اسلام دشمنی کا مقابلہ علم اور حلم سے کرو۔ امام کعبہ کا خطبہ حج

hajj imam e kaaba

عرفات: سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے کہا ہے کہ مسلم ریاستوں پر حملہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، امت مسلمہ اختلافات بھلا کر ایک ہوجائے، تفرقہ کی وجہ سے غیر مسلم غالب ہیں۔

مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ "یمن مں ایک گروہ گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، گمراہ لوگوں نے مساجدوں کو بھی نہیں چھوڑا اور دین سے گمراہ یہ لوگ اسلام کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر دارالحکومت پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی جانب سے کارروائیوں کا آغاز کیا گیا.

شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے مزید کہا کہ آج کے زمانے میں فتنہ پھیل چکا ہے اور داعش اسلام کے نام پر امت مسلمہ کو تباہ کرنے کی سازش کر رہی ہے.

ان کا مزید کہنا تھا کہ "اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کا ظلم حرام قرار دیا ہے”.

خیال رہے کہ داعش نامی شدت پسند تنظیم نے شام اور عراق کے بڑے رقبے پر قبضہ کرکے الدولۃ الاسلامیہ کے نام سے خود ساختہ ریاست قائم کررکھی ہے
جبکہ انھوں نے ابوبکر البغدادی کو اپنا خلفیہ مقرر کیا ہے.

فلسطین کے حوالے سے خطبہ حج میں شیخ عبدالعزیز آل شیخ کا کہنا تھا کہ یہودیوں نے انسانیت کو پامال کررکھا ہے اور مسجد اقصیٰ مسلمانوں کو پکار رہی ہے۔

سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ اسلام کے دشمن مسلمانوں کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور گمراہ جماعتیں انسان کو پستی میں دھکیلنا چاہتی ہیں.

شیخ عبدالعزیز نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ فساد پیدا کرنے والے گروہوں سے دور رہیں،اسلام کسی بے گناہ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا،لہذا غیر مسلموں کو بھی قتل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

انھوں نے دعا کی کہ جو مسلمان حالت جنگ میں ہیں، ان کے علاقوں میں اللہ امن قائم کر دے۔

شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے خطبہ حج کے دوران مسلمانوں کو اسلام کے داخلی اور خارجی دشمنوں سے باخبر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان مخالف اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

علم کے حصول پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علم حاصل کر کے ہی اسلام دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے اور تمام مسلمان نظام تعلیم بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

مسلم حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے کہا کہ مسلم حکمران اپنی رعایا کا خیال کریں اور کوشش کریں کہ مسلمانوں کے درمیان محبت قائم رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل زندگی آخرت کی ہی ہے، دنیاوی حیات عارضی ہے، قرآن اور حدیث کے مطابق زندگی گزارنا ہر مسلمان پر لازم ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک صحیح دین اسلام ہی ہے۔

خیال رہے کہ 1941 میں پیدا ہونے والے سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیزبن عبداللہ آل شیخ کا یہ مسلسل 35 واں خطبہ حج تھا، انہوں نے 1981ء (1402ہجری) میں پہلی بار خطبہ حج دیا تھا جبکہ وہ 1999ء سے سعودی عرب کے مفتی اعظم ہیں۔

خطبہ حج کے بعد حجاج نے نماز ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کی۔

عرفات میں دن بھر قیام اور سورج غروب ہونے کے بعد حجاج کرام کی اگلی منزل مزدلفہ ہوگی جہاں وہ مغرب اور عشاءکی نمازیں پڑھیں گے اور رات بھر قیام کریں گے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق رواں برس دنیا بھر سے 20 لاکھ سے زائد افراد حج کے لیے آئے ہیں۔

العربیہ نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق حج کے دوران ایک لاکھ اہلکار سیکیورٹی پر
مامور کیے گئے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے