عتیق احمد صدیقی کی کالم نگاری پر ایک نظر
ابلاغ عامہ میں کالم کی کوئی متعین یا طے شدہ تعریف نہیں ہے بلکہ کالم کو کالم نگار کا ذاتی مشاہدہ اور تجزیہ قرار دیا
ابلاغ عامہ میں کالم کی کوئی متعین یا طے شدہ تعریف نہیں ہے بلکہ کالم کو کالم نگار کا ذاتی مشاہدہ اور تجزیہ قرار دیا
روزوں کا مہینہ تھا، میں اپنے گاؤں "ممی خیل” کی مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھا تھا۔ جمعہ کا دن تھا اور میں تقریر کر
’ایران، ہمارے وطن، تو ہمیں دل و جان سے پیارا ہے‘۔ یہ مصرع ایران کے اس قومی ترانے میں شامل تھا جو 1933 ءسے 1979
آج میں نے سوچا کہ اگر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تقریر لکھی جا سکتی ہے تو کالم کیوں نہیں لکھا جا سکتا ؟ یہی
گزشتہ رات ایران نے قطر میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے لاجسٹک ڈیپو پر جو حملہ کیا، وہ محض ایک فوری عسکری ردعمل نہیں تھا
بالآخر وہ لمحہ آ گیا جس کی امید تو تھی مگر جس ڈرامائی انداز میں یہ سامنے آیا اس کی قطحی امید نہ تھی۔ مگر
ایک ڈرامائی موڑ کے تحت، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ—جنھوں نے اس سے قبل ایران کی تین اہم نیوکلیئر تنصیبات، فردو، نطنز، اور اصفہان پر فضائی
مجھے بچپن سے اسلامی دنیا کی جن قوموں کے باوقار، شجاع، وجہہ، خود دار، ذہین و فطین، مہذب اور شائستہ باصلاحیت اور خوبصورت ہونے کا
جدید دور کی تیز رفتار زندگی، بے شمار ذمے داریاں، سوشل میڈیا کا دباؤ اور خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات انسان کو ایک ایسی دوڑ
خوشحال خان خٹک کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کا فلسفہ حیات ،جدوجہداور علم و
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے