ایرانی حجاج نے راستہ بدلا جو حادثے کا سبب بنا ۔ ایرانی حج مشن

95c34baa-a20e-4da3-9cec-ff1cb547795b_16x9_600x338

جمعرات کے روز منیٰ کے مقام پر بھگڈر میں 717 حجاج کی شہادت اور 800 کے زخمی ہونے سے متعلق واقعہ کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی اثنا میں ایرانی حج مشن کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کثیر الاشاعت عرب روزنامہ ‘الشرق الاوسط’ نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ "تقریبا تین سو ایران حجاج نے اسمبلی پوائنٹ سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے ان حاجیوں نے جمرات سے الٹنے پاؤں واپسی کی کوشش کی جس منیٰ کی 204 نمبر شاہراہ میں حادثے کا باعث بنا۔”

اس بھیڑ میں ہدایات پر عمل نہ کرنے حادثے کا سبب ہی بن سکتا ہے
اس بھیڑ میں ہدایات پر عمل نہ کرنے حادثے کا سبب ہی بن سکتا ہے

‘الشرق الاوسط’ سے بات کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایرانی حجاج کا گروپ جمعرات کی صبح مزدلفہ سے براہ راست شیطان کو کنکریاں مارنے کو روانہ ہوا۔ اس گروپ نے اپنے لئے مخصوص خیموں میں سامان وغیرہ رکھ کر مخصوص اسمبلی پوائنٹ پر انتظار نہیں کیا۔ یہ حجاج شاہراہ 204 پر مخالف سمت کی طرف چل پڑے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ان حاجیوں نے رمی ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا جو کہ معمول کی ہدایات کی روشنی میں کیا جاتا ہے اور اس کے برعکس الٹنے پاؤں واپسی کر دی۔ واپسی کا یہ وقت دوسرے حج مشن کے لئے رمی جمرات کے نکلنے کے لئے مخصوص تھا، جس کی وجہ سے بشری تصادم ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ گروپ کچھ دیر رکا مگر دوسری سمت کو نہیں نکلا جس کی وجہ سے حجاج کا دباؤ بڑھنے پر متعدد افراد صرف 20 میٹر چوڑے راستے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ انہی ذرائع نے بتایا کہ جو کچھ ہوا وہ رش یا بھگڈر کے زمرے میں نہیں اتا بلکہ الٹنے پاؤں چلنا کہلاتا ہے، جس کے یقیناً انتہائی منفی اثرات نکلے۔

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے ناظم دفتر محمد ہاشمی
ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے ناظم دفتر محمد ہاشمی

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے ناظم دفتر محمد ہاشمی نے سعودی عرب میں منیٰ کے مقام پر ہونے والی بھگدڑ میں بڑے پیمانے پر حاجیوں کی شہادت کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اس معاملے پر سعودی حکام کی ملامت سے احتراز کرنا چاہئے اور تحقیقات سے قبل نتائج اخذ کرنے سے باز رہنا چاہئے۔

محمد ہاشمی کا نقطہ نظر ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ سمیت دوسرے متعدد اعلی عہدیداروں سے قطعی مختلف ہے جس میں انہوں نے منیٰ واقعے پر سعودی حکومت کو تنقید بنایا۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور دوسرے ایرانی حکام نے بھی ایسے ہی بیانات دیئے جس کے بعد مبصرین نے کہنا شروع کر دیا کہ تہران سعودی عرب میں پیش آنے والے حادثے پر سیاست چمکا رہا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز منیٰ میں بھگڈر میں سات سو سے زائد حاجی شہید ہوئے جن میں تین سو کا تعلق ایران سے بتایا جاتا ہے۔

محمد ہاشمی رفسنجانی نے ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایسے معاملات میں فیصلے صادر کرنا مشکل امر ہے۔ تہران میں گذشتہ دنوں 8 ملی میٹر بارش کے بعد متعدد افراد ہلاک ہوئے، اس واقعہ کی روشنی میں فیصلے صادر کافی نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے