ایک پاگل نے انڈیا کو پوری دنیا میں بے نقاب کر دیا

933228-USMANKHAN-1438847026-653-640x480

رابعہ کنول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

-aRMzvjb_400x400

بھارت نے 5اگست کو ایک نوجوان کو گرفتار کرکے اس پر الزام لگایا کہ اس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قافلے پر حملہ کیا اوراس حملے میں اس کے ساتھ ایک اور خطرناک دہشت گرد بھی تھا،جو مقابلے میں ماراگیا، بھارتی میڈیا میں اس مبینہ دہشت گرد سے متعلق کئی متضاد اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں ۔
آئیے ذرا ان تضاد بیانیوں پہ ایک نگاہ ڈالتے ہیں

TOI

ٹائمز آف انڈیاکے ٹوئٹ کے مطابق 16 سالہ قاسم خان 30 جولائی کو بھارت ” یعنی مقبوضہ کشمیر” میں اپنے ساتھی سمیت گھسا اور پلاننگ کرکےفوجیوں پرحملہ کیا-

2222

اور اب ذرا آجائیں ویب سائیٹ پر جہاں تین روز قبل تک عثمان خان کے نام سے 20 سال عمر بتائی گئی،اور اب تبدیل کرکے نوید 22 سال کردیاگیا ہے، لیکن بدقسمتی سے شائع کی گئی تصویر میں تصحیح کرنا بھول گئے۔

3

تین روز بعد این ڈی ٹی وی جو عثمان خان کے نام کی مالا جنپ رہا تھا ، اب نوید نام ظاہر کررہا ہے، ہندوستان ٹائمز اور سی این آئی بی این بھی گھوم گھوما کے اسی نام پہ آگئے ہیں، تاہم ٹائمز ناو ابھی عثمان خان کا نام ہی لے رہا ہے۔

گو کہ ان میں سےکسی کو بھی مبینہ دہشت گرد کے نام اور عمر پر اتفاق نہیں ،لیکن یاالعجب سب ایک ہی بات پہ بضد ہیں کہ اس لڑکے کا تعلق پاکستان کے شہر فیصل آباد سے ہے-

جب کہ ادھم پور کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ ان کو یہ تو نہیں معلوم کہ یہ لڑکاکون ہے لیکن یہ تین دن کا بھوکا کھانے کو مانگ رہا تھا اور اس کے پاس کوئی ہتھیار بھی نہیں تھا۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انڈین میڈیا کہہ رہا ہے کہ  سرحد پار سے آئے مبینہ خطرناک دہشتگرد کو رسی سے باندھ کر بکری کی طرح کھینچا جارہا تھا
ان سب دعووں سے قبل 2 اگست کو چندا بی بی کے نام سے ایک خاتون کو بھی منظر عام پر لایاگیاتھا، اور کہاگیا کہ چندابی بی پاکستانی ہیں,کشمیر سے لاہور اور پھر امرتسر پہنچی ہیں ، سلمان اور شاہ رخ سے ملنے کی خواہش مند ہیں لیکن ان کے پاس کوئی سفری دستاویز یا کاغذات موجود نہیں,
جبکہ دیکھا جائے تو چندا بی بی کا تو لب و لہجہ اور الفاظ کا اسلوب ہی پاکستان سے نہیں ملتا۔
ابھی چندا بی بی کے معاملے پہ اٹھنے والے سوالات کے جواب باقی ہیں کہ ایک اور شخص کو دہشت گرد قرار دے کر اس کا تعلق بھی پاکستان سے جوڑا جارہا ہے۔

 صحافی نبی بیگ یونس جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے ،انہوں نے اس واقعہ پر لکھا ہے کہ

ادھمپور میں بھارتی فوجی کانوائے پر حملہ کرنے والا نوجوان نوید عرف عثمان مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام کے گاوں گھاٹ کا رہنے والا ہے، گھاٹ قصبہ کھڈونی کے نزدیک ایک گاوں ہے۔ اور یہ گاوں سرینگر جموں قومی شاہراہ سے صرف دو تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ نوید کو گرفتار کئے جانے کے بعد اسے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیا گیا، یہ ایجنسی نوید کے آبائی گاوں گھاٹ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے چھاپے مار رہی ہے اور اس دوران نوید کے دوستوں سمیت کم سے کم پندرہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ نوید کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں ہے۔ مسلسل چھاپوں کی وجہ سے علاقے میں خوف وہراس ہے۔ میں نے نوید کے گاوں فون کر کے خود لوگوں سے انفارمیشن حاصل کر لی۔ میرے ذرائع کے مطابق لڑکے کا اصل نام نوید نہیں بلکہ مظفر احمد اہانگر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے