جرمن چانسلرمیرکل نے درگا کا ہزار سال پرانا مجسمہ بھارت کو لوٹا دیا

درگاہ دیوی مریکل بھارت

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ہندوؤں کی مقدس دیوی درگا کا وہ مجسمہ بھارت کو واپس لوٹا دیا ہے، جو ایک بھارتی مندر سے چرائے جانے کے بعد جرمنی کے ایک میوزیم کو بیچ دیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے پیر پانچ اکتوبر کے روز بتایا کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے دورہ بھارت کے دوران ایک باقاعدہ تقریب میں اس مقدس مذہبی مجمسے کو بھارت کے حوالے کیا۔ دسویں صدی عیسوی کا یہ مجسمہ ہندو عقائد کے مطابق انتہائی مقدس تصور کیا جاتا ہے۔ خارجہ امور کی بھارتی وزارت کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ مجسمہ اچھی حالت میں ہے۔

1

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اس مجسمے کی تازہ تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی درگا دیوی کے پتھر کے بنے اس مجسمے کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھارتی قوم پرست سیاستدان نریندر مودی نے اس مجسمے کی واپسی پر جرمن چانسلر میرکل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس مجسمے کی واپسی دراصل اچھائی کی برائی پر جیت کی علامت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی اور بھارت کی شراکت عالمی سطح پر بھی بھلائی کا سبب بنے گی۔

درگا دیوی کا یہ مجمسہ اصل میں جموں اور کشمیر کی ریاست کے ایک مندر کی ملکیت تھا۔ تاہم یہ 1991ء میں چوری کر لیا گیا تھا۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بعد ازاں 2000ء میں اس مجسمے کو ایک بھارتی نژاد باشندے سبھاش کپور نے جرمن شہر اشٹٹ گارٹ کے ایک معروف میوزیم کو بیچ دیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت اس مجسمے کی قیمت ڈھائی لاکھ ڈالر لگائی گئی تھی۔

تاہم جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ کی حکومت کو جب معلوم ہوا تھا کہ یہ مجسمہ چوری کا ہے تو اس نے اسے واپس لوٹا دیا تھا۔ کسی زمانے میں بھارتی آرٹ کے ایک قابل اعتماد مداح تصور کیے جانے والے سبھاش کپور کو سن 2012 میں فرینکفرٹ میں گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

نیو یارک کے رہنے والے کپور پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے جعلی کاغذات کے ذریعے اس آرٹ کے نمونے کے ملکیتی حقوق حاصل کیے تھے، جو دراصل چوری کا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے