تحریکِ مجاہدین سے تحریکِ طالبان تک

530517b095f22

ڈاکٹر عرفان شہزاد

رکن مجلسِ ادارت ‘البصیرہ’ نمل اسلام آباد

ڈاکٹر عرفان شہزاد
ڈاکٹر عرفان شہزاد

۔ ۔ ۔

سید احمد شہید کی تحریک جہاد عملی طور پر 1826 سے شروع ہوئی اور 1831 میں آپ کی شہادت پر اختتام پذیرہوئی۔ تاہم غیر منظم طور پر یہ 1857 کے بعد بھی چلتی رہی۔ اس تحریک نے اور بھی بہت سے تحاریکِ جہاد کو شہ دی، جو اسی انجام کو پہنچی جو اس تحریک کو پیش آیا، مثلاً بنگا ل میں تیتو میر کی تحریک، تحریک ریشمی رومال اور صادق پور پٹنہ کا مرکزِ جہاد، جہادِ شاملی وغیرہ۔

دورِ حاضر میں ابو الحسن ندوی، مولانا غلام رسول مہر وغیرہ کی تحقیقات اور تصنیفات نے اس تحریک کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ خصوصاً ابو الحسن ندوی کی سیرتِ سید احمد شہید پڑھ کر ایک عام قاری کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ اگر کوئی دین کی حقیقی خدمت کرنا چاہتا ہے تو یا تو خود کوئی تحریکِ جہاد اٹھا دے اگر اس قابل ہے یا پہلے سے موجود کسی جہادی تنظیم کا حصہ بن کر اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان دے کر سرخرو ہو جائے۔

یہ کتب طالبان جیسی تحریکوں کو مسلسل افرادی قوت مہیا کرنے کا مستقل ذریعہ ہیں۔
سید احمد شہید نے اسلامی خلافت کے اجرا کے لئے جہاد کا آغاز کیا تھا. اس کا ایک ضمنی مقصد پنجاب کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ظلم و ستم سے نجات دلانا اور ہندوستان سے کفر وفساد کا خاتمہ بھی تها. اس کے لئے جو جمعیت سید صاحب نے اکٹھی کی وہ وسائل کی کمی، فوجی اور اخلاقی تربیت کے فقدان، باہمی خلفشار اور ناچاقی کا شکار تهی. محض 800 افراد کی پہلی نفری کے ساتھ ہی آپ نے سکھوں پر پہلا حملہ کیا۔ بعد میں اگرجہ کچھ جمیعت اکٹھا ہوگئی لیکن وہ قلوبھم شتی بینھم کا نمونہ تھے۔ ان کی مکمل دینی تربیت کیے بغیر اور ان کی مکمل وفاداری جانچے بنا ہی آپ نے سکھ حکومت کو للکار دیا بعد میں آپ کی ساری طاقت اندرونی بغاوتوں سے مقابلے میں ہی خرچ ہوگئی۔ اور نتیجہ وہی ہوا جو مخلص مگر سیاسی تربیت سے تہی متصوفانہ جہادی تحریک کا ہوتا ہے.

سید احمد شہید ناکام ہوئے تاہم ان کا جذبہ اورنظریہ بہت دیر زندہ رہا. برطانوی حکومت کے خلاف ان کے مرید 1857 کے بعد بهی برسر پیکار رہے. مگر نتیجہ وہی نکلا جو ان تحریکوں کا مقدر ہے. تاہم ان کے نظریاتی جانشینوں میں سے جمعیت علماء ہند نے ہندوستان میں غلبہ اسلام کے ناممکن ہدف کے اصول کی بجائے معروضی حالات کا درست مطالعہ کرتے ہوئے ہندوستان کے کثیر المذاهب معاشرے میں سیکولرازم کی حمایت کر کے مذهبی آزادی کا معقول مطالبہ کر دیا.

لیکن ان سے کٹ کر جمعیت علماء اسلام سید احمد کے نظرئیے کے زیادہ قریب آ گئے. وہ ایک اسلامی ریاست کے خواہاں تھے ، جس کے حصول کے لیے انھوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ تاہم انهوں نے سیاسی اور جمہوری حکمت عملی اپنائی . انہوں نے پاکستان کی شکل میں اسلامی ریاست کے آئیڈئیل کو پانے کی ایک بار پھر کوشش کی، جو قیامِ پاکستان کے بعد آئینی کامیابیوں سے آگے نہ بڑھ سکی.

صوفی محمد کی تحریکِ نفاذ شریعت اور عصرِ حاضر میں تحریکِ طالبان ، سید احمد کی تحریک سے مولود ہوئیں۔ طالبان نے سید احمد شہید کے آئیڈئیل کو حاصل کرنے کے لئے ان کے نظرئیے کے ساتھ ساتھ حکمت عملی بهی وہی اختیار کر لی جو سید احمد نے کی تهی.یہ نظریہ تاریخ کے چکر کها کر آج پھر اسی جگہ آن کھڑا ہوا ہے۔

اس کی وجہ واضح ہے. اگر آپ سید احمد کے نظریے اور حکمت عملی کی تعریف و تحسین کرتے رہیں گے تو یہ ہمیشہ زندہ رہے گا. بلند ہمت افراد اسے زندہ کرنے کے لئے اٹھتے رہیں گے اور زمانے کی سطح پر چند لمحوں کا ارتعاش پیدا کر کے تاریخ کے اوراق کی زینت بنتے رہیں گے۔ ان کی کہانیاں تسکین ذوق کا سامان کرنے کے علاوہ اور کوئی مفید کام سرانجام نہیں دیتیں۔ سید احمد شہید کے اخلاص اور للھیت پر شک کی کوئی گنجائش نہیں لیکن نظریاتی اور عملی خامیوں سے صرفِ نظر کرنے سے بجائے اصلاح کے مزید خرابیاں مسلسل جنم لے رہی ہیں۔

سید احمد شہید کی تحریک دو نکات پر مشتمل تهی. قیام خلافت اور اس کے لئے نجی جہاد. تاہم ان دونوں کے وجوب کا کوئی ثبوت اسلام میں نہیں. قرآن نے مسلمانوں کے ذمے فقط یہ لگایا ہے کہ اگر انہیں کہیں حکومت حاصل ہو جائے تو اسلامی شریعت کا نفاذ ان کے لیے خدائی مطالبہ ہے نہ کہ قیام حکومت بذات خود کوئی خدائی مطالبہ ہے.

اسلامی خلافت کا قیام دین کا کوئی ایسا واجب تقاضا نہیں کہ اس کی خاطر مہمیں چلائیں جائیں اور قیمتی جانیں قربان کی جائیں. بات صرف اتنی ہے کہ اگر مسلمانوں کی اکثریت کو کسی جگہ پرامن طریقے سے حکومت حاصل ہوجائے تو مسلمانوں پر اسلامی شریعت نافذ کردی جائے. اس بات کو سادہ لفظوں میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آپ صاحب مال ہو جائیں تو ادائیگی زکات دینی مطالبہ ہے لیکن ادائیگی زکات کے لئے کسب مال دینی مطالبہ نہیں۔

مگر انہی باتوں کو واجب قرار دے کر جو تحریک برپا کی گئی تھی وہ آج بھی زندہ ہے۔ یہاں آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ آگر آپ پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار دیتے ہیں تو اس دوسرے فریق (طالبان) کو غلط نہیں کہہ سکتے. اگر دوسرا غلط ہے تو پہلے کی تغلیط کی ہمت بهی لامحالہ کرنی ہوگی. ہمیں اس دوغلے پن سے براءت کا اعلان کرنا ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے