عدلیہ آئین سے بالا تر نہیں،اٹارنی جنرل

اے آر سلطان

اسلام آباد

Supreme-Court-of-Pakistan-Appeal-against-Reko-Diq-Deal42

آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف کیس میں دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو آئینی ترمیم کالعدم کرنے کا اختیار نہیں، عدلیہ آئین سے بالا تر نہیں،، آئین میں ترمیم کا اختیار مجلس شوریٰ کا ہے، عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے۔

سپریم کورٹ میں اٹھارویں، اکیسویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو آئینی ترمیم کالعدم کرنے کا اختیار نہیں، عدلیہ آئین سے بالا تر نہیں اور ضیاء الرحمان کیس میں عدلیہ یہ تسلیم کر چکی ہے.

انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار مجلس شوریٰ کا ہے، عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے، پارلیمنٹ عوام کی امنگوں کی عکاس ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کا ٹرائل عام عدالتوں میں نہیں فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے.

اس پر چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ عدالت کے سامنے سوال سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق ہے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے پوچھا کہ کیا غلطی سے بھارتی سرحد پار کر جانیوالے پاکستانیوں اور پاکستانی سرحد عبور کرنے والے بھارتی شہریوں کا ٹرائل دونوں ممالک کی فوجی عدالتیں کرتی ہیں؟؟؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تین کٹیگری کے لوگ کورٹ مارشل کے زمرے میں آتا ہے، ان میں پاک فوج کے افسران، فوج سے منسلک افراد اور ڈیفنس آف پاکستان سے متعلق افراد شامل ہیں.

ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے،، کیس کی سماعت کل پھر ہو گی.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے