کھانا کبھی کبھی صرف کھانا نہیں ہوتا، بلکہ یادوں اور عادتوں کا ایک مسلسل سفر ہوتا ہے اور شاید آپ نے بھی کبھی ایسا سفر کیا ہو۔اس سفر کو شروع ہوئے تین سال ہو چکے ہیں۔
مجھے اور میری سہیلی کو اسلام آباد کی گلیوں میں کھانے کی تلاش میں نکلتے ہوئے اب ایک عادت سی ہو گئی ہے۔ کوئی بڑا پلان نہیں ہوتا، نہ کوئی لمبی تیاری۔ بس صبح ایک میسج آتا ہے: “چلو آج اسلام آباد” اور ہم نکل پڑتی ہیں جیسے کوئی خاص کام نہیں بلکہ ایک معمول پورا کرنا ہو۔ گرمی ہو، سردی ہو یا بارش، ہمارے لیے موسم بدلتا نہیں کیونکہ کھانے کا موسم ہمیشہ اچھا رہتا ہے۔ یہ سفر اب محض ایک ٹرپ نہیں رہا بلکہ ایک مسلسل عادت بن چکا ہے اور اچھی عادتیں آسانی سے نہیں چھوڑی جاتیں۔
اسلام آباد کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ ایک سرکاری شہر ہے اور یہاں کھانے پینے کے زیادہ آپشنز نہیں ہوں گے۔ لیکن جو لوگ واقعی اس شہر کو دیکھتے اور گھومتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں ذائقوں کی ایک پوری دنیا بستی ہے۔ کبھی دیسی ہنڈی اور نہاری کا مزہ، کبھی چائنیز ڈمپلنگز اور چاؤمین کی تلاش، تو کبھی کراچی بریانی، پشاوری چپلی کباب اور دہلی طرز کے پراٹھوں تک جانا۔ کہیں عربی شوارما مل جاتا ہے، کہیں برگر اور فرائز کی خوشبو رکنے نہیں دیتی، اور کبھی مٹھائی کی دکان کے سامنے رک کر فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ رس ملائی لی جائے یا گلاب جامن۔ یہ سب مختلف دنوں کے چھوٹے چھوٹے تجربات ہیں جو وقت کے ساتھ مل کر ایک مکمل فوڈ جرنی بنا دیتے ہیں۔میری سہیلی اکثر مذاق میں کہتی ہے کہ ہم کھانے نہیں کھاتیں بلکہ “ریسرچ” کرتی ہیں اور ہم اس مذاق کو کافی سنجیدگی سے لے چکی ہیں۔
فوڈ بلاگنگ کی ایک حقیقت بھی ہے جو باہر سے نظر نہیں آتی۔ گرم چاؤمین، فریش برگر، چکن رولز اور باربی کیو کی خوشبو سب سامنے ہوتا ہے مگر ہم پہلے فون نکال کر ویڈیو بنانے میں لگ جاتی ہیں۔ کھانے کا اصل مزہ اکثر ریکارڈنگ کے بعد بچتا ہے اور تب تک کئی دفعہ وہ ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی قربانی ہے جو ہم بار بار دیتی ہیں لیکن حیرت یہ ہے کہ ہم اس پر کبھی واقعی افسوس نہیں کرتیں۔ جب کوئی کمنٹ میں لکھتا ہے کہ ہم نے بھی وہاں جا کر کھایا بہت اچھا تھا تو لگتا ہے جیسے ہماری ٹھنڈی چاؤمین بھی اپنی جگہ کامیاب ہو گئی۔
اسلام آباد کا ایک اور حسن اس کا موسم بھی ہے۔ کبھی ہلکی بارش، کبھی ٹھنڈی ہوا، کبھی مارگلہ کی سبز پہاڑیاں اور کبھی نرم دھوپ یہ سب ہمارے ریسٹورنٹ ٹرپس کو اور بھی خاص بنا دیتے ہیں۔ ایسے موسم میں کبھی چائے کا دل کرتا ہے، کبھی گرم سموسے اور پکوڑوں کی خوشبو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، اور کبھی کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کافی کا کپ لمحے کو مکمل کر دیتا ہے۔ یہ سب مل کر ایک ایسا احساس بناتے
ہیں جہاں کھانا اور موسم دونوں خوشی دیتے ہیں۔ اسلام آباد کی سبز فضا، سکون اور مختلف ثقافتوں کا ملاپ اسے ایک خاص شہر بنا دیتا ہے، جہاں ہر فوڈ ٹرپ ایک نئی یاد چھوڑ جاتا ہے۔