پاکستانی صحافیوں کا دورہ کابل، پہلا حصہ

[pullquote]ہم سفر [/pullquote]

بحیثیت صحافی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان جا سکیں اور وہاں کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں تاکہ جب بھی اس حوالے سے رپورٹنگ کریں تو وہ حقیقت کے قریب ترین بھی ہو اور سب سے بڑی بات کہ شورش زدہ علاقے کی رپورٹنگ ایک صحافی کے کیریر میں اے پلس گریڈ کا درجہ رکھتی ہے۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی دعوت پر پہلی بار افغانستان آنے کا بالآخر موقع مل ہی گیا ہے؟ چمن میں پاک افغان سرحد پر ہونے والے افسوس ناک واقعہ کے ذمہ داروں نے تو پوری کوشش کی کہ یہ دورہ ملتوی ہو جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔بینظیر بھٹو شہید انٹر نیشنل ائرپورٹ کے راول لاونج پہنچا تو وہاں کئی ایک سینئر ترین صحافی حضرات موجود تھے جن میں جاوید صدیق، طاہر خان، حسن خان، متین حیدر اور خالد محمود موجود تھے۔ سہیل چوہدری اور امجد علی نے ہی مجھے گھر سے پک کیا تھا، اس سفر میں واحد خاتون نئیر علی بھی مردانہ وار موجود تھیں۔ ہمسفر ساتھیوں میں کئی ایک تو کافی بار افغانستان آ چکے تھے لیکن میرا اور نئیر کا یہ پہلا دورہ ہے۔

[pullquote]رخت سفر[/pullquote]

سفر مناسب رہا البتہ افغانستان کی فضائی حدود میں داخلے کے بعد برفیلے اور نوکیلے پہاڑوں کے اوپر اے ٹی آر نے اپنا آپ محسوس کرواتے ہوئے بہت کچھ یاد کروایا البتہ ماہر پائلٹ نے جہاز کو اس مشکل موسم سے ایسے نکالا کہ جیسے پنڈی کی ٹریفک میں پھنسا پنڈی بوائے اپنا بائیک نکالتا ہے۔ کابل اترنے کے اعلان کے ساتھ ہی سب کی نظریں کھڑکیوں پر جم گئیں۔ نیچے درخت نامی کوئی چیز نظر نہ آئی، خشک پہاڑ یا پھر تیزی سے بنتے نئے مکانات تو ائیر پورٹ کے احاطے میں امریکی ہیلی کاپٹرز، سی ون تھرٹی طیارے اور نسبتا غیر معروف ائیر لائنز کے کافی تعداد میں جہاز نظر آئے۔۔ اترتے ساتھ ہی سلیفیوں کا دور ہوا۔ امیگریشن کا عمل بھی آسانی اور خوش اسلوبی سے گزر گیا، پریس قونصلر اختر منیر ، ڈپٹی پریس آفیسر چوہدری محمد حسین، طاہر یوسفزئی اور سفارتخانے کا دیگر عملہ ریسیو کرنے کے لیے موجود تھا۔

[pullquote]اداس کابل [/pullquote]

ائیر پورٹ سے نکل کر پانچ منٹ بھی نہ چلے ہونگے کہ میرے سامنے اسلام آباد میں آئی 12 میں آباد افغان کچی بستی کا منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، یہاں بھی صورتحال ویسی ہی تھی جو افغانستان کی تعمیر نو کے نام پر اربوں ڈالر ڈکارنے والوں کا منہ چڑا رہی تھی۔ کابل میں موجود چہرے ہم نے پاکستان میں جگہ جگہ دیکھے ہیں، پشاور، راولپنڈی اسلام آباد، لاہور، گجرات، گوجرانوالہ اور ملک کے باقی حصوں میں بھی لیکن پاکستان میں موجود افغان چہروں اور کابل کے چہروں میں واضح فرق نظر آیا۔ کابل میں مجھے ایک بھی مسکراتا ہوا چہرہ نظر نہیں آیا، میں نے دو لوگوں کو آپس میں بات کرتے ہوئے ہنستے نہیں دیکھا، سڑک پر پیدل چلتے نوجوان مستقبل کی فکر میں ڈوبے ہوئے نظر آئے۔۔ میں نےباس اداسی کا ذکر اپنے ہم سفروں اور اپنے افغان دوست نصیر احمد سے بھی کیا۔

[pullquote]اے سی والی کوسٹر[/pullquote]

ائرپورٹ سے باہر نکلے تو پیرودہائی سے سیکرٹریٹ تک چلنے والے مزدوں کی ہم عمر ایک کوسٹر افغانی ڈرائیور کے ساتھ موجود تھی جس کی سیٹوں پر قالین اس انداز میں بچھایا گیا تھا جیسے کسی خیمے کے داخلی دروازے پر بچھا ہوتا ہے، گاڑی میں بیٹھے تو چمکتی دھوپ نے 21 ڈگری کو 36 ڈگری کی تپش محسوس کرائی تو دوستوں نے با آواز بلند گاڑی اسٹارٹ کرنے کی فرمائش کی جو با دل ناخواستہ قبول ہوئی۔ جس کے بعد اے سی چلانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا تو بھولے بادشاہ نے معصومیت سے جواب دیا کہ مطلوبہ سہولت موجود نہیں جس پر بس سب نے مشترکہ قہقہ بلند کیا۔ وہ تو شکر ہے کہ دن کا باقی حصہ بادل اور بارش رہی ورنہ اس قدیم کوسٹر نے کئی قدیم لوگوں کا دورہ خراب کر دینا تھا۔

[pullquote]سڑکیں اور بازار [/pullquote]

کابل کی سڑکوں پر گاڑیاں دائیں ہاتھ چلتی ہیں اور تمام گاڑیاں بائیں ہاتھ اسٹیئرنگ والی ہیں لیکن کسی بھی سڑک پر ٹریفک کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا بس اللہ توکل اور ڈرائیور حضرات کی باہمی انڈراسٹینڈنگ سے کام چل رہا ہے، آپ ون وے میں داخل ہو جائیں خیر ہے بلکہ آپ تو غلط راونڈ اباوٹ سے بھی گزر سکتے ہیں، ٹریفک سگنل کا نام و نشان نہیں اور ٹریفک پولیس بیچاری کو وردی پہنا دی ہے جو سارا دن پینٹ ہی اوپر کھینچتے رہتے ہیں بیچاروں کو وہم رہتا ہے کہ کہیں گر ہی نہ جائے۔۔

[pullquote]کابل میں پہلا دن [/pullquote]

کابل اسٹار ہوٹل میں چیک ان ہونے اور دوپہر کا کھانا کھانے کے فوری بعد ہماری پہلی مصروفیت رکھی گئی تھی، اور ہمارا پورا وفد نیشنل میڈیا انسٹیٹیوٹ اور نائی کا پہنچا۔ نائی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالمجیب خلوت گر نے اپنے ادارے اور افغانستان میں میڈیا کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا ادارہ افغانستان میں اوپن میڈیا کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کوششوں سے افغانستان میں خطے کا بہترین میڈیا لاء بنایا گیا یے، اطلاعات تک رسائی کا پروگرام بنا ہے جس پر اشرف غنی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے دوسرے دن دستخط کیے جبکہ ڈیفامیشن کا قانون بھی بن رہا ہے۔ عبدالمجیب کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 170 میڈیا ہاوسز وسائل کی کمی کے باعث بند ہو چکے ہیں اس کے باوجود گزشتہ دس سے بارہ سالوں میں افغانستان میں 104 ٹی وی چینلز قائم ہوئے جبکہ 175 رجسٹرڈ ہیں 214 ریڈیو اسٹیشن جبکہ تین سو اخبارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں 12 ہزار 400 میڈیا ورکرز ہیں جن میں سے 2 ہزار 400 خواتین ہیں۔ 2001 سے اب تک 69 صحافی شہید ہوئے۔ دوسری مصروفیت بیات میڈیا سینٹر کا دورہ تھی جہاں آریانہ ٹی وی چینل اور آریانہ ایف ایم کے سی ای او اور ایڈمن اور ایچ آر مینجر نے اپنے ادارے بارے بریف کیا اور میڈیا سینٹر کے مختلف حصوں، نیوز روم، اسٹوڈیوز اور سوشل میڈیا سیکشن کا وزٹ بھی کرایا۔ اس وزٹ میں امریکہ سے تعلق رکھنے والے جیک بیگونا نے بڑی دلچسپ بات کی کہ اطلاعات موجودہ دور کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور پاکستان کی طرف سے بروقت اطلاعات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہی پاک افغان تعلقات تناو کا شکار ہیں۔ آخری مصروفیت پاکستانی سفارتخانے کے عملے کے ساتھ خصوچی ملاقات تھی جس میں بہت سی باتیں آف دی ریکارڈ تھیں لیکن آن دی ریکارڈ باتوں کیلئے اگلی تحریر کا انتظار فرمایے کیونکہ اب رات کے ایک بج گئے ہیں اور کابل سو چکا ہے اور میری آنکھیں بھی نیند سے بوجھل ہیں۔۔ (جاری ہے )

بشیر چوہدری اسلام آباد کے متحرک اور سینئر صحافی ہیں۔ چینل 24 میں بطور نمائندہ خصوصی کام کرتے ہیں اس سے قبل دنیا نیوز، 92 نیوز، وقت نیوز اور سی این بی سی میں کام کر چکے ہیں۔ بشیر چوہدری سیاست، امور خارجہ، پارلیمنٹ اور سماجی و صحافتی مسائل پر لکھتے ہیں۔ ان کو ٹویٹر پر فالو کرنے کیلئے ان کا ٹویٹر @bashirchaudhry ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے