یہ غالباً 2014ء کی بات ہے۔ میری ڈگری کالج چلاس میں پوسٹنگ ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے بزرگ پروفیسر جناب اشرف ملک صاحب کالج کے پرنسپل تھے۔ میں جوائننگ کے لیے چلاس پہنچا تو پروفیسر صاحب نے نہایت محبت اور خلوص سے استقبال کیا، اکرام کیا اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ چونکہ مجھے اسی روز واپس گلگت آنا تھا، اس لیے وہ مجھے خود اڈے تک چھوڑنے آئے۔ صرف چھوڑنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ گاڑی کی روانگی تک وہیں میرے ساتھ انتظار کرتے رہے۔کچھ لوگوں کا ظرف اور محبت ایسی ہی ہوتی ہے، عہدہ کچھ بھی ہو، مگر انسان اپنے برتاؤ سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ اشرف ملک صاحب کے ساتھ ایسی دسویں خوشگوار یادیں ہیں۔
ایک دن میں کلاس سے باہر نکل رہا تھا کہ دیکھا، اشرف ملک صاحب چند طلبہ پر ناراض ہو رہے تھے۔ کسی کو ہدایات دے رہے تھے اور کسی کو سخت ڈانٹ رہے تھے۔ بطور پرنسپل یہ ان کی ذمہ داری بھی تھی۔ نظم و ضبط کے لیے بعض اوقات سختی ناگزیر ہوجاتی ہے، ورنہ ادارے کا نظام بکھرنے میں دیر نہیں لگتی۔
میں نے عرض کیا
"سر! اتنی سختی بھی مناسب نہیں۔”
ملک صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا، مجھے سیدھا اپنے آفس میں لے گئے اور فرمایا
"حقانی! باقی تمام باتیں ایک طرف رکھو۔ چلاس کے ان طلبہ میں استاد کا احترام بہت زیادہ ہے۔ آپ کسی غلطی پر انہیں تھپڑ مار دیں، خوب ڈانٹ دیں، حتیٰ کہ سختی بھی کریں، وہ آگے سے بدتمیزی کرنا یا لڑنا تو دور کی بات، آپ کے اس طرزِ عمل کا برا بھی نہیں منائیں گے۔ خاموشی سے برداشت کرلیں گے ، لیکن استاد کا دل کبھی نہیں دکھائیں گے۔”
ان کی یہ بات میرے ذہن میں نقش ہوگئی۔
مجھے مدارس، اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے اور پڑھانے کا موقع ملا ہے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام کا جو رشتہ میں نے دیکھا، وہ یا تو دینی مدارس میں نمایاں ہے یا پھر ضلع دیامر کے تعلیمی اداروں میں۔
مجھے ڈگری کالج چلاس میں تقریباً چھ سال تدریس کا موقع ملا۔ اس دوران بے شمار تجربات ہوئے اور طلبہ کی کئی ایسی مثالیں دیکھنے کو ملیں جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہاں استاد کا احترام آج بھی زندہ ہے۔ ہماری ڈانٹ ڈپٹ اور سختی پر طلبہ ناراض تک نہیں ہوتے۔
میرے طالب علموں میں کم عمر طلبہ کے معروف لیڈر راجہ عابد محفوظ بھی شامل ہیں۔آج کل وہ ڈگری کالج کے طالب علم ہیں، میں نے دورانِ کونسلنگ، لیکچر میں اور کبھی کلاس سے باہر بھی اسے کئی مرتبہ سختی سے ڈانٹا، لیکن اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ ہر بار خاموشی سے صرف یہی کہا
"جی سر!”
اسے معلوم تھا کہ میں اسے بطور استاد سمجھا رہا ہوں، اس لیے میری ڈانٹ بھی اسی تعلق کا حصہ ہے۔
ایسی درجنوں مثالیں میرے سامنے ہیں۔
کل ہی چلاس میں، ایک لڑکے نے کسی عوامی جلسے میں الیکشن کی خوشی میں فائرنگ کردی تو ایک استاد شاہ فیصل صاحب نے اسے زور دار تھپڑ مارا۔ شاید وہ لڑکا اسکا شاگرد تھا، اگر استاد اور شاگرد کے درمیان احترام کا یہ رشتہ موجود نہ ہوتا تو شاید ایک معمولی واقعہ بھی بڑے ہنگامے کا سبب بن جاتا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ دیامر کی سطح پر استاد کی اس بروقت تادیبی کاروائی کو خوب سراہا گیا اور ہر ایک نے اپنے ماضی کے اساتذہ کے تھپڑ کی یاد تازہ کرلی اور بہتوں نے سوشل میڈیا پر اس کا اعتراف بھی کیا۔
ایسے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دیامر کے اسکولوں اور کالجوں میں استاد کا احترام آج بھی ایک زندہ روایت ہے۔ زمانہ بدل گیا، تعلیم کے انداز بدل گئے، شاگردوں کے مزاج بدل گئے، لیکن یہاں استاد کے لیے دل میں موجود احترام ابھی پوری طرح رخصت نہیں ہوا۔
اور جہاں تک دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کا تعلق ہے، وہاں تو استاد اور شاگرد کے تعلق کی بات ہی کچھ اور ہے۔ شاید دنیا کے بہت سے تعلیمی نظام اس تعلق کی مثال پیش نہ کرسکیں۔
آج بھی ہمارے بعض اساتذہ ہمیں باقاعدہ ڈانٹ دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسی ڈانٹ پڑتی ہے کہ ہمارے پاس ہنسنے کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ لیکن پھر انہی اساتذہ کی محبت، شفقت اور احترام کا عالم بھی دیکھیے! ڈانٹ میں تربیت ہوتی ہے، سختی میں خیرخواہی اور خاموشی میں محبت۔
استاد کا مقام صرف کتاب پڑھانے سے نہیں بنتا، اور شاگرد کا احترام صرف رسمی آداب سے ثابت نہیں ہوتا۔ اصل تعلق وہ ہے جہاں استاد کو شاگرد کی اصلاح کا حق حاصل ہو اور شاگرد کو استاد کی سختی میں بھی محبت اور خیرخواہی نظر آئے۔شاید اسی کا نام استاد اور شاگرد کا رشتہ ہے۔ اس اس رشتے کی کچھ جھلکیاں دیامر کے اسکول و کالجز میں آج بھی موجود ہیں۔