منظم معاشرے کیسے بنتے ہیں؟ جرمنی سے خاص تحریر
ہماری یونیورسٹی کے مین کیمپس میں طلبہ کے لئے ایک کئی منزلہ کیفےٹیریا ہے جو یہاں "مینزا” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور یہ
ہماری یونیورسٹی کے مین کیمپس میں طلبہ کے لئے ایک کئی منزلہ کیفےٹیریا ہے جو یہاں "مینزا” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور یہ
پانامہ لیکس کے حوالے سے اس وقت ملک میں ایک انتہائی کشیدہ سیاسی ماحول ہے اور صورتحال اتنی بگڑتی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم
معاشی ماہرین نے پامانہ لیکس کی تحقیقات میں قانونی پیچیدگیوں کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ خزانہ کمیٹی سلیم مانڈوی
مہینہ شاید اپریل ہی کا تھا اورسال تھا 2001۔ ہمارے ” استاد گرامی ” ہم سے ناراض ہوگئے تھے۔ وجہ ناراضگی ہماری ان سے ”
کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے آفس جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی گاڑی آنے میں تھوڑا ہی ٹائم رہتا تھا۔۔ جلدی جلدی
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) سے علیحدگی اختیار کرنے اور اپنی نئی سیاسی تنظیم پاک سر زمین کا اعلان کرنے والے مصطفی کمال کو اب
ہر ملک اور ریاست میں مرکز پرست رویّے اپنی بالا دستی چاہتے ہیں ۔ تسلط کی مضبوطی ہی ان کی جمع پونجی میں اضافے کا
شہزادہ سلیم کو اپنے کبوتروں سے بہت پیار تھا، کنیز کے ہاتھ میں وہ کبوتر تھے ۔۔ کہ اچانک ایک کبوتر اس کے ہاتھ سے
جب ایک طالب علم امتحان دینے جاتا ہے تو اس کی ابتدا اور انتہا کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ کوئی شخص نہ تو اس مقررہ
سکینڈلز اور ایکسپوزڈ جیسے الفاظ کے پیچھے بھاگتا ایسا معاشرہ جو دلیل یا منطق کے بنا صرف سنسنی دیکھنا اور سنسنا چاہتا ہے اس معاشرے
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے