پراسرار سفارتکاری
پیرس میں مختصر میٹنگ اتفاقی تھی اور نہ لاہور آمد حادثاتی تھی۔ مودی صاحب کسی حد تک موڈی ضرور ہیں لیکن پاکستان سے متعلق ان
پیرس میں مختصر میٹنگ اتفاقی تھی اور نہ لاہور آمد حادثاتی تھی۔ مودی صاحب کسی حد تک موڈی ضرور ہیں لیکن پاکستان سے متعلق ان
ک مقامی روزنامے میں ایک مضمون میں سعودی عرب کے ریٹیل سیکٹر (پرچون کاروبار) میں غیر ملکی تارکین وطن کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کا تذکرہ
کل شب خدا کے حضور طویل اور کٹھن سفر نے تھکا دیا تھا۔ جسم درد سے چور تھا۔ دوران سفر مجھے نیند نہیں آتی خواہ
حضرت محمد اللہ ﷺتعالیٰ کی طرف سے آخری رسول اور پورے عالم کے لئے رحمت بن کر آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ
اسلامی نظریاتی کونسل کایہ 201واں اورسال 2015کا آخری اجلاس تھا اجلاس کاایک طویل ایجنڈہ تھا مگراجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامے کی نذرہوگیا دوروزہ اجلاس پہلے
اکثر اخباری کالموں، ٹی وی پروگراموں یا گفتگو کی محافل میں ایک فقرہ تواتر سے سننے کو ملتا ہے کہ ہم نے سب کچھ غلط
شین امریکہ کی بحریہ کا سابق فوجی ہے ، شین کی رہائش آج کل واشنگٹن میں ہے، شین نے امریکی حکومت پر پچاس لاکھ ڈالر
2014 اور 2015 میں ایک فرق تھا اور بس ، فرق یہ کہ ایک کے آخر میں 4 اور دوسرے کے آخر میں 5 کا
سولہ دسمبرکےدن معلوم ہوا کہ دہشتگرد آج تک کی اپنی تمام بھیانک کارروائیوں سے زیادہ بڑی، بھیانک اور پرتشدد کارروائی بھی کر سکتے ہیں، اور
بے نظیر بھٹو کے قتل کو آٹھ سال گزر چکے ہیں۔ تین حکومتیں اس قتل کی تحقیقات اور اس سے متعلق مقدمے کو منطقی انجام