قائد کا پاکستان نہ بن سکا!

قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح ایک جلسہ عام سے خطاب کے بعد پنڈال میں تشریف فرما تھے تو حاضرین نے ان سے مسلمانوں کے لئے الگ مملکت کے قیام کی وجہ کے بارے میں سوال کیا ۔

قائد اعظم نے پاکستان بنانے کو ایک مثال سے واضح کیا اور ایک گلاس پانی منگوا کر ایک مسلمان طالب علم کو اسے آدھا پینے کو کہا اور اس کے بعد ایک ہندو طالبعلم کو بلا کر اسی گلاس میں باقی ماندہ پانی کو پینے کے لئے کہا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ یہ گلاس مسلمان کا ہے جبکہ یہ پانی بھی جھوٹا ہے لہذا وہ اسے پی نہیں سکتا ۔

خیر قائد اعظم نے سوال پوچھنے والوں کو یہ کہا کہ ’’ بس دونوں ملک بنانے کی وجہ یہی ہے کہ یہاں دو مختلف قوموں میں تعصب جنم لے رہا ہے ۔ لیکن گذشتہ دنوں میری ایک سہیلی کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ مجھے محسوس ہوا کہ شاید ابھی تک ہم اسی ہندو مسلم دور میں موجود ہیں ۔ ایک انجانے دوراہے پر کھڑے ہیں ، کسی کو انسان ہی نہیں سمجھتےاور کسی کی پیاس ہمارے لئے اس گلاس سے بھی قیمتی نہیں ہےکیونکہ ہم کسی شخص کو پیاس سے مرتا ہوا دیکھ سکتے ہیں لیکن اپنا گلاس کسی کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتے ۔

ہوا کچھ یوں کہ وہ ایک دن اچانک اپنے ساتھ پانی کی بوتل دفتر لے جانا بھول گئیں اور انھیں وہاں پہنچتے ہی پیاس محسوس ہوئی تو نگاہیں پانی کی تلاش میں سرگرداں ہوئیں ، مایوسی انھیں اس بات پر ہوئی کہ وہاں نہ تو کوئی آفس بوائے تھا جبکہ پانی کے ڈسپنسر میں پانی تو موجود تھا لیکن ظاہر ہے کہ کوئی گلاس اور کپ نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ وہ پانی نہیں پی سکتی تھیں ۔۔۔

آفس بوائے کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ بازار سے بھی پانی نہیں منگوا سکتی تھیں ۔خیر اسی کشمکش میں تین گھنٹے گذر گئے اور تقریبا گیارہ بجے کے قریب انھیں پانی کا ایک گلاس پینا نصیب ہوا ۔

میمونہ اتنی دلبرداشتہ تھیں کہ ان کے منہ سے یہ چند الفاظ سن کر میں ذہنی کرب کا شکار ہو گئی ’’ کہ دیکھو یار اتنی بے حسی کہ آپ کے سامنے دو تین لڑکیاں پانی پی رہی ہیں اور ان کے پاس بوتل اور گلاس موجود ہیں لیکن وہ محض اس لئے آپ کو پانی نہیں دے رہیں کہ وہ گلاس شئیر نہیں کرتیں ، اس سے بڑھ کر فرعونیت اور یزیدیت کیا ہو گی کہ میں نے تین گھنٹے کی پیاس برداشت کی کیونکہ افسران بالا کے لئے استعمال ہونے والے گلاس بھی کچن کیبنٹ میں بند تھے اور اسکی چابی بھی ایک مخصوص ملازم کے پاس تھی ۔۔‘‘

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ، بات محض اتنی سی ہے کہ ہم سب میں اتنی سی بھی انسانیت نہیں ہے کہ ہم کسی کی مدد کر سکیں ، کسی کی الجھن کو دور کر سکیں اور یہ سب اگر دوسرے ہمارے ساتھ کریں کہ ہاں بھی آپ مرتے رہیں پیاس سے جاں بلب ہو جائیں ہم آپ کو پانی نہیں پلا سکتے کیونکہ ہمیں تو گلاس شئیر کرنے کی عادت نہیں ہے ، ہم کسی کے گلاس یا پلیٹ میں کھانا نہیں کھا سکتے تب ہم بھی بہت پیچ و تاب کھائیں گے ناں ؟ ۔

حیف ہے ایسی قوم پر ایسی امت پر کہ جو کسی مسلمان اور کسی انسان کے لئے ایسا نہ کر سکے اور وہ امت جس کے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حوض کوثر کے مالک و مختار ہیں جو صحابہ کے ساتھ فرش پر بیٹھ کر کھاناکھاتے رہے جنہوں نے اپنے دشمنوں کو بھی پیاسا نہیں رکھا ۔

یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے میں نے آپ کے لئے سنا دی ، شاید کہ میں اتنی ہی حساس ہوں کہ میں نے میمونہ کو گلے لگایا اور کہا ’’تم پریشان مت ہو ایسا ہو جاتا ہے بعض لوگ احساسات سے ایسے ہی عاری ہوتے ہیں جنہیں انسانیت کا نہیں صرف کلاس اور گلاس کا خیال ہوتا ہے اور بس تم چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر نہ لو ۔‘‘

کہنے کو تو یہ چند جملے میں نے بھی کہہ دیئے لیکن میرے ذہن کے ایک گوشے پر کہیں دور سے آواز آرہی تھی کہ تعصب ابھی بھی موجود ہے ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ اب صرف ہندو پانی مسلم پانی نہیں بلکہ مسلمان کو کسی مسلمان اور انسان کو بھی پانی پلانا اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ شاید قائد کا پاکستان کبھی نہ بن سکے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے