شرمین عبید چنائے : ایک بار پھر آسکر کے لیے نامزد

پاکستان کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فلم میکر شرمین عبید چنائے کی دستاویزی فلم ‘اے گرل ان دی ریور’ کو 88ویں اکیڈمی ایوارڈز میں ‘بہترین مختصر ڈاکومینٹری’ کی کیٹیگری میں آسکر کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔
اس سال بہترین دستاویزی فلموں کی مختلف کیٹیگرییز میں دنیا بھر سے صرف دس فلموں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

شرمین اس سے قبل 2012 میں اپنی ڈاکومینٹری ‘سیونگ فیس ‘ پر آسکر حاصل کرچکی ہیں۔ وہ آسکر حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی ہیں۔

‘اے گرل ان دی ریور’ شرمین عبید چنائے فلم اور ہوم باکس آفس کے اشتراک سے بنائی گئی ہے جس میں پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کئے جانے کی متنازعہ روایت موضوع بنایاگیا ہے۔

ای گرل ان دی ریور: پرائس آف فورگونیس’ جس کے معنی ‘دریا کی لڑکی: معافی کی قیمت’ کے ہیں، ایک 18 سالہ لڑکی کی کہانی ہے جو کسی طرح غیرت کے نام پر قتل ہونے سے بچ گئ ہے۔ پاکستان میں ہر سال 1000 سے ذیادہ لڑکیاں غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر کے قاتل ان کے خاندان کے افراد ہی ہوتے ہیں۔

اس فلم کے بارےمیں شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے کہ ‘اے گرل ان دی ریور میرے اندر کی آواز ہے۔اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ ہم عورتوں کا اپنی زندگی پر کتنا اختیار ہوتا اور کس طرح ہماری زندگیاں دوسروں کے کئے گئے فیصلوں سےمتاثر ہوتی ہیں۔’

فلم میں مشہور صحافی ٹینا براؤن اور شہور ڈاکومینٹری پروڈیوسر شیلا نیونس کی خدمات بھی لی گئی ہیں۔

شرمین عبید چنائے اکیڈمی کے علاوہ ٹیلیویژن کا سب سے بڑا ایوارڈ ایمی بھی حاصل کرچکی ہیں۔ وہ دنیا کے تقریبا 10 ممالک میں کئی ایوارڈ یافتہ فلمیں بناچکی ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں تیزاب سے جلنے والی عورتوں کی کہانی ‘سیونگ فیس’ ، پاکستان کے جواجہ سراؤں پر بنائی گئی فلم ٹرانسجینڈر: پاکستانز اوپن سیکرٹ’ اور ‘پاکستان کی طالبان نسل’ شامل ہیں۔

ان کی فلمیں ایچ بی او، سی این این، پی بی ایس، چینل فور، سی بی سی، آرٹ، سی بی ایس، اور ڈسکوری چینل جیسے غیر ملکی چینلز پر بھی دکھائی جاچکی ہیں۔

2012 میں ٹائمز میگزین نے انہیں دنیا کی 100 با اثر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ 2013 میں کینیڈا کی حکومت نے ان کو ڈاکومینٹری کے میدان میں بہترین کام پر ملکہ ایلزبتھ دوئم کا ڈائمنڈ جوبلی تمغہ بھی دیا تھا۔ جبکہ ورلڈ اکنامک فورم نے ڈیوس میں اپنے سالانہ اجلاس میں کرسٹل ایوارڈسے نوازا تھا۔

ای گرل ان دی ریور امریکہ کے سب سے بڑے کیبل ٹیلیویژن نیٹ ورک ایچ بی او پر 2016 میں دکھائی جائے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے