میں سماجی علوم کا طالب علم ہوں، بنیادی طور پر معاشیات میرا موضوع نہیں لیکن علم سیاسیات، علم صحافت اور قرآن و حدیث کیساتھ علم معاشیات یا اسلامی اقتصادیات کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھنے اور بولنے کے لیے اسلامی معاشیات کی بنیادی کنسپٹ جاننا ضروری ہوتا ہے، اس کے لیے قرآن و حدیث کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
بہرحال سید مناظر احسن گیلانی صاحب کی یہ کتاب "اسلامی معاشیات” کا بڑا چرچا سنا تھا، مگر پڑھنے کی نوبت نہیں آئی تھی، کیونکہ کتاب ملی ہی نہیں تھی تو کیسے پڑھتا۔ گزشتہ سال بھائی نصراللہ ہمدرد چلاسی کے پاس یہ کتاب دیکھی تو خاموشی سے کچھ حصوں کا مطالعہ کیا مگر تشنگی باقی تھی، اب کی بار پھر انہوں نے گھر مدعو کیا تو پھر اسلامی معاشیات پڑھنے بیٹھ گیا۔ دل چاہ رہا تھا کہ ان سے کتاب مانگو، مگر شرم کے مارے کتاب نہیں مانگ سکا، میں خود بھی آسانی سے اپنی کتب کسی کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ تاہم نکلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میری کتب میں کوئی کتاب پسند ہے تو لے جاؤ،” بس یہ سننا تھا کہ اسلامی معاشیات گردن میں دبوچ لی، اور پھر اس میں غرق ہوتا گیا۔
گزشتہ دنوں گیلانی صاحب کی کتاب "الدین القیم” بھی پڑھنے کا موقع ملا، لیکن جو مزہ "اسلامی معاشیات” میں آ رہا ہے، اس کا کیا کہنا۔
بعض کتابیں صرف معلومات میں اضافہ کرتی ہیں، بعض کتابیں سوچنے کا زاویہ بدل دیتی ہیں، اور کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو پہلے سے پڑھے ہوئے بہت سے تصورات کو ایک نئے تناظر میں جوڑ دیتی ہیں اور بار بار سر کھجاتے ہوئے سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مجھے یہ کتاب اسی آخری نوعیت کی محسوس ہو رہی ہے۔
معاشیات کو ہم عموماً اعداد و شمار، دولت، منڈی، پیداوار، تجارت، قیمتوں اور لین دین کا علم سمجھتے ہیں، مگر اسلامی معاشیات کا مطالعہ یہ احساس دلاتا ہے کہ معیشت محض پیسوں کا کھیل نہیں، اس کے پیچھے انسان، اس کی ضروریات، عبادت، دعا، اخلاق، حقوق، ذمہ داریاں، عدل، امانت، حلال، حرام، جائز، ناجائز اور معاشرے کی اجتماعی فلاح اور انسانیت کی بہبود جیسے بنیادی سوالات بھی موجود ہیں۔ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے تناظر میں معاشی معاملات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے انسان کو صرف عبادات ہی نہیں سکھائیں بلکہ اس کے خریدنے، بیچنے، کمانے، خرچ کرنے، قرض لینے دینے اور دوسروں کے مالی حقوق ادا کرنے تک کے معاملات کو بھی اخلاقی اور شرعی اصولوں سے جوڑا ہے۔
اسی لیے میرا خیال ہے کہ گیلانی صاحب کتاب "اسلامی معاشیات” ہر مولوی اور خطیب کو پڑھنی چاہیے، بلکہ ہر پڑھے لکھے انسان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ بالخصوص وہ لوگ جو جدید و قدیم معاشیات کے ماہر نہیں، لیکن قرآن و حدیث، سیرت النبی ﷺ اور فقہ اسلامی کے تناظر میں روزمرہ کی معاشیات سے لے کر عالمی منڈی تک کو سمجھنا یا جاننا چاہتے ہیں، وہ اس کتاب کو ترجیحی بنیادوں پر پڑھیں۔
میری اپنی دلچسپی بھی شاید اسی زاویے سے ہے۔ اور 80 سال پہلے لکھی گئی کتاب کا اسلوب اتنا دلچسپ ہے کہ بندہ موضوع پر دلائل و براہین کیساتھ اسلوب میں بھی کھوجاتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں بھی اہم اور خشک موضوعات پر اتنی سلیس اور شگفتہ اسلوب میں کتابیں لکھی جاتی تھیں۔
معاشیات میرا بنیادی موضوع نہیں، مگر سماج، سیاست، صحافت اور دینی فکر سے وابستہ رہتے ہوئے معیشت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ آخرکار انسان جس معاشرے میں رہتا ہے وہاں اس کے سیاسی فیصلوں، سماجی رویوں، طبقاتی تعلقات و کشمکش، غربت و امارت، تجارت و صنعت اور حتیٰ کہ بہت سے مذہبی و اخلاقی مسائل کے پیچھے بھی معاشی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اسے انکار کی گنجائش نہیں۔
سید مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ جیسے اہل علم کی خوبی یہی ہے کہ وہ ایک موضوع کو محض ایک محدود علمی دائرے میں نہیں دیکھتے بلکہ اسے دین، تہذیب، معاشرہ اور انسانی زندگی کے وسیع تناظر سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ انہوں نے کن کن تناظرات کو جوڑا ہے۔
"اسلامی معاشیات” پڑھتے ہوئے مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ معاشیات کو سمجھنے کے لیے صرف منڈی کو دیکھنا کافی نہیں، انسان کو بھی سمجھنا پڑتا ہے، اور انسان کو سمجھنے کے لیے اس کے خالق کی ہدایت سے رشتہ جوڑنا ناگزیر ہے۔
ابھی کتاب مکمل نہیں ہوئی، مگر جتنا پڑھا ہے، اتنا ضرور محسوس ہوا کہ یہ ان کتابوں میں سے ہے جنہیں صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ ساتھ لے کر چلا جاتا ہے اور میں چلاس سے ساتھ لے کر گلگت آیا ہوں، شاید دوبارہ ساتھ لے کر چلاس جانا ہو۔ اور شاید اچھی کتاب کی یہی پہچان ہے کہ وہ بند ہونے کے بعد بھی ذہن میں کھلی رہتی ہے۔آپ بھی اس کو منگوا لیں اور ساتھ لیے پڑھتے جائیں، کافی ضخیم ہے۔