پڑی بنگلہ کا کربلا

جناب وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ صاحب اور جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب!

آپ دونوں صاحبان کو بس اتنا بتانا ہے کہ گزشتہ بیس دن سے پڑی بنگلہ کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے۔

مائیں اور بہنیں پینے کے پانی کی ایک بالٹی کے لیے دو تین کلومیٹر کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔ گھروں کی ٹینکیاں خالی پڑی ہیں، اور اب تو ان میں ایک بالٹی پانی ڈالنے کے لیے بھی پانی میسر نہیں۔

سوچیے! گلگت کیپٹل سے محض 25 کلومیٹر کے فاصلے پر، شاہراہ قراقرم پر واقع ایک بستی میں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ محض پانی کا بحران نہیں، یہ ایک انسانی المیہ ہے۔

جناب وزیراعلیٰ صاحب!

خدا کے لیے اس معاملے میں کچھ ہنگامی کیجیے۔

لوگوں کو وعدے نہیں، اس وقت پانی چاہیے۔ ٹینکر چاہیے۔ فوری ریلیف چاہیے۔

اور جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب!

آپ تو پڑی بنگلہ کے پانی کا وعدہ کرکے ہی جیتے تھے۔ آج یہی بستی آپ کی طرف بھی دیکھ رہی ہے۔ اپنے وعدے کو یاد کیجیے اور اس مشکل گھڑی میں لوگوں کے کام آئیے۔

دونوں صاحبان سے دست بستہ گزارش ہے

خدارا! اس قیامت خیز صورت حال کو مزید طول نہ دیجیے۔

پڑی بنگلہ کو پانی دیجیے،

لوگوں کو اس کربلا سے نکالیے۔

یہ سیاست کا وقت نہیں، انسانوں کی پیاس بجھانے کا وقت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے