جناب خورشید ندیم صاحب سے ایک گزارش

خورشید ندیم صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں- وہ ایک زبردست کالم نگار واینکر پرسن ہے ،ان کے کالم روزنامہ دنیا اور آئی بی سی اردو پر مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں، ان کے کالمز میں اچھی معلومات ہوتی ہیں، وہ بہت اچھے موضوعات پر لکھتے ہیں اور لکھتے بھی بہت اچھے، اس حوالے سے وہ داد و تحسین کے مستحق ہے- یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ میدان صحافت میں جتنی قابلیت، ذہانت، بصیرت اور آگاہی درکار ہے شاید کسی دوسرے موضوع میں ہو -جناب خورشید ندیم کی قابلیت اور ذہانت میں شک نہیں ،لیکن ظاہر ہے انسان جتنا ذہین وقابل ہو بالآخر کچهہ نہ کچهہ نقائص بہر حال ہر انسان میں رہ جاتے ہیں جو خاصہ بشر ہیں- جناب خورشید ندیم صاحب کو دینی معلومات کم ہیں جس کی دلیل ان کے کچهہ کالمز ہیں، بندہ ان کے کالمز پڑھتا رہتا ہوں، شاہد کے طور پر ان کے ایک تازہ شائع ہونے والے کالم پر مختصر تبصرہ کروں گا، اس سے پہلے جناب برادر خورشید ندیم صاحب کی خدمت میں یہ گزارش کروں گا کہ آپ ضرور اپنے دینی معلومات کو بڑھائے ،اسلام اور مسلم اعتقادات کو مغربی محققین اور نظریہ پرداز افراد کی کتابیں پڑهہ کر سمجھنے کی کوشش کرنے کی بجائے متون دینی اور اصل سرچشمہ دین کا بغور مطالعہ کرکے دین کو سمجهہ کر اظہار خیال کرنے کی سعی کریں –

ایک دن پہلے ان کا ایک کالم آئی بی سی اردو پر شائع ہوا ،کالم کا عنوان تھا ” سٹیٹس کو” جس میں جناب خورشید ندیم صاحب نے لکھا ہے کہ ‘سٹیٹس کو’ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺟﻤﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﻗﻮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺍﺣﻢ ہیں، پھر ﺳﭩﯿﭩﺲ ﮐﻮ’ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮦ قوتوں کے بارے میں مفکر علامہ اقبال کا نظریہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﯾﮧ ﺗﯿﻦ ﻗﻮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻢ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﺍﻭﺭﺍﺭﺗﻘﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ -ﺳﻠﻄﺎﻧﯽ، ﻣﻼﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﯼ۔ یہاں تک جو لکھا ہے اچھا لکھا ہے، لیکن اس کے بعد ایسے چند جملے لکھنے کی زحمت کی ہے جن کو پڑهہ کر مجھے ہنسی آئی- ان جملوں میں جناب خورشید ندیم نے کلام کے مہم موضوعات پر بحث کرکے سمجھنے کی کوشش کرنے والوں کو دین کی حقیقت اور روح عصر سے ناواقف قرار دیا ہے اور لکھا ہے- ﯾﮧ ﺗﺼﻮﻑ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻣﻮ ﺿﻮﻋﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻦ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺼﺮﯼﯾﺎ ﻋﻤﻠﯽ ﺍﻓﺎﺩﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ اس مطلب کے لئے انہوں نے یہ مثالیں لکھنے کی جرات کی ہے’ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮩﺪﯼ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟ ﺻﻔﺎﺕِ ﺫﺍﺕِ ﺣﻖ، ﺣﻖ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﯾﺎ ﻋﯿﻦِ ﺫﺍﺕ؟ ان مثالوں کا انتخاب کرنا بتاتا ہے کہ جناب خورشید ندیم کا دینی مطالعہ کتنا کمزور ہے-

اب لیجئے جناب خورشید ندیم صاحب میری طرف سے جواب, میں آپ کوبتاتا ہوں کہ” امام مہدی کون ہیں” پر بحث کرنے کا عملی افادیت ہے یانہیں؟ یہ ایک خشک موضوع ہے یا اس پر بحث کرکے سمجھنا ضروری ہے ؟ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مہدی ع کا وجود مطہر سرچشمہ حیات معنوی ہے جب تک دل کی پاکیزگی اور تزکیہ کا مرحلہ انجام نہیں پاتا کمال کے طالب کے لئے پاکیزہ حیات میسر نہ ہوگی، امام مہدی پاکیزگی کی لیاقت رکھنے والے دلوں کو پاک کرتے ہیں اور پاکیزہ دلوں کو زندہ کرتے ہیں،آپ کمالات ، فضائل اور علوم و عظمتوں کا دریا ہیں کہ جو معرفت کے پیاسوں اور فضیلت کے غوطہ خوروں کو فائدہ پہنچانا ہے – حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی معرفت دو لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے، پہلے تو یہ کہ امام وقت کی معرفت ہمارا فریضہ ہے کیوں کہ معرفت امام ہم پر شرعاً وعقلا واجب ولازم ہے- فریقین کے کتب احادیث میں مشہور ومعروف حدیث ہے۔”من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاھلیۃ””جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرگیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے”اس حدیث کے بارے جناب خورشید ندیم صاحب کا کیا خیال ہے ؟

امام مهدی کی معرفت ہمارے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اسی معرفت کے ذریعہ مہدویت کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے افراد کے دعوے کو غلط اور باطل قرار دے سکتے ہیں۔حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے لئے روایات واحادیث میں جن اوصاف وعلائم کا تذکرہ پایا جاتا ہے ان کے پیش نظر، یہ اوصاف آپ کے علاوہ کسی اورمیں نہیں پائے جاتے۔اگر کوئی شخص دعوائے مہدویت کرنے والوں کے مکروفریب میں پھنس گیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ ان اوصاف وخصوصیات سے غافل یا بے خبر تھا، یا پھر اس نے بعض ایسے اوصاف کو جو آپ کا خصوصی وصف نہیں بلکہ وصف عام تھا اور اس میں دوسرے افراد کی شرکت ممکن تھی، آپ کی خصوصی صفت سمجھ لیا اور دھوکہ میں مبتلا ہوگیا، ورنہ آپ کے لئے جو اوصاف وخصوصیات مذکور ہیں وہ ایسے ہیں کہ آپ کی ذات گرامی کے علاوہ ،دعوائے مہدویت کرنے والے کسی بھی شخص پر ان کا منطبق ہونا ممکن ہی نہیں ہے اوران اوصاف وعلائم وخصوصیات کی عدم موجودگی میں ایسے افراد کے دعویٰ کا باطل ہونا آفتاب عالمتاب کی طرح واضح ہے-اس کے علاوہ ”امام“ انسان کامل کے عنوان سے انسان کے تمام پہلوﺅں میں انسانی زندگی کے اعلیٰ نمونہ عمل ہے، کیونکہ انسانیت کو ایسے نمونہ کی سخت ضرورت ہے جس کی مدد اور ہدایت کے ذریعہ وہ تربیت پا سکے، نیز ان آسمانی رہبروں کے زیر سایہ انحراف اور اپنے سرکش نفس کے جال اور بیرونی شیاطین سے محفوظ رہ سکے۔ کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے ؟

علاوہ از این امامت کی اہمیت اور اس کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر دشمنوں نے ہمیشہ حضرت مہدی ع کے قائلین کو فکری اور عملی لحاظ سے نشانہ بنایا ہے تاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں شبہات اور اعتراضات بیان کرکے ان کے ماننے والوں کو شک و تردید میں مبتلا کر دیا جائے، جیسا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں شک و تردید پیدا کرنا، یا آپ کی طولانی عمر کے مسئلہ کو ایک محال اور غیر عقلی مسئلہ قرار دینا، یا آپ کی غیبت کو غیر منطقی چیز قرار دینا اور اسی طرح کے بہت سے اعتراضات، اس کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بعض ناواقف برادران مہدویت کے سلسلہ میں کچھ غلط اور بے بنیاد چیزیں بیان کردیتے ہیں، جن سے کچھ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں یا ان کو گمراہ کر دیا جاتا ہے، ” امام مهدی کون ہیں” پر خوب دلیل عقلی ونقلی کے زریعے بحث کرکے سمجھنا بہت سارے افراد کو گمراہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے کیا ہدایت انسان سے بڑی قیمتی افادیت کا تصور کرسکتے ہیں؟

اس کے علاوہ جناب خورشید ندیم صاحب کی رأی کے مطابق اگر مہدی کون ہیں پر بحث کرنا عملی افادیت سے خالی ہونے کی وجہ سے اگر لغو ہو تو اس کا نتیجہ پیغمبر اسلام کی وہ ساری حدیثیں بھی لغو ہونا لازم آتا ہے جو حضرت مهدی ع کی شناخت اور معرفی کے سلسلے میں بیان ہوئی ہیں کیا ایسا نہیں جناب خورشید ندیم صاحب ؟

آپ کے بعض اوصاف وخصوصیات سے متعلق صرف احادیث کی تعداد قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

1-مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر (ص) کے خاندان اور آپ کی ذریت سے ہیں، 389، احادیث سے یہ بات ثابت ہے

48-2/احادیث کے مطابق حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر (ص)کے ہم نام ہیں اور پیغمبر(ص) کی کنیت آپ کی کنیت ہے اور آپ پیغمبر(ص) سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔

3 ۔ 214/احادیث میں مذکور ہے کہ آپ امیرالمومنین (ع) کی اولاد میں سے ہیں۔

4۔ 192/احادیث کے مطابق آپ حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی اولاد میں سے ہیں۔

5۔ 107/احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ ”امام حسن (ع)وامام حسین (ع)” کی اولاد سے ہیں۔

6۔ 185/احادیث میں مذکور ہے کہ آپ کا تعلق اولاد امام حسین (ع) سے ہے۔

7۔ 148/احادیث بیان کرتی ہیں کہ آپ نسل امام حسین (ع) کے نویں فرزند ہیں۔

8۔ 185/احادیث کے مطابق امام زین العابدین (ع)کے فرزندوں میں ہیں۔

9۔ 146/روایات کے مطابق امام علی نقی (ع)کے جانشین کے جانشین اورامام حسن عسکری (ع) کے فرزند ہیں۔

10۔136/احادیث میں آپ کو بارہواں امام (ع) اور خاتم الائمہ کہا گیا ہے۔

11۔10/احادیث کے مطابق آپ دو غیبت (صغریٰ، کبریٰ) اختیار فرمائیں گے۔

12۔91/احادیث کے مطابق آپ کی غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ لوگوں کے ایمان کمزور پڑجائیںگے اور کم معرفت والے شک وشبہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔

13۔318/احادیث کے مطابق آپ کی عمر شریف بہت طولانی ہوگی۔

14۔123/احادیث کے مطابق آپ ظلم وجور سے بھری ہوئی زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے

15۔15/احادیث میں ہے آپ لوگوں کی ہدایت فرماکرقرآن وسنت کی طرف پلٹائیں گے۔

16۔23/احادیث کے مطابق آپ انبیاء کی سنتوں کے وارث ہیں ان میں سے ایک غیبت بھی ہے۔

17۔30/روایات کے مطابق آپ کی سیرت بالکل پیغمبر (ص)کی سیرت کی طرح ہوگی۔

18۔24/احادیث کے مطابق لوگوں کے سخت آزمائش وامتحان کی منزل سے گزرنے کے بعد ہی آپ ظہور فرمائیں گے۔

19۔25/احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی(ع) آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔

37-20/روایات کے مطابق آپ کے ظہور سے قبل بدعتوں، ظلم وجور، گناہ، علی الاعلان فسق وفجور، زنا، سود، شراب خوری، جوا، رشوت، امربالمعروف ونہی عن المنکر سے روگردانی کا دور دورہ ہوگا، عورتیں بے حجاب ہوکر مردوں کے امور میں شریک ہوںگی، طلاق کثرت سے ہوگی،لہوولعب، غنا اور موسیقی عام ہوگی۔

رہی دوسری مثال موصوف نے تحریر فرمایا ہے کہ صفات خدا زائد بر ذات ہے یا نہیں پر بحث کرنے کا بھی کوئی ثمرہ عملی نہیں اگر موصوف متون دینی کا تھوڑا مطالعہ کرنے کی زحمت کرتے تو ہرگز یہ نہ لکھتے ان کی معلومات کے لئے نہج البلاغہ میں موجود حضرت علی ابن ابی طالب کے ایک تہائی خطبے کا ترجمہ پیش کروں گا ملاحضہ فرمائیے ( خطبہ اول)

” دین کی ابتداء خدا کی معرفت ہے اور کمال معرفت اس کے یکتا ہونے کا اقرار ہے اور یکتائی کے اقرار کا کمال یہ ہے کہ اس کی صفات اور ذات کو ایک جانے کیونکہ ذات اور صفات دو ہونے سے دوئی لازم آتی ہے اور واجب الوجود کے لئے دوئی محال ہے خدا کی ذات کوصفات سے جدا ماننے کی صورت میں اس کا متعدد ہونا لازم آتا ہے الخ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے