میں اتائی ہوں!
مجھے صحافت کے میدان میں ٹامک ٹوئیاں مارتے چار دہائیاں گزر چکی ہیں، شاید اسی لئے غلط طور پر سینئر تجزیہ کار، سینئر صحافی یا
مجھے صحافت کے میدان میں ٹامک ٹوئیاں مارتے چار دہائیاں گزر چکی ہیں، شاید اسی لئے غلط طور پر سینئر تجزیہ کار، سینئر صحافی یا
لکھنے کا مشق اور معمول دو عشروں پر مشتمل ہے۔ اس دوران اپنی بات لکھ کر لوگوں تک پہنچانے کے لیے دو اصول اپنا رکھے
مدینہ منورہ میں بیٹھا تھا، درود شریف کا ذکر چل رہا تھا کہ اچانک پچھلے دنوں ایک دوست کا گھر یاد آ گیا، جہاں قرآنِ
اکیسویں صدی کو اگر ڈیجیٹل انقلاب کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے انسانی
میں چھ یا سات برس کی تھی جب میں نے اشفاق احمد کا ماہِ کنعان پہلی بار دیکھا تھا۔ یہ وہ ماہِ کنعان نہیں جسے
جناب شفیق الرحمن ایک کرم ہم پر یہ کرتے تھے کہ طنز و مزاح پر مشتمل انگریزی کتابیں اور رسالے ہمیں گاہے گاہے ایک وزنی
ہر قوم کی تقدیر اس کے ادراک اور فیصلوں کا مرہون منت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے حال اور مستقبل کے تقاضوں
ہماری نئی نسل کو صرف ڈگری نہیں کردار بھی چاہیے.ہم نے اپنی نئی نسل کو شاید صرف دو چیزوں تک محدود کر دیا ہے انہیں
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے پہاڑی شہر راولاکوٹ تک کا فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا
تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محض سالوں اور مہینوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان واقعات کا تسلسل ہے جو انسان کے