شعبہ فزکس ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کیوں ؟

پچھلے دنوں حکومت نے قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کر دیا۔ دو تین دنوں سے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت کچھ شائع ہوتا رہا۔ ڈاکٹر عبدالسلام پر سخت تنقید ہوتی رہی، حکومت کو بھی مطعون ٹھیرایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جذباتیت اور عدم رواداری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اختلاف رائے برداشت نہیں کیا جاتا۔ کسی رائے سے اختلاف ہوا تو جھٹ سے اس پر کوئی نہ کوئی لیبل چسپاں کر دیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ کسی متنازع یا جذباتی ایشو میں لوگ کمنٹ کرتے ڈرتے ہیں ، خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام کے حوالے سے رکھنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی بن گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک عام اور سادہ حکومتی فیصلہ ہے، اس میں کوئی سازشی تھیوری ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کام برسوں پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کی زیادہ خدمت کی یا کم یا ملک کے لئے کچھ نہیں کیا، اس پر لمبی بحث کی ضرورت نہیں، یہ بات تو بہرحال طے ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو فزکس میں نوبیل انعام ملا اور وہ پاکستان کے واحد نوبیل لاریٹ ہیں۔ انہیں جس تھیوری پر یہ انعام دیا گیا، اس کی غیر معمولی اہمیت کو فزکس کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر ڈاکٹر عبدالسلام کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں یونیورسٹی کے کسی فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام پر رکھنے میں کیا برائی ہے ؟ فزکس کے طالب علموں کی موٹی ویشن کے لئے ایک نوبیل لاریٹ کا نام استعمال کیا تو یہ عین فطری اور منطقی بات ہے، مقصد صاف ہے کہ بچو تم لوگ بھی محنت کرو اورکوئی ایسا کارنامہ انجام دو کہ نوبیل انعام مل سکے ۔

جہاں تک ڈاکٹر عبدالسلام کے قادیانی ہونے کا تعلق ہے، فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام بدلنے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ قادیانیت کے حوالے سے اس کالم نگار کی رائے واضح ہے، جو شخص ختم نبوت کا قائل نہیں، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، مرزا غلام آحمد قادیانی اوران کے ماننے والوں کی یہی پوزیشن ہے اور الحمداللہ پاکستانی پارلیمنٹ نے انہیں غیر مسلم قرار دے رکھا ہے۔ میرے نزدیک قادیانیوں کی یہ غیر مسلم والی حیثیت طے شدہ معاملہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ری اوپن کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے ۔ اداکار حمزہ عباسی نے ایک ٹی وی شو میں یہ کوشش کی تو اس اخبارنویس نے دوسروں کے ساتھ پوری قوت سے اس کی مزاحمت کی، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر یہ مقدمہ لڑا اور الحمداللہ پیمرا نے وہ شو ہی بند کر دیا۔ قانون تحفظ رسالت میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے بھی ہم مخالف ہیں۔ عالمی سطح پر اس قانون کے حوالے سے دبائو موجود ہے، مگر اس کی مزاحمت کرنی چاہییے۔ اس کے ساتھ ساتھ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قادیانی پاکستانی ہیں، پاکستانی اقلیت کے طور پر انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں ،جن کا ذکر آئین میں موجود ہے۔ اسلام میں اقلیتیوں کے حوالے سے واضح قوانین موجود ہیں۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کئی مثالوں سے یہ واضح کر دیا کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی زندگی،جان ومال اور حقوق کا تحفظ کس طرح کرنا ہے۔ پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، اپنی اقلیتیوں کا ہم نے ہی خیال رکھنا ہے ، ان کے لئے کچھ سپیس پیدا کرنی چاہیے ۔ جو چیزیں ہم غیر مسلم ممالک میں بطور مسلمان اپنے لئے طلب کرتے ہیں، کم از کم وہ تو اپنے اکثریتی مسلم ملک میں غیر مسلموں کو دی جائیں۔ ملک کی درجنوں یونیورسٹیوں میں سے ایک کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام رکھنے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر رکھنے سے کوئی قیامت نہیں آگئی۔ اس حوالے سے غیر ضروری حساسیت اور جذباتیت پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔

کم وبیش یہی معاملہ سندھ میں مذہب تبدیلی کے لئے اٹھارہ برس کی عمر لازمی ہونے کا قانون ہے۔ اس پر بھی خاصا شور مچا ہے، کئی ممتاز علما کرام نے بھی اس پر قلم اٹھایا۔ اہل علم مذہبی حوالوں سے اپنی رائے دے سکتے ہیں،انہیں ہی اس کا حق حاصل ہے۔ میرے جیسے عام اخبارنویس کو البتہ اس قانون میں بھی کوئی ہیجان یا زیادتی محسوس نہیں ہوئی۔ سندھ مسلم اکثریتی صوبہ ہے، جہاں اندرون سندھ کے بعض اضلاع میں ہندو آبادی رہتی ہے۔ ایک عرصے سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے، بعض این جی اوز اسے اٹھانے میں پیش پیش رہتی تھیں کہ نابالغ ہندوئوں کو ڈرا دھمکا کر زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے۔ یہ الزام غلط ہی ہوگا،لیکن اگر اتمام حجت کے لئے مذہب بدلنے کے لئے اٹھارہ برس کی عمر کی پابندی عائد کر دی گئی ہے تو اس سے کیا نقصان ہوگا؟ کتنے لوگ اس سے متاثر ہوں گے ؟ پندرہ ، سولہ یا سترہ برس کے کتنے لڑکے یا لڑکیاں ہیں جو اسلام قبول کرنا چاہ رہی ہیں اور اس پابندی سے ان کے لئے مسئلہ پیدا ہوجائے گا؟ اٹھارہ برس کے بعد تو کوئی پابندی نہیں اور پھر اس قانون کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست اٹھارہ برس کے بعد تبدیلی مذہب کو پروٹیکشن دے رہی ہے ۔ اس سے وہ تمام باطل پروپیگنڈہ دم توڑ جائے گا، جس کے مطابق نابالغ ہندو بچوں کو مسلمان بنایا جا رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں قانونی طور پر بالغ اٹھارہ برس کی عمر میں ہوتا ہے، شناختی کارڈ سے بینک اکائونٹ اور ڈومی سائل سے ووٹ ڈالنے تک تمام کام اسی عمر میں ہوتے ہیں، اگر اٹھارہ برس کی عمر میں تبدیلی مذہب کا قانون بھی اس تناظر میں غلط نہیں ۔ رب تعالیٰ نے ہمیں پاکستان کی شکل میں مسلمان اکثریتی ملک دیا ہے تو ہمیں اس اکثریت میں ہونے ، طاقت میں ہونے کا کچھ بھرم بھی رکھنا چاہیے، ایسے اقدامات علامتی نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر ملک کے اندر اقلیتیوں اور بیرون ملک غیر مسلم دنیا کے لئے اس سے اسلام اور مسلمانوں کا مثبت امیج پیدا ہوتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے