کوئٹہ کے دلخراش واقعے کے آئینے میں ایک اجتماعی سوال؟
وہ صرف اس لیے نشانہ بنی کہ وہ ایک عورت ہے۔ ایک ایسا وجود جسے اس معاشرے میں اکثر اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے
وہ صرف اس لیے نشانہ بنی کہ وہ ایک عورت ہے۔ ایک ایسا وجود جسے اس معاشرے میں اکثر اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے
ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش کے سنگم پر واقع پاکستان قدرت کے انمول خزانوں سے مالامال ہے۔ K2 سے لے کر موہنجو دڑو تک، بدین
کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا حالیہ تیزاب حملہ محض ایک فرد پر تشدد کا واقعہ نہیں بلکہ ہمارے قانونی نظام، سماجی رویوں
جب میں آج کے سیاسی مباحث کو دیکھتا ہوں تو مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت ایک ادھوری گفتگو میں الجھی ہوئی ہے۔
پاکستان ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں داخلی سلامتی کے حوالے سے حاصل ہونے والی جزوی کامیابیاں نئے
آج کل مارکیٹ میں نیا ٹرینڈ آیا ہے۔ایک دیو قامت گوریلا شادی کی تقریب میں ناچتا ہوا نظر آتا ہے۔ بیک گرائونڈ میوزک چل رہا
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ٹوئٹر
جمہوری معاشروں میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ ایک آزاد اور ذمہ دار صحافت نہ صرف عوام اور حکمرانوں کے
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی آج ہر طبقے کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، بجلی، گیس اور پٹرول کی
ایک موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ یہاں میری آواز کون سنے گا؟ کون لبیک کہے گا؟ لیکن اس سال للہ تعالیٰ
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے