الگورتھم کی حکمرانی

آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ہم جس چیز کو اپنی مرضی سمجھتے ہیں، وہ اکثر ہماری اپنی مرضی نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں، جو پسند کرتے ہیں، اور جس پر وقت گزارتے ہیں، اس کے پیچھے ایک خاموش طاقت کام کر رہی ہوتی ہے جسے ہم “الگورتھم” کہتے ہیں۔ یہ الگورتھم ہماری دلچسپیوں کو پڑھتا ہے، ہمارے رویّوں کو سمجھتا ہے اور پھر اسی کے مطابق ہمیں مواد دکھاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اپنی مرضی سے دیکھ رہے ہیں یا ہمیں دکھایا جا رہا ہے؟

اگر ہم کسی ایک تصویر کو پسند کر لیں، کسی ایک ویڈیو کو دیکھ لیں یا کسی مخصوص موضوع میں دلچسپی دکھا دیں، تو چند ہی لمحوں میں ہماری پوری فیڈ اسی طرح کے مواد سے بھر جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا ہماری سوچ کو سمجھ کر ہمیں “ہماری ہی دنیا” دکھا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ دنیا پہلے سے ہمارے لیے ترتیب دی جا چکی ہوتی ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں “فلٹر ببل” اور “ایکو چیمبر” جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جہاں ہم صرف وہی دیکھتے ہیں جو ہمارے پہلے سے موجود خیالات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

یہ اثر صرف معلومات تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے فیصلوں تک پھیل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر خریداری کا رجحان ہی دیکھ لیجیے۔ اگر ہم نے کسی کپڑے یا جوتے کو ایک بار دیکھ لیا یا پسند کر لیا تو وہی چیز ہمیں مختلف پلیٹ فارمز پر بار بار دکھائی دینے لگتی ہے۔ رفتہ رفتہ یہ بار بار سامنے آنے والا مواد ہمارے ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ شاید ہمیں واقعی وہ چیز خریدنی چاہیے۔ یوں لگتا ہے جیسے انتخاب ہمارا ہے، مگر دراصل سمت پہلے ہی طے کی جا چکی ہوتی ہے۔

الگورتھم کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ یہ ہمیں ہماری دلچسپی کی چیزیں آسانی سے فراہم کرتا ہے، وقت بچاتا ہے اور معلومات تک رسائی کو تیز کرتا ہے۔ مگر اس کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ یہ ہمیں ایک محدود دائرے میں قید کر دیتا ہے جہاں ہم نئی اور مختلف سوچوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم ایک چھوٹے سے ڈیجیٹل ببل میں رہنے لگتے ہیں جہاں صرف وہی کچھ نظر آتا ہے جو پہلے سے ہمارے سامنے ہوتا ہے۔

اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہم غیر محسوس طریقے سے صرف تفریحی اور دلکش مواد کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں، جبکہ معلوماتی، تنقیدی اور مختلف زاویوں پر مبنی مواد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح ہماری سوچ کی وسعت کم ہوتی جاتی ہے اور ہم ایک ہی سمت میں چلنے والی سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں کہ ڈیجیٹل دنیا مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہے۔ ہمیں اپنے استعمال پر شعور رکھنا ہوگا، مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنی ہوں گی اور خود کو ایک محدود فیڈ تک قید نہیں ہونے دینا ہوگا۔

کیونکہ جب سوچ کو الگورتھم کنٹرول کرنے لگے، تو آزادی صرف ایک احساس رہ جاتی ہے . حقیقت نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے