خود شناسی: سب سے آسان سوال، سب سے مشکل جواب

ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا: ‘تم کون ہو؟’ میں نے فوراً جواب دیا . فلاں کا بیٹا، فلاں یونیورسٹی کا طالب علم، فلاں شہر کا رہنے والا۔ لیکن اس نے مسکرا کر کہا: ‘یہ تو لیبل ہیں . تم کون ہو؟’ اس ایک سوال نے مجھے گھنٹوں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اور تب احساس ہوا کہ جو سوال سب سے آسان لگتا ہے، وہ دراصل سب سے مشکل ہے۔

ہم اپنے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں وہ اکثر ہم نے خود نہیں بنائی . دوسروں نے بنائی ہے۔ بچپن میں استاد نے کہا ‘یہ ذہین نہیں’ . اور وہ جملہ ہمیشہ کے لیے اندر اتر گیا۔ کسی نے کہا ‘تم سے نہیں ہوگا’ اور ہم نے کوشش ہی چھوڑ دی۔ ہم اپنے آپ کو دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے کے اتنے عادی ہو گئے کہ اپنی نظر ہی کھو بیٹھے۔

نفسیات میں اسے ‘external validation’ کہتے ہیں . اپنی اہمیت کا اندازہ دوسروں کی تعریف یا تنقید سے لگانا۔ جب کوئی تعریف کرے تو آسمان پر، جب تنقید کرے تو زمین پر۔ اس طرح ہم اپنی خوشی اور غم کا کنٹرول دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس کمزوری کو اور گہرا کر دیا . لائیکس اور کمنٹس وہ ترازو بن گئے جس پر لوگ اپنی قدر ناپتے ہیں۔

خود کو پہچاننا اس لیے مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے تنہا بیٹھنا پڑتا ہے . اپنے آپ سے بالکل اکیلے۔ اور آج کا انسان تنہائی سے ڈرتا ہے۔ ہم مسلسل شور میں رہنا چاہتے ہیں . موسیقی، ویڈیوز، گفتگو — کیونکہ جب یہ سب بند ہو تو اپنے اندر کی آواز سنائی دیتی ہے، اور وہ آواز ان سوالات کے جواب مانگتی ہے جن سے ہم برسوں سے بھاگ رہے ہیں۔

خود شناسی کا سفر ایک سوال سے شروع ہوتا ہے: کیا میں وہ زندگی گزار رہا ہوں جو میں چاہتا ہوں، یا وہ جو دوسرے چاہتے ہیں؟ اپنی خامیاں، خوف، خواہشات اور خوبیاں دیکھنے کی جرأت چاہیے۔ جو انسان اپنے اندر کی آواز سنتا ہے وہ نہ صرف زیادہ خوش ہوتا ہے بلکہ زیادہ مکمل بھی۔ یاد رکھیں . دوسرے تو آتے جاتے رہتے ہیں، آپ ہمیشہ اپنے ساتھ ہیں۔ تو اپنے سب سے اچھے دوست کیوں نہ بنیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے