کینٹن فئیر: چین کی معاشی ترقی اور بدلتے صنعتی ماڈل کی کہانی

چین کی معاشی ترقی کو سمجھنے کے لیے اس کی صنعتوں، برآمدات اور عالمی تجارت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ گوانگ جو میں منعقد ہونے والا کینٹن فئیر ان تینوں پہلوؤں کو ایک جگہ دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ محض مصنوعات کی نمائش نہیں، بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ چین نے کس طرح اپنی پیداواری صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی منڈیوں کی ضروریات کو ایک دوسرے سے جوڑا ہے۔

1957 میں شروع ہونے والے اس میلے نے تقریباً سات دہائیوں کے دوران چین کی صنعتی ترقی کے کئی مراحل دیکھے ہیں۔ ابتدا میں اس کا بنیادی مقصد چینی مصنوعات کے لیے بیرونی منڈیاں تلاش کرنا اور غیر ملکی تجارت کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ چین کی معیشت بدلی، اس کی صنعتوں نے ترقی کی اور میلے میں پیش کی جانے والی مصنوعات بھی سادہ گھریلو اشیا سے جدید مشینری، الیکٹرانکس اور نئی توانائی کی ٹیکنالوجی تک پھیل گئیں۔

کینٹن میلے کا ایک سو چالیسواں ایڈیشن 15 اکتوبر سے 4 نومبر 2026 تک منعقد ہو رہا ہے ۔ اس موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ نے 14 اکتوبر کو میلے کے نام ایک تہنیتی پیغام میں اس فئیرکی 70 سالہ اہم خدمات اور چین کی معیشت کی خصوصیات کو نمایاں کرتے اس میلے کی اہمیت کو واضح کیا ۔چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے 14 اکتوبر کو گوانگ چو میں ایک سو چالیسویں کینٹن فیئر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھلے، اختراعی اور قابل اعتماد چین کے عزم کا اعادہ کیا اور باہمی فائدے والی تجارت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اعلیٰ معیار کی مصنوعات درآمد کرنے اور تجارت کی بہتر و متوازن ترقی کے لیے تیار ہے، اور ترقی پذیر ممالک کا قابل اعتماد دوست رہے گا۔ ڈبلیو ٹی او کی ڈائریکٹر جنرل نے ویڈیو خطاب کیا، جبکہ 90 سے زائد ممالک کے 700 نمائندوں نے شرکت کی۔

رواں سال کینٹن فیئر میں 32 ہزار سے زائد نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں، جن میں سے 64 فیصد صنعتی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہیں۔ نمائش میں نئی مصنوعات کا تناسب 23.2 فیصد جبکہ ماحول دوست مصنوعات کا تناسب 26 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ دونوں شرحیں اب تک کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ رواں سال کینٹن فیئر کے دوران نئی مصنوعات متعارف کرانے کی 700 سے زائد تقریبات منعقد کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ ان تقریبات میں پیش کی جانے والی مصنوعات کی تعداد میں گزشتہ فیئر کے مقابلے میں 15 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

اس سال کینٹن میلے کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں الیکٹرانکس، صنعتی خودکاری، مشینری، برقی گاڑیوں، آٹو پارٹس اور نئی توانائی سے متعلق مصنوعات پیش کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں فرنیچر، گھریلو استعمال کی اشیا، تعمیراتی سامان اور آرائشی مصنوعات نمایاں ہوں گی، جبکہ تیسرے مرحلے میں ملبوسات، ٹیکسٹائل، جوتوں، کھلونوں، طبی آلات اور غذائی مصنوعات پر توجہ دی جائے گی۔ اس تقسیم سے خریداروں کو اپنی ضرورت کے مطابق کاروباری اداروں اور مصنوعات تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

میلے کی ایک نمایاں خصوصیت جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست مصنوعات کی بڑھتی ہوئی موجودگی ہے۔ چینی وزارتِ تجارت کے مطابق، اس سال اس میلے میں 11 ہزار سے زیادہ اعلیٰ معیار کے صنعتی ادارے شرکت کریں گے۔ تقریباً 64 فیصد نمائش کنندگان صنعتی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ نئی مصنوعات کا حصہ 23.2 فیصد اور ماحول دوست مصنوعات کا حصہ 26 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ دونوں تناسب میلے کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہیں۔ نمائش کے انتظام میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسعت دی جا رہی ہے، جس کے تحت 22 سمارٹ ایپلی کیشن منظرناموں اور 16 مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی چین کی صنعتی حکمت عملی کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔ چین اب صرف زیادہ مقدار میں مصنوعات تیار کرنے پر انحصار نہیں کر رہا، بلکہ پیداوار کے معیار، توانائی کی بچت، آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنوعات کی قدر بڑھانے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

کینٹن میلے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے چین کی مجموعی تجارتی کارکردگی پر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق، جنوری سے اگست 2026 کے دوران ملک کی اشیا کی مجموعی درآمدات اور برآمدات 34.78 ٹریلین یوآن تک پہنچیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہیں۔ اس دوران برآمدات 20.17 ٹریلین یوآن جبکہ درآمدات 14.61 ٹریلین یوآن رہیں۔ مکینیکل اور برقی مصنوعات کی برآمدات 21.9 فیصد اضافے کے ساتھ 12.91 ٹریلین یوآن تک پہنچیں ۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین کی برآمدی معیشت میں جدید صنعتی مصنوعات کا کردار بڑھ رہا ہے۔

چین کے ترقیاتی ماڈل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے پیداوار کو تحقیق، ٹیکنالوجی، رسد اور عالمی منڈیوں کی ضروریات کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ کینٹن میلے میں کمپنیاں صرف اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے نہیں آتیں، بلکہ انہیں خریداروں کی ترجیحات، معیار کے تقاضوں اور بدلتے ہوئے کاروباری رجحانات کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

اس ماڈل میں خدمات کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ چینی وزارتِ تجارت کے مطابق، اس سال میلے میں 36.5 فیصد نمائش کنندگان مصنوعات کے ساتھ خدمات فراہم کرنے کے ماڈل کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ اس میں مصنوعات کے ڈیزائن، تکنیکی معاونت، ترسیل اور فروخت کے بعد خدمات جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس طرح کمپنیوں کا کاروبار صرف کوئی چیز تیار کرکے فروخت کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ خریداروں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

کینٹن میلے کی تاریخ چین کی عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی اہمیت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ چینی وزارتِ تجارت کے مطابق، 1965 سے 1979 کے دوران میلے کے ذریعے ہونے والی سالانہ برآمدات چین کی مجموعی برآمدات کے 30 فیصد سے زیادہ تھیں، جبکہ بعض برسوں میں یہ تناسب 50 فیصد سے بھی بڑھ گیا تھا۔ آج اس میلے میں شریک کمپنیوں کا حصہ چین کے غیر ملکی تجارتی اداروں میں تقریباً 5 فیصد ہے، لیکن ملک کی مجموعی تجارتی برآمدات میں ان کا حصہ تقریباً 16 فیصد ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ میلہ اہم کاروباری امکانات رکھتا ہے۔ پاکستانی درآمد کنندگان یہاں سے صنعتی مشینری، الیکٹرانکس، تعمیراتی سامان اور دیگر مصنوعات کے سپلائرز تلاش کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستانی برآمد کنندگان اپنی مصنوعات کو چینی اور دوسرے بین الاقوامی خریداروں کے سامنے پیش کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم، اس تجارت میں کامیابی کے لیے صرف کم قیمت کافی نہیں؛ معیار، مصنوعات کے متعلقہ سرٹیفکیٹ، ادائیگی کی شرائط اور ترسیل کے نظام پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

کینٹن میلے کے حتمی تجارتی نتائج کا اندازہ اس کے اختتام کے بعد ہونے والے معاہدوں اور کاروباری سرگرمیوں سے ہوگا۔ تاہم، اس سال کی تیاریوں اور دستیاب اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ چین اپنی صنعتی قوت کو جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست پیداوار اور عالمی تجارت کے ساتھ مزید مربوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سات دہائیوں کا سفر اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ کینٹن میلے کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ چین کی معیشت کو صرف مصنوعات کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کے بدلتے ہوئے صنعتی معیار، کاروباری حکمت عملی اور عالمی معیشت میں اس کے کردار سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے