اگر آپ اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ہو کر باہر کا نظارہ لے رہے ہیں، سبز گھاس، درخت اور کھلا نیلا آسمان دیکھ رہے ہیں، یا اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر دور گہرے نیلے آسمان کی گہرائیوں میں جھانک رہے ہیں، تو یہ کوئی انٹلیکچول کمال نہیں کر رہے، آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ کوئی ڈھنگ کا کام کریں۔
ہمارے اردگرد ایک عجیب خبطی طبقہ بھی تولد پذیر ہو چکا ہے جس نے "دور تک دیکھنے” کو دانشوری کی علامت بنا رکھا ہے۔ یہ زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور اپنے تئیں فلسفی سمجھتے ہیں۔ اگر ساتھ میں ماتھے پر دو شکنیں بھی ڈال لیں اور کبھی کبھار لمبی سانس بھر دیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ کائنات کے کسی بہت بڑے راز تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ بھی ان کا ذاتی خیال ہے۔ حالانکہ ان کے ذہن میں صرف یہی منصوبہ چل رہا ہوتا ہے کہ آج کس کو گھیرنا ہے کھانے کے لیے۔
بعض لوگ آپ کو شام کے وقت چھت پر ایسے کھڑے نظر آئیں گے جیسے ناسا نے انہیں نئی کہکشاں دریافت کرنے کی اسائنمنٹ دے رکھی ہو۔ پانچ منٹ، دس منٹ، پندرہ منٹ… نظریں آسمان پر جمی رہتی ہیں۔ نیچے سے کوئی پوچھ لے، "بھائی صاحب، کیا دیکھ رہے ہیں؟” تو جواب ملتا ہے، "زندگی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” حالانکہ زندگی نیچے کچن میں ان کی بیگم سمجھا رہی ہوتی ہیں۔
کچھ حضرات پارک میں جا کر درخت کو اس انداز سے گھورتے ہیں جیسے درخت ابھی ان سے گفتگو کرے گا۔ ان کا خیال ہے وہ نیچر سے کنیکٹ ہو رہے ہیں۔ ارے بھائی! نیچر سے کنیکٹ ہونے میں کوئی حرج نہیں، لیکن واپس گھر جاتے ہوئے وہ چیزیں مت بھول جانا جو بیگم نے منگوائی تھیں۔
اس کمبختی مارے سوشل میڈیا نے بھی اس بیماری کو بڑھاوا دیا ہے۔ تصویر لگی ہو گی، بندہ دور افق کی طرف دیکھ رہا ہے۔ نیچے کیپشن ہوگا: "خاموشیاں بہت کچھ کہتی ہیں۔” حقیقت یہ ہے کہ خاموشیاں کچھ نہیں کہتیں۔ 🫣بس ہڈ حرامی ہڈیوں میں جا بسی ہے۔😂
یہ انتصار الحق نے اپنے کالم میں لکھا ہے اس کو تبدیل کر دوں یا رہنے دوں
کچھ لوگوں کا شاید تکیہ کلام ہی ہے: "میں گہری سوچ میں تھا۔” حضور! اگر آپ دن میں چھ مرتبہ گہری سوچ میں چلے جاتے ہیں تو پھر کام کب کرتے ہیں؟ قوموں کی ترقی سوچ سے ضرور ہوتی ہے، ویسے ایک دانشور کا خیال ہے کہ ترقی ایسی بھی ہوتی ہے۔۔۔ اُوں اُوں اُوں
او بھائی کبھی کبھار فطرت کو دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ سبزہ، درخت اور نیلا آسمان ذہن کو سکون دیتے ہیں۔ تھکی ہوئی آنکھوں کو آرام ملتا ہے، دل ہلکا ہوتا ہے اور نئے خیالات بھی جنم لیتے ہیں۔ مگر اس سکون کو مستقل پیشہ بنا لینا بھی کوئی دانشمندی نہیں۔ دوا بھی اتنی ہی کھائی جاتی ہے جتنی ضرورت ہو، پوری بوتل ایک ساتھ نہیں پی جاتی۔
اس لیے اگلی بار اگر آپ گھنٹوں کے حساب سے کھڑکی یا چھت پر کھڑے رہنے سے اجتناب کریں۔ ورنہ دانشور کے بجائے احمق تصور کیے جائیں گے۔
قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے آپ کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
یہ کام امیر خسرو، بلھے شاہ، واصف علی واصف، قدرت اللہ شہاب، اور اشفاق احمد پہلے ہی کر چکے ہیں۔
ھیں نا ۔ ۔ ؟؟؟