شاکر شجاع آبادی کے ساتھ کچھ باتیں

شاکر شجاع آبادی کا نام اہل ذوق میں کسی تعارف کا محتاج نہیں. عوامی مسائل اور غربت کے دکھ شاکر شجاع آبادی کی شاعری کا موضوع رہے ہیں. ان کی غزلیں اوردوہرے عوام میں بےحد مقبول ہیں. شاکر شجاع آبادی 1935 میں پیدا ہوئے. شاکر شجاع آبادی کا اصل نام محمد شفیع اور تخلص شاکر ہے.. انہوں نے چھٹی جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑ دی. وقت بڑا استاد ہے غربت اور کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے والے حساس انسان نے اپنے دکھوں کے اظہار کے لیے شاعری کا سہارا لے لیا.. شاکر کی مقبول تصانیف میں منافقاں توں خدا بچاوے، شاکر دے دوہڑے، کلام شاکر، پتھر موم، شاکر دیاں غزلاں، لہو دا عرق شامل ہیں.. شاکر شجاع آبادی کو دو ہزار سات میں پراءڈ آف پرفارمنس بھی دیا گیا. شاکر 1994 تک بول سکتے تھے اس کے بعد ان پر فالج کا حملہ ہوا اور اب وہ بات کرنے سے قاصر ہیں اگرچہ چھوٹے چھوٹے الفاظ میں بات کرنےکی بھرپور کوشش کرتے ہیں. نجی ٹی وی چینل کے ذریعے شاکر شجاع آبادی کی کسمپرسی کا احوال سوئیٹ ہومز کے چیئرمین ذمرد خان تک پہنچا تو وہ شاکر شجاع آبادی کو اسلام آباد لے آئے جہاں اب وہ فیملی ہمراہ رہ رہے ہیں. ان سے ملاقات بےحد اچھی رہی وہ بولنے سے قاصر ہیں مگر لکھ کر اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کرتے ہیں.. میں نے سلام دعا کے بعد شاکر شجاع آبادی سے صحت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکھ کر بتایا کہ وہ بہتر محسوس کر رہے ہیں. میں نے پوچھا یہاں آ کر کیسا محسوس کر رہے ہیں. انہوں نے ایک آہ بھری اور لکھا اپنا گھر توگھر ہوتا ہے چاہے جھونپڑی ہی کیوں نہ ہو. میں نے پوچھا آپ نے غربت اور تلخ حقائق کو ہی موضوع کیوں بنایا؟ وہ مسکرائے اور لکھنے لگے کہ میں خود بھی غریب طبقے سے ہوں میں پریکٹیکلی جانتا ہوں غربت کیا ہے یہ لکھ کر انہوں نے میری طرف دیکھا جیسے میری توجہ مبذول کروانا چاہتے ہوں میں نے مسکرا کر سر ہلایا تو انہوں نے لکھا غربت قدرے بہتر ہے مجبوری سے..

میں نے کہا اپنی شاعری میں سے کوئی پسندیدہ شعر بتایئں وہ تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر لکھا کاش کوئی ایسا شعر لکھ سکوں

میرے اصرار پر کہ ایک پسندیدہ شعر تو ضرور یی بتائیں انہوں نے لکھا

آدمی انسان تب ہوتا ہے دوستو

جرم کی توفیق رکھےاور وہ نہ کرے

میں نے پوچھا یہی شعر کیوں پسند ہے انہوں نے لکھا میں تمہیں سمجھاتا ہوں انہوں نے لکھنا شروع کیا آدمی آدم علیہ اسلام کی اولاد. بندہ بندگی کرنے والا، ظلم کیا ہے؟ اختیارات کا ناجائز استعمال، اختیارات چاہے اللہ کے دئیے ہوئے ہوں یا کسی اور کے.. آدم علیہ اسلام نے خود کو ظالم کیوں کہا؟ جبکہ چوری، ڈاکہ اور قتل وغیرہ سے پاک تھے

اللہ نے اختیار دیا کہ گندم کھا سکتے ہو مگر مت کھاو آدم نے اختیار کا غلط استعمال کیا اور ظالم ہو گئے.. اس لیے اختیار ہونے کے باوجود بھی جرم سے بچنے میں انسانیت ہے.. ایک شعر میں چھپے بڑے میسج کو سمجھتے ہوئے میں نے پوچھا باقی شعرا کو پڑھا انہوں نے بےنیازی سے سر نفی میں ہلا دیا اور پھر کچھ لکھنے میں مصروف ہو گئے میں نے جھانک کر پڑھا وہ لکھ رہے تھے پڑھا تو نہیں جتنا کلام سنا ہے ان میں غالب، محسن نقوی، نصیر الدین نصیر اور خاص کر میاں محمد ابھی انہوں نے صرف میاں محمد ہی لکھا تھا میں نے کہا اور میاں محمد بخش آپ کے پسندیدہ شاعر ہیں انہوں نے بالکل کسی ننھے منے معصوم بچے کی طرف زور زور سے تائید میں سر ہلایا.. انہوں نے مزید لکھا کہ خواجہ غلام فرید کو شاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں.. انہیں تئیس مارچ دو ہزار سترہ میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا جائے گا اس سے پہلے دو بار شاعر اعظم کا ایوارڈز بھی مل چکے ہیں. میں نے پوچھا کہ جب آپ کے کام کو پزیرائی ملتی ہے لوگ محبت کرتے ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے انہوں نے مسکرا کر لکھا میں سمجھتا ہوں کہ میری محنت کم اور اللہ کا کرم زیادہ ہے..

شاکر شجاع آبادی سے ملاقات ختم ہوئی ان کی صحت کے لیے سبھی سے دعاوں کی اپیل ہے ان کی اسپیچ تھراپی بھی چل رہی ہے اور فالج کا علاج بھی.. امید ہے جلد وہ اچھی صحت اور پرانے جوش و خروش کے ساتھ اپنے چاہنے والوں میں موجود ہوں گے انشاءاللہ..

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے