پاکستانی سوشل میڈیا، انفلوئنسرز اور الگورتھم کا کھیل

ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہی سوشل میڈیا پوری دنیا کی سوچ، رائے اور ترجیحات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں انٹرنیٹ کو علم، ریسرچ، کاروبار، تعلیم اور مثبت کریئیٹوٹی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہاں کے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز نئی چیزیں سکھاتے ہیں، معیاری ڈاکومنٹریز بناتے ہیں، ٹیکنالوجی، سائنس، فنانس اور سوشل ایشوز پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے پوڈکاسٹس میں سنجیدہ سوالات ہوتے ہیں، نوجوانوں کو موٹیویٹ کیا جاتا ہے اور معاشرے کو آگے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر ہم عالمی سطح پر دیکھیں تو وہاں کا الگورتھم بھی ایسے کانٹینٹ کو سپورٹ کرتا ہے جو لوگوں کو فائدہ دے، جس سے ناظرین کچھ سیکھ سکیں یا اپنی زندگی میں بہتری لا سکیں۔ اسی لیے وہاں MrBeast جیسے کریئیٹرز اربوں ویوز حاصل کرتے ہیں۔ وہ تفریح بھی دیتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انسانیت، چیریٹی، محنت اور کریئیٹوٹی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

مگر پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔

یہاں سوشل میڈیا کا الگورتھم زیادہ تر تنازعات، لڑائیوں، ذاتی زندگیوں، فیملی ڈراموں اور سنسنی خیز مواد کو اوپر لے آتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر دوسرا یوٹیوبر یا انفلوئنسر اب کسی نہ کسی تنازع کا حصہ بنتا نظر آتا ہے۔ کوئی مذہب کو استعمال کر رہا ہے، کوئی خاندان کو، کوئی اپنی نجی زندگی کو اور کوئی دوسروں کی عزت اچھال کر ویوز حاصل کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ بعض پڑھے لکھے اور سینئر صحافی بھی اپنے پوڈکاسٹس میں ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن کا صحافت سے کم اور صرف ویوز سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف کریئیٹرز نہیں، بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ہے۔

ہم بطور ناظر کیا دیکھنا پسند کرتے ہیں؟

کیا ہم تعلیم، ڈاکومنٹریز، ٹیکنالوجی، ٹریول یا معلوماتی کانٹینٹ کو سپورٹ کرتے ہیں؟

یا پھر ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کس کے گھر میں کیا ہو رہا ہے، کس کا رشتہ خراب ہوا، کس کی لڑائی ہوئی اور کس نے کس پر الزام لگایا؟

اگر ہم پاکستانی سوشل میڈیا کی حالیہ مثالیں دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ تنازع ہمیشہ ویوز دیتا ہے۔ کئی انفلوئنسرز نے اپنی ذاتی زندگیوں کو مکمل طور پر کانٹینٹ بنا دیا ہے۔

کبھی مذہبی ہمدردی، کبھی فیملی ڈرامہ، کبھی شادی اور کبھی طلاق — ہر چیز ویوز اور ریچ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ کیونکہ الگورتھم وہی دکھاتا ہے جس پر لوگ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

دوسری طرف ایسے کریئیٹرز بھی موجود ہیں جو واقعی اچھا کام کر رہے ہیں۔

مثلاً ٹریول وی لاگرز، ڈاکومنٹری میکرز، ٹیک کریئیٹرز اور وہ لوگ جو پاکستان کا مثبت رخ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

WildLens by Abrar اس کی ایک مثال ہے۔ ان کی ویڈیوز پاکستان کی خوبصورتی، ثقافت اور دنیا بھر کے سفر کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان کی ویورشپ کا بڑا حصہ پاکستان سے باہر موجود ناظرین پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچھا کانٹینٹ موجود نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اپنا معاشرہ اسے وہ سپورٹ نہیں دیتا جو ملنی چاہیے۔

اسی طرح Irfan Junejo، Mooroo اور Ukhano جیسے کریئیٹرز ایک وقت میں پاکستان میں معیاری وی لاگنگ کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ ان کی ویڈیوز میں محنت، کہانی، سینیمیٹوگرافی اور کریئیٹوٹی نظر آتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ جب پاکستانی یوٹیوب پر فیملی ڈرامہ اور تنازعہ زیادہ چلنے لگا تو ایسے کریئیٹرز کی اپلوڈنگ بھی کم ہوتی گئی۔ کیونکہ الگورتھم وہی پسند کرتا ہے جسے عوام زیادہ دیکھیں۔

یہاں ایک سوال بہت اہم ہے:

کیا پاکستان میں اچھے کریئیٹرز نہیں ہیں؟
یا پھر ہم اچھا کانٹینٹ دیکھنا ہی نہیں چاہتے؟
حقیقت شاید دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ یہاں ایسے نوجوان موجود ہیں جو عالمی معیار کا کانٹینٹ بنا سکتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا کلچر میں سنجیدہ اور معیاری مواد کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شخص تعلیم، تحقیق یا مثبت موضوعات پر بات کرے تو لوگ چند منٹ بعد اسکرول کر دیتے ہیں، مگر اگر کوئی تنازع ہو تو وہی ویڈیو گھنٹوں دیکھی جاتی ہے۔

الگورتھم دراصل آئینہ ہوتا ہے۔
وہی چیز اوپر آتی ہے جسے عوام زیادہ دیکھتے ہیں۔

اگر کل سے پاکستانی عوام معیاری ڈاکومنٹریز، ٹیکنالوجی، پوڈکاسٹس، ٹریول وی لاگز اور تعلیمی مواد دیکھنا شروع کر دیں تو یقین مانیں، الگورتھم بھی بدل جائے گا۔ کیونکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کا مقصد صرف ایک ہے: لوگوں کو زیادہ دیر تک اپنی اسکرین کے سامنے رکھنا۔

اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ الگورتھم خراب ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہماری اجتماعی ترجیحات کیا ہیں؟
جب تک ہم خود سنسنی، تنازع اور دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں دلچسپی لیتے رہیں گے، تب تک یہی مواد ہمیں دکھایا جاتا رہے گا۔ مگر جس دن پاکستانی ناظرین نے معیاری اور مثبت کانٹینٹ کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا، اسی دن پاکستان کا ڈیجیٹل کلچر بھی بدلنا شروع ہو جائے گا۔

کیونکہ الگورتھم سے پہلے معاشرہ بدلتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے