نیلم جہلم ہائیڈروپاورپروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات تباہ کن ہوں گے: ماہرین

واپڈا کا نیلم جہلم پراجیکٹ کے حوالے سے ماحولیاتی سفارشات پر عمل نہ کرنے کے باعث مظفرآباد میں پانی کے شدید بحران کے ساتھ شہر کا درجہ حرارت ایک ڈگری تک بڑھے گا۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیمز کی تعمیر شروع کر رکھی ہے جس سے پانی کی مقدار پہلے ہی کم ہے اب دریا کا رخ موڑنے سے چشموں اور بورنگ کے پانی کی سطح (واٹر لیول) میں 150 سے دو سوفٹ کمی واقع ہو گی،سیوریج کا نظام مکمل تباہ ہو جائے گا اور مظفر آباد شہر گندگی کا ڈھیر بن جائے گا۔

اس پراجیکٹ سے بجلی کی متوقع (969 میگا واٹ) پیداوار حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو مظفر آباد میں ایک بوند پانی کی نہیں رہے گی اور اگلے دس سے پندرہ سال میں مظفر آباد کے عوام ہجرت پر مجبور ہو جائیں گے۔جبکہ سفارتی پیچیدگیوں کے باعث وفاق اور آزاد حکومت میں ابھی تک کوئی معائدہ نہ ہونے کے باعث ماحولیاتی تحفظ کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہ کئے جا سکے۔

سفارتی پیچیدگیوں کے باعث وفاق اور آزاد حکومت میں ابھی تک کوئی معائدہ نہ ہونے کے باعث ماحولیاتی تحفظ کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہ کئے جا سکے

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ نیلم کو خشک ہونے اور مظفرآباد شہر کو بچانے کیلئے اونچائی کے باوجود واٹر ریورس پلانٹ یا واٹر پمپس کے ذریعے پانی کو استعمال کے بعد واپس دریائے نیلم میں لانا چاہئیے۔ اپوزیشن کا حکومت سے معائدہ کرنے پر شدید دباؤ ہے جبکہ واپڈا کا کہنا ہے کہ دریا کا پانی مکمل طور پر بند کیا جائے گا نہ ہی مظفرآباد شہر میں پانی کی قلت کا سامنا ہوگا۔

نیلم جہلم پراجیکٹ کو شروع کرنے سے قبل واپڈا نے آزاد حکومت کی ایجنسی برائے ماحولیاتی تحفظ (AJK EPA) سے ماحولیاتی اجازت لینے کیلئے 28 مارچ 2009 کو EPA سے تحریری اجازت نامہ مانگا تھا جس پر طویل بحث مباحثہ کے بعد 2011 میں EPA نے واپڈا کو نیشنل انوائرمینٹل کوالٹی اسٹینڈرڈ (NEQSS ) پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر مشروط اجازت دی تھی۔

شرائط کے مطابق موسم سرما میں نیلم میں نوسیری کے مقام سے 15کیومک (450 کیوبک)پانی چھوڑا جائے گا۔(کیوسک پانی کے بہاؤ کا یونٹ ہے جبکہ کیومک ٹھہرے ہوئے پانی کے یونٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،ایک کیومک میں تقریبا 30 کیوبک پانی ہوتا ہے)۔ پانی کی مقدار کی پیمائش کیلئے واپڈا مظفرآباد میں جدید پیمائشی سنٹر قائم کرے گا ۔اس کے ساتھ مظفر آباد بلدیہ حدود کے اندر 16 مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کئے جائیں گے اور ماکڑی واٹر پلانٹ سے پانی کی فراہمی اور مقامی آبادی کو پانی کی فراہمی کو میں تعطل نہیں آئے گا ۔

رپورٹ میں عملی اقدامات کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا جس میں کچھ تعمیر سے پہلے (Pre Constraction ) ، کچھ تعمیر کے دوران(During Construction) اور کچھ منصوبہ ختم ہونے کے بعد (Post Construction)کرنے تھے۔ تاہم تعمیر سے قبل اور دوران تعمیر ان سفارشات پر کوئی عمل نہ کیا گیا ۔

صحت و صفائی کے اقدامات ، پانی کی فراہمی اور تعمیر و حفاظتی اقدامات کیلئے واپڈانے خطیر رقم آزاد حکومت کو دینی تھی

عوام اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں صحت و صفائی کے اقدامات ، پانی کی فراہمی اور تعمیر و حفاظتی اقدامات کیلئے واپڈانے خطیر رقم آزاد حکومت کو دینی تھی اگر اس بنیاد پر یہ سوال اٹھایا جائے کہ سفارشات پر عمل درآمد کئے بغیر یہ منصوبہ کیوں مکمل کیا گیا تو یہ عوام کا حق ہو گا۔

اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات پر بات کرتے ہوئے ماحولیاتی و زمینی ماہر ڈاکٹر عمر عزیز کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گلیشیرز کے جمود کی وجہ سے پانی پہلے ہی کم ہے۔ نیلم جہلم سے منصوبے سے اگر 969 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی تو اس کے ماحولیات پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔اس کے ماحولیاتی اثرات میں سیوریج ، میرین لائف اور سماجی اقتصادی اثرات پر بات ہونی چاہئیے تھی جو کسی نے نہیں کی۔ دریائے نیلم سے اگر پانی کم ہو گا تو ٹراؤٹ مر جائے گی اور پاکستان میں ٹراؤٹ صرف دریائے سوات اور دریائے نیلم میں ہی پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر عمر عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت اور واپڈا کی جانب سے یہ کہنا کہ دریا کے موڑنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا تو یہ سراسر غلط ہے۔ دریا کا رخ موڑنے سے مظفرآباد شہر کا ٹمپریچر ایک ڈگری بڑھے گا ۔پلانٹیشن کے حوالے سے جو آکسیجن اور دیگر گیسز ماحول کو صاف کرتی ہیں وہ اب نہیں رہیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ دریائے نیلم مظفر آباد شہر کو ڈرین کرتا ہے اس کے موڑے جانے سے بورنگ اور چشموں کے پانی پر بھی فرق پڑے گا ان میں پانی کی سطح 150 سے 200 فٹ تک کم ہو جائے گی انہوں نے سوال اٹھایا کہ تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟

دریا کا رخ موڑنے سے سب سے بڑا اثر مظفر آباد شہر کی واٹر سپلائی پر پڑے گا اس سے ماکڑی فلٹریشن پلانٹ کا پانی پہلے سے نصف سے بھی کم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ وفاق اور آزاد حکومت کو یہ منصوبہ بغیر نفع نقصان کی بنیاد پر شروع کرتی تو یہ علاقے کیلئے بہتر ہوتا اور اگر ریورس ٹینک سے پانی واپس نیلم میں نہ پھینکا گیا تو یہ مظفرآباد شہر کو ختم کر دے گا۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ پانی کا راستہ تبدیل کرنے کے بجائے ضرورت کے بعد کا پانی واپس دریائے نیلم میں لانے کیلئے سیکشن ٹینکس کا استعمال کیا جانا چاہیےکیونکہ ٹربائن کیلئے استعمال ہونے والا پانی بیس فیصد ہی ہے اور استعمال کے بعد آگے چلانے کے بجائے اگر واپس نیلم میں پہنچایا جائے تو مسئلہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اس کیلئے سائنٹیفک اپروچ کو بروئے کار لایا جائے تو ایسا ممکن ہے ۔

نیلم جہلم سے منصوبے سے اگر 969 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی تو اس کے ماحولیات پر شدید اثرات مرتب ہوں گے

ماہر ماحولیات ڈاکٹر خالد کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ مظفر آباد شہر میں انسانی زندگی متاثر ہوئے بغیر منصوبہ پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو گا۔ انہوں نے نیلم جہلم پراجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے EPA کی رپورٹ اور شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں فیصلہ ہوا تھا کہ روز کی بنیاد پر کتنا فلو(پانی)دینا ہو گا اس کی مانیٹرنگ ہو گی لیکن ابھی تک ہم ہندوستان کے ساتھ مانیٹرنگ نہ کر سکے تو یہاں کیا کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق صحت و صفائی کیلئے واپڈا نے آزاد حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات کرنے تھے جو نہ کئے جا سکے۔

ممتاز ماہر ارضیات ڈاکٹر رستم کا کہنا ہے کہ دریائے نیلم کا رخ موڑنے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ پانی تو آگے سے واپس دریائے نیلم میں آ جائے گا ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو پانی تاؤ بٹ سے پہلے ہندوستان روک کر ڈیم بنا رہا ہے وہ ان دریاؤں کو خشک کر دے گا۔ اگریونہی دریاؤں کا پانی بند ہوتا رہا تو عنقریب مظفر آباد کے عوام کو ہجرت کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب نیلم جہلم ہائیڈور پاور پراجیکٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دریا کا پانی مکمل طور پر کسی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔ آزاد کشمیر حکومت سے معاہدہ کے تحت کم از کم 530کیوسک (15کیومکس )پانی دریا میں موجود رکھا جائے گا جب کہ گرمیوں کے موسم میں دریا کا بہاو تقریبا معمول کے مطابق ہوگا۔ دریا میں پانی کی کمی سے واٹر سپلائی سکیمیں خصوصا ماکڑی واٹر سپلائی سکیم فوری طور پر متاثر ہوگی نہ ہی مظفرآباد شہر میں پانی کی قلت کا سامنا ہوگا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ واپڈا نیلم جہلم ہائیڈروپاور کمپنی نے 500ملین روپے پہلے ہی ماکڑی واٹر سپلائی سکیم کی ممکنہ اثرات کی بحالی کے لیے 2012سے مختص کیئے ہوئے ہیں اور حکومت آزاد کشمیر کے متعلقہ محکمہ نے اس منصوبے پر کام کرنا ہے تاکہ اس سے متعلقہ خدشے کا ازالہ کیا جاسکے .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے