نہیں ہوتیں جب ان کی معیشت کمزور ہوتی ہے، بلکہ اس وقت جب ان کے لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں، زبانیں تلخ ہو جاتی ہیں اور انا، محبت سے بڑی ہو جاتی ہے۔
آئیے، آج عہد کریں کہ ہم معاف کرنے میں پہل کریں گے، معذرت کرنے میں جھجک محسوس نہیں کریں گے، اختلاف کو دشمنی نہیں بنائیں گے اور اپنی انا کے بجائے اپنے کردار کو بلند کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بکھرتے ہوئے معاشرے کو دوبارہ جوڑ سکتا ہے۔
آخر میں پھر وہی شعر دل کے دریچوں پر دستک دیتا ہے:
"ہر شخص ہے اپنی ہی انا میں گم صم،
کیسی ہوا چلی ہے، یہ کیسا دور آیا ہے۔”
شاید زمانے کو بدلنے کے لیے کسی بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں، صرف ایک انسان کو اپنی انا سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معاشرے ہمیشہ قانون سے نہیں، کردار سے بدلتے ہیں؛ اور کردار کی پہلی فتح اپنی ذات پر حاصل ہوتی ہے۔