شام میں مسیحیت کے وجود کو خطرہ

داعش  عیسائی اغوا

شام میں مسیحیوں کو بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جمعرات کی کو دولتِ اسلامیہ نے شامی حکومت کی حامی افواج سے ایک گاؤں پر قبضہ کرنے کے بعد درجنوں عیسائیوں کو اِغوا کر لیا ہے۔بہت سے عیسائی حلب میں جنگ سے بچنے کی خاطر القریاتین کی جانب بھاگ گئے تھے۔مقامی عیسائیوں کو اس وقت گھیرے میں لے لیا گیا جب داعش جنگجو القریاتین سے ہوتے ہوئے حُمس صوبے میں داخل ہوئے۔

دولتِ اسلامیہ نے اس سے قبل عیسائی آبادی سے کہا تھا کہ وہ مذہب تبدیل کریں، جزیہ ادا کریں یا پھر موت کا سامنا کریں۔ایک برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نےقریاتین کے 230 عیسائیوں کو یرغمال بنایا ہے۔ایس او ایچ آر کے مطابق ان افراد میں سے بہت سے ایسے ہی جنھیں چرچ کے اندر سے پکڑا گیا۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ ان لوگوں کو پکڑ رہی تھی جن پر شامی حکومت کے ساتھ تعاون کا الزام ہے۔سویڈن کی آشوریہ فیڈریشن کے ممبران کے کچھ عزیزو اقارب اسی قصبے میں موجود ہیں۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے 100 خًاندانوں کو یرغمال بنایا ہے۔ تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ اس قصبے کے مکینوں سے ان کا رابطہ نہیں ہو سکا۔

دولتِ اسلامیہ مصر کے 21 قبطی عیسائیوں اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے 30 عیسائیوں کے قتل کی ویڈیوز سمیت متعدد ویڈیوز جاری کر چکی ہے۔ادھر ایس او ایچ آر کے مطابق یرغمال بنائے جانے والوں میں کم ازکم 60 عیسائی شامل ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں بھی دولتِ اسلامیہ نے شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ کے دیہات میں درجنوں آشوری عیسائیوں کو یرغمال بنایا تھا۔ایک مقامی عیسائی ملیشیا کا خیال ہے کہ یرغمالیوں کو پہاڑوں پر لے جایا گیا ہے تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ ان کے ساتھ دراصل کیا سلوک کیا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے