عوام فوج کی حکمرانی کیوں چاہتے ہیں؟

[pullquote]فوج کی حکمرانی [/pullquote]

عوام کے متعلق ایک خیال مشہور ہے کہ انہیں فوج کی حکمرانی یا مارشل لا وغیرہ پسند ہے۔ بات یہ ہے کہ عام آدمی کے ذہن میں فوج کا تصور ایک محب وطن، غیر جانبدار، عادل اور منصف ادارے کا ہے۔ عوام کو اس افسانوی تصور سے محبت ہےجو ایک فطری بات ہوتی ہے۔ زبانی طور پر ایک عام آدمی ہمیشہ سیاستدان کے مقابلے میں جرنیل کو ذیادہ کھرا اور ایماندار سمجھے گا مگر عملی اور شعوری طور پر اس جرنیل کو کسی سیاستدان کے مقابلے میں ووٹ کبھی نہیں دے گا۔ راحیل شریف صاحب کے تصور (ایک جری کمانڈر، ایک مسیحا، رات کو ہم سو جائیں تو ہمارا پہرہ دینے والا، ایک کھرا آفیسر) سے عام آدمی کو محبت ہے۔ راحیل شریف بطور ایک حقیقت اگر عملا سیاست میں آئیں تو افتخار چودھری کی سیاسی جماعت والی قسمت ہی پائیں گے۔

اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ہمارے ہاں عوام کو "اسلام کے آئیڈیل نظام” سے بحیثیت ایک تصور محبت ہے۔ اس ذہنی ساخت کے زیر اثر عام آدمی زبانی طور پر خوب کہے گا کہ ہمیں خلافت راشدہ کا نظام چاہیے۔ عملا حکومت کا انتخاب کرتے ہوے وہ اسلام کے اس آئیڈیل نظام کا خیال دور دور تک دل میں نہیں لاتا۔ اسلامی نظام اس کے لاشعور میں ایک سہانا خواب اور بھولی بسری محبت ہے۔ حقیقت سے اس کا اتنا تعلق نہیں کہ وہ ووٹ دیتے ہوے اس کے متعلق سوچے۔

ان افسانوی تصورات سے عوام کو محبت ہوتی ہے مگر وہ عوام کی اپنی نظر میں بھی افسانے ہی ہوتے ہیں۔ دانشور ان افسانوں کو ایک حقیقت باور کرانے کی کوشش میں اسے عوام کی پکار قرار دیتا ہے۔ حقیقی دنیا میں جب اس افسانے کو رد کر کے مخالف رائے کی اکثریت سامنے آتی ہے تو دانشور پہلے اسے دھاندلی اور کرپٹ نظام وغیرہ کہتا ہے اور بعد میں عوام کو ہی گالی دے ڈالتا ہے۔

خیال اور حقیقت کا فرق عوام کو معلوم ہے دانشور کو نہیں۔ عمران خان بطور ایک تصور پاکستانیوں کا خوبصورت ترین خیال ہے۔ عمران خان بطور ایک حقیقت کچھ بھی نہیں۔

[pullquote]میمو گیٹ کا کفارہ [/pullquote]

سیکیورٹی لیک کے نام پر آج ن لیگ کا سب سے بڑا جمہوریت پسند معطل ہوا ہے۔ پرسوں سپریم کورٹ "وزیر اعظم کی کرپشن کے باعث نااہلی” کا مقدمہ سنے گی۔ میاں صاحب یہ میمو گیٹ کے موقع پر کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جانے کا کفارہ ہے۔ ہم تب بھی منتخب لوگوں کے ساتھ تھے آج بھی منتخب لوگوں کے ساتھ ہیں۔ جب تک تمام اہل سیاست منتخب حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کی ریت نہیں ڈالتے، سویلین غدار قرار دیے جاتے رہیں گے۔ خان صاحب آپ بھی خدا کا نام لیں اور نوجوانوں کو جمہوریت پسند بنائیں، کل کو آپ کی حکومت آئی یہی اسٹیبشمنٹ اور یہی سپریم کورٹ آپ کو ٹیریان وائٹ کے بہانے سے نااہل قرار دے گی۔ جب ایسا ہوا تو آج کے بوٹ پالشیے آپ پر آوازیں کس رہے ہونگے اور ہم تب بھی جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑے ہونگے۔

[pullquote]عوام غداروں کو کیوں منتخب کرتے ہیں .[/pullquote]

آپ ایبڈو بنا کر انہیں گھر بھیجیں، ہم پھر انہیں منتخب کریں گے، آپ فاطمہ جناح کو غدار کہیں، ہم اسے ہی ووٹ دیں گے، آپ بھٹو کو مار ہی دیں ہم اس کی بیٹی کو وزیر اعظم بنائیں گے، آپ نواز شریف سے استعفی لیں، ہم اسے دو تہائی اکثریت دیں گے، آپ اسے ملک بدر کر دیں، ہم اسے تیسری دفعہ وزیر اعظم بنائیں گے۔ آپ بے نظیر کو اپنے اثاثوں کی مدد سے مروا دیں، ہم اس کے بیٹے کو ووٹ دے دیں گے۔ ہمیں علم ہے کہ آپ کی اصل لڑائی ہم سے اور ہمارے حق انتخاب سے ہے اور ہم اس جنگ میں ہمیشہ آپ کو مات دیتے آئے ہیں، آئندہ بھی دیں گے۔

[pullquote]جمہوریت پر لعنت بھیجنے کا نعرہ پاکستان مردہ باد کہنے سے زیادہ خطرناک کیسے ہے ؟[/pullquote]

پاکستان میں مختلف مذہبی، علاقائی اور لسانی شناخت والے شہری رہتے ہیں ہے جو آپس میں اس اصول پر اکٹھے ہوے ہیں کہ ہر ایک کو بنیادی حقوق میسر ہونگے۔ انتخاب کی آزادی کا حق ان تمام بنیادی حقوق کا ضامن ٹھہرتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے تمام شہری حکومت تشکیل دیتے ہیں جو ان بنیادی حقوق کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ یہی حق انتخاب جمہوریت کا اصل اصول ہے اور "پاکستان” وہ تصور یا فکشن ہے جو مختلف شناخت رکھنے والے شہریوں کے اس اصل اصول پر اکٹھ کا نام ہے۔ لہذا جب کوئی کہے کہ میں اس جمہوریت پر لعنت بھیجتا ہوں تو یہ "پاکستان مردہ باد” کے نعرہ کے مقابلہ میں سینکڑوں گنا خطرناک بات ہے۔ پاکستان مردہ باد کا نعرہ، قبیح ہی سہی، مگر ایک تصور اور فکشن کی توہین ہے، جمہوریت پر لعنت 20 کروڑ جیتے جاگتے شہریوں اور ان کے بنیادی حق کی توہین ہے۔ پاکستان کی حقیقت اس کا شہری ہے، اس کا تصور نہیں۔

[pullquote]مسئلے کی اصل وجہ جاننےکا رواج [/pullquote]

رات ہوٹل پہ بیٹھے کھانا کھاتے ہوے میرے کزن آرمی سکولز اور کالجز کے اساتذہ کے سیاسی خیالات سناتے سناتے کہنے لگے کہ آپ نے جمہوریت جمہوریت کر کے خواہ مخواہ مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پہلے بڑی آسانی ہوا کرتی تھی جب ذرا طبیعت لہرائی منہ بھر کر سیاست دانوں کو گالیاں دے لیا کرتے تھے اب ہر مسئلے کی اصل وجہ دریافت کرنا پڑتی ہے۔

احمد علی کاظمی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور راولپنڈی بار سے منسلک ہیں .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے