خوشحال معموروں کی حکایات

وقت کا ظلم آواز دیے بغیر ہمارے برسوں، ہمارے موسموں اور ہماری محبتوں کو لمحوں اور گھنٹوں کے سموں تلے کچلتا اس کج کلاہی سے سر اٹھائے گزرتا ہے کہ ہماری زندگیاں تا حد نظر پھیلے منہ زور تلاطم میں کوئی نشان چھوڑے بغیر ڈوب جاتی ہیں ٹھیک اسی طرح جیسے ہمارے پرکھ اور پھر انکے پرکھ اس زمین سے گزرے اور آج ہمیں انکے نام تک معلوم نہیں۔ بیسویں صدی کے اختتامی برس امید و بیم کی سیال تصویر تھے۔ سرد جنگ ختم ہو چکی تھی۔ امریکا بہادر کا ڈنکا بج رہا تھا لیکن دنیا کے وسیع منطقوں پر ابھی غربت، محرومی اور ناانصافی کے سائے موجود تھے۔ دوسری جنگ کے بعد سے کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب دنیا کے کسی خطے میں بندوقوں نے آگ نہ اگلی ہو، توپوں کی گرج تھمی ہو ، ہنستے بولتے انسانوں پر موت کی خاموشی نہ اتری ہو، ان کے گھروندے منہدم نہ ہوئے ہوں اور انکی معیشت کے سہارے برباد نہ ہوئے ہوں۔

نئی صدی میں یہ سب سلسلے جاری رہے لیکن ایک معاشی معجزے نے بھی جنم لیا۔ رواں صدی کی پہلی دہائی میں پچاس کروڑ انسان غربت کے اندھے کنوئیں سے باہر نکالے گئے۔ انسانی تاریخ میں اتنی کم مدت میں اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کی معاشی حالت بہتر نہیں ہوئی۔ معاشی ترقی میں پچھڑے ہوئے بہت سے ممالک یکایک جھرجھری لیکر اٹھے۔ انکی معیشت نے رفتار بدلی اور دنیا کا عالمی نقشہ تلپٹ ہو گیا۔ آج ایسے ہی کچھ ممالک کا ذکر رہے۔ اقبال نے کہا تھا، ’جو کام کچھ کر رہی ہیں قومیں، انہیں مذاق سخن نہیں ہے۔‘ اقبال کا اشارہ مشاعروں اور زبان و بیان کے قضیوں کی طرف تھا، آپ ’مذاق سخن‘ کی جگہ مذہبی غلبے کے خواب نیم روز، نسلی اور لسانی رستاخیز نیز انسان دوست فکر پر سرمائے کی سرد اور بے رحم گرفت رکھ لیجیے۔

اکیسویں صدی اپنا ایک چوتھائی سفر طے کر چکی۔ ان پچیس برسوں میںجن ممالک نے تیز ترین معاشی ترقی کا معجزہ کر دکھایا ان میں چین، ایتھوپیا، ازبکستان، ویتنام، بنگلہ دیش، بھارت، عراق، قازقستان، کینیا اور گیانا سرفہرست سمجھے جاتے ہیں۔ اس ربع صدی میں چین نے کل داخلی پیداوار (جی ڈی پی) میں 1622فیصد اضافہ حاصل کیا۔ ایتھوپیا نے اس اشاریے میں 1433فیصد، ازبکستان نے 660فیصد، ویتنام نے 560فیصد، بنگلہ دیش نے 500 فیصد، بھارت نے800فیصد، عراق نے 430فیصد، قازقستان نے 425فیصد، کینیا نے 415 فیصد اور گیانا نے 4665فیصد پھیلائو حاصل کیا۔ رواں صدی شروع ہوئی تو چین میں فی کس آمدنی قریب 970ڈالر تھی جو اب 14875ڈالر کے نشان کو چھو رہی ہے۔ چین کا معاشی حجم 21 کھرب ڈالر کو پہنچ چکا ہے۔ گویا امریکا (32.38 کھرب ڈالر) کے بعد چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ مساوی قوت خرید کے پیمانے پر چین کا معاشی حجم 44کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس اعتبار سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ عالمی معیشت کا 20فیصد حصہ چین کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس عرصے میں چین کی سالانہ اوسط معاشی شرح نمو 8فیصد رہی ہے۔ امریکا میں یہ شرح 2.5 فیصد رہی ہے۔ سنہ 2000ء میں چین کی معیشت کا عرفی حجم 1.2کھرب ڈالر تھا جو اب 21کھرب ڈالر کو پہنچ چکا ہے۔ چین نے ترقی کے سفر کا آغاز 1978ء میں اپنی معیشت پر سرکاری اجارہ ختم کرنے سے کیا تھا۔ ایسی وسیع منڈی اور پیداواری مواقع دیکھ کر دنیا بھر سے سرمایہ کاروں نے چین کا رخ کیا۔

داخلی پیداواری استعداد بڑھائی گئی۔ دیہی آبادی کو شہری معیشت میں تبدیل کیا گیا ہے اور شرح خواندگی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ لمحہ موجود میں صنعتی ترقی نایاب معدنی ذخائر پر انحصار کر رہی ہے اور چین کے پاس کل عالمی ذخائر کا تقریباً نصف ذخیرہ موجود ہے اور ان معدنیات کو قابل استعمال حالت میں لانے کی صلاحیت پر چین کا 90فیصد اجارہ ہے۔ ابن انشا کی نظم ’یہ بچہ کس کا بچہ ہے‘ پر ایتھوپیا کے فاقہ زدہ بچے کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ سنہ 2000ء میں ایتھوپیا کی معیشت عالمی سطح پر 104درجے پر تھی ۔ فی کس آمدنی 122ڈالر تھی۔ آج ایتھوپیا کی معاشی درجہ بندی 72 ہے اور فی کس آمدنی 1100ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔ مساوی قوت خرید کے پیمانے پر ایتھوپیا کا معاشی حجم 560ارب ڈالر کو پہنچ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں سالانہ معاشی شرح نمو 9سے 10فیصد کے درمیان رہی ہے۔ اس حیرت انگیزترقی کی بنیادی وجہ تیل یا معدنیات کی دریافت نہیں بلکہ عوامی انفراسٹرکچر ، خدمات اور داخلی پیداوارمیں اضافے کے ذریعے معیشت کا حجم دس گنا بڑھایا گیا ہے۔ وسطی ایشیا کے ملک ازبکستان نے تجارتی اصلاحات اور منڈیوں تک رسائی کی مدد سے اپنی معیشت میں 660فیصد اضافہ کیا ہے۔ سنہ 2000میں ازبکستان کی فی کس آمدنی 555ڈالر تھی اور معیشت کا حجم محض 14ارب ڈالر تھا۔ آج اس ملک کی معیشت کا حجم 182ارب ڈالر ہے اور فی کس آمدنی 4660ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔ معیشت میں 660 فیصد کا یہ اضافہ قریب سات فیصد سالانہ شرح نمو سے حاصل کیا گیا ہے۔ ازبکستان کی عالمی معاشی درجہ بندی 60کے ہندسے کو چھو رہی ہے۔

انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ترسیلات زر کا بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ہے۔ صنعت، تجارت اور زراعت میں جدت لائی گئی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق رواں برس میں ازبکستان کی معاشی شرح نمو 8اور 9فیصد کے درمیان رہے گی۔ 45 سال تک جنگ کا شکار رہنے والے ویت نام نے گزشتہ ربع صدی میں اپنی معیشت میں560فیصد اضافہ کیا ہے۔ سنہ 2000ء میں ویتنام کی فی کس آمدنی 500ڈالر تھی جو اب 5115ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ ویت نام کی عرفی معیشت کا حجم 527ارب ڈالر ہے اور سالانہ شرح نمو 7فیصد سے زیادہ ہے۔ ویت نام نے 1986ءمیں معاشی اصلاحات کا آغاز کیا تھا۔ درآمدات و برآمدات میں سہولت پیدا کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ تجارت اور معاشی حجم میں تناسب 190فیصد کو پہنچ چکا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بوجوہ چین سے ویت نام منتقل ہو رہی ہے۔ مصنوعات کی منڈی پھیل رہی ہے اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی گئی ہے۔ معیشت میں پانچ گنا اضافہ کرنیوالے بنگلہ دیش کی سنہ 2000ء میں فی کس آمدنی 397ڈالر تھی جو آج 3ہزار ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔ (جاری ہے)

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے