مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز
ہنستے بستے شہرِ لاہور میں ایک اور خوں فشان شام اتری۔یہ گلشن اقبال پارک ہے جو اسی مون مارکیٹ کے جوار میں واقع ہے جہاں
ہنستے بستے شہرِ لاہور میں ایک اور خوں فشان شام اتری۔یہ گلشن اقبال پارک ہے جو اسی مون مارکیٹ کے جوار میں واقع ہے جہاں
لاہور میں دہشت گردی کی ہولناک واردات ہوئی اور دسیوں لوگ بشمول معصوم بچے و خواتین مار دئیے گئے. دنیا بھر میں ہولی کے رنگ
آج پاکستانی سوشل میڈیا پر مبلغ عرف ریٹائرڈ پاپ گلوکار جنید جمشید کی اسلام آباد ایئرپورٹ پر دھنائی زیرِ بحث ہے۔ کوئی مذمت کر رہا
ایک طویل عرصے بعد دوحوالوں سے پاکستانی قوم عملا متحد اور منظم ہوگئی تھی۔ (1)مذہب ، مسلک ، زبان ، رنگ ، نسل اور دیگر
2008 کی ایک صبحِ بہار کو 9 بج کر 22 منٹ پر مجھے لاہور سے محبت ہوگئی۔ مجھے یہ لمحہ اس لیے یاد ہے کیونکہ
اس کالم نگار کا تعلق لکھنے والوں کے اس خاموش گروہ سے ہے جس کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، نہ کوئی مفاد
سیکولرازم کی جس طرح کوئی ایک متفقہ تعریف مشکل ہے اسی طرح اس کی جاۓ پیدائش اورتاریخ پیدائش کے بارے میں بھی حتمی طورپر کہنا
پاکستان پہلے بھی بھارتی مداخلت ٹھوس ثبوت دے چکا ہے لیکن بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایک بڑے ایجنٹ کی گرفتاری کے بعد اس بارے
لاہور میں گلشن اقبال پارک میں خود کش حملہ ہوا اور ننھی معصوم کلیوں اور ان کے والدین کو خون میں لت پت کر گیا.ہمیشہ
سقوط ڈھاکہ کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا یہ زہر آلود جملہ کوئی بھی پاکستانی کیسے بھول سکتا ہے کہ؛ ہم نے
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے