امن کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن انصاف کے بغیر امن کا تصور ادھورا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو دہشت گردی، تشدد اور بدامنی سے محفوظ رکھے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قانون کے نام پر کسی بے گناہ کی آزادی متاثر نہ ہو۔ خیبر پختونخوا میں ڈپٹی کمشنرز کو تین ایم پی او کے اختیارات تفویض کرنے کا فیصلہ اسی اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ اقدام صوبے میں امن و امان بہتر بنانے کا ذریعہ بنے گا یا اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی پیدا ہوں گے۔
یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں، بلکہ شہری حقوق، حکومتی اختیارات اور قانون کی بالادستی کا معاملہ بھی ہے، جس کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
تین ایم پی او کیا ہے؟
ایم پی او (MPO) کا مکمل نام Maintenance of Public Order ہے، جس کا مطلب عوامی نظم و ضبط اور امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے متعلقہ قانون ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960ء ہے۔ اس آرڈیننس کی دفعہ 3(1) کے تحت مخصوص قانونی شرائط پوری ہونے پر کسی شخص کی پیشگی گرفتاری اور نظر بندی کا حکم دیا جا سکتا ہے، اگر مجاز اتھارٹی کو اطمینان ہو کہ اس شخص کی سرگرمیاں عوامی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہاں واضح رہے کہ تین ایم پی او آئینِ پاکستان کی دفعہ نہیں، بلکہ 1960ء کے آرڈیننس کی دفعہ 3 سے متعلق اصطلاح ہے۔ اس کا مقصد کسی ممکنہ خطرے کی روک تھام ہے، نہ کہ جرم ثابت ہونے کے بعد سزا دینا۔ اسی لیے اس اختیار کا استعمال ٹھوس وجوہات اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ محض شبہے، سیاسی وابستگی یا ذاتی اختلاف کی بنیاد پر۔
خیبر پختونخوا میں نیا فیصلہ
21 اکتوبر 2026ء سے متعلق اعلان کے مطابق، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈپٹی کمشنرز کو تین ایم پی او کے تحت اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا بنیادی جواز یہ بتایا گیا کہ امن و امان کے معاملات میں انتظامی تاخیر کم ہو اور ضلعی سطح پر بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
اگر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے پاس کسی ممکنہ دہشت گردی، تشدد یا تخریب کاری کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات ہوں تو غیر ضروری تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں قانونی اختیارات کا بروقت استعمال کسی بڑے واقعے کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم فیصلے کی مکمل قانونی حیثیت جانچنے کے لیے اصل نوٹیفکیشن، اختیارات تفویض کرنے کی بنیاد اور سابقہ حکم کی منسوخی کی شرائط کا جائزہ ضروری ہے۔ انتظامی سہولت اپنی جگہ، لیکن ہر سرکاری اقدام کی قانونی بنیاد واضح ہونا لازمی ہے۔
مثبت پہلو: بروقت کارروائی اور عوامی تحفظ
اس فیصلے کا سب سے اہم مثبت پہلو یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو فوری کارروائی میں سہولت مل سکتی ہے۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کے درمیان بہتر رابطے سے سکیورٹی انتظامات مؤثر ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی سرگرمیوں سے عوامی امن کو حقیقی خطرہ لاحق ہو تو قانون کے مطابق بروقت اقدام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، ضلعی سطح پر اختیارات کی موجودگی سے دفتری کارروائی میں تاخیر کم ہونے اور مقامی صورتِ حال کے مطابق فوری فیصلے کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔ تاہم یہ فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب کارروائی شواہد پر مبنی اور متعلقہ افسران جواب دہ ہوں۔
منفی پہلو: اختیارات کا غلط استعمال
ہر وسیع انتظامی اختیار کے ساتھ اس کے غلط استعمال کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ تین ایم پی او کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کہیں کسی بے گناہ شہری کو محض شبہے، سیاسی اختلاف یا ذاتی عناد کی بنیاد پر نظر بند نہ کر دیا جائے۔
پاکستان میں سیاسی اختلاف اور احتجاج کے معاملات میں انتظامی اختیارات کے استعمال پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پُرامن احتجاج کرنے والے شہریوں اور تشدد یا تخریب کاری میں ملوث عناصر کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔ حکومت پر تنقید یا کسی سیاسی جماعت سے وابستگی بذاتِ خود کسی شخص کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دینے کا جواز نہیں بن سکتی۔
دوسرا خدشہ مقامی سیاسی یا انتظامی دباؤ کا ہے۔ اگر کسی افسر کو غیر جانب دارانہ فیصلہ کرنے کے بجائے بیرونی دباؤ کا سامنا ہو تو یہ اختیار ناانصافی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کا انتظامیہ پر اعتماد کمزور اور معاشرتی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئین اور شہری حقوق کا تقاضا
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10 گرفتاری اور نظر بندی کے حوالے سے بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ اس میں احتیاطی نظر بندی کے لیے قانونی شرائط، وجوہات سے آگاہ کرنے اور متعلقہ شخص کو نمائندگی کا موقع دینے جیسے تقاضے شامل ہیں۔ نظر بندی کے تسلسل اور جائزے کے لیے آئینی طریقۂ کار کی پابندی بھی ضروری ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا چاہیے: آرٹیکل 232 ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں مخصوص اقدامات سے متعلق ہے۔ یہ دونوں آرٹیکلز تین ایم پی او سے الگ آئینی معاملات ہیں۔ ان کا حوالہ دے دینا بذاتِ خود ہر انتظامی حکم کو قانونی جواز فراہم نہیں کرتا؛ متعلقہ قانون اور نوٹیفکیشن کی شرائط پوری کرنا بھی لازم ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ نظر بندی کے احکامات کی وجوہات کا ریکارڈ رکھے، قانونی تقاضوں پر عمل کرے اور متعلقہ افراد کے لیے قانون کے مطابق مؤثر چارہ جوئی کا راستہ کھلا رکھے۔
عام آدمی کے لیے کیا اہم ہے؟
عام شہری کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے اس کی زندگی کتنی محفوظ اور اس کے حقوق کتنے مضبوط ہوں گے۔ اگر تین ایم پی او کے ذریعے دہشت گردی اور تشدد کے حقیقی خطرات کی روک تھام ہوتی ہے تو اس کا فائدہ پورے معاشرے کو پہنچے گا۔ لیکن اگر اس کا استعمال غیر شفاف یا امتیازی انداز میں ہوا تو ایک عام شہری اپنی آزادی، روزگار اور خاندانی زندگی کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
ریاست کی طاقت کا اصل مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ انہیں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کرنا۔ اسی لیے ہر کارروائی کی بنیاد واضح، متعلقہ افسر جواب دہ اور بے جا نظر بندی کے خلاف قانونی راستہ مؤثر ہونا چاہیے۔
نتیجہ: امن بھی، انصاف بھی
میری رائے میں خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم کسی بھی اختیار کی کامیابی اس کی وسعت سے نہیں، بلکہ اس کے منصفانہ اور قانونی استعمال سے طے ہوتی ہے۔
تین ایم پی او نہ ہر مسئلے کا خودکار حل ہے اور نہ اسے محض منفی اقدام قرار دے کر رد کیا جا سکتا ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس اختیار کو دہشت گردی اور بدامنی کے حقیقی خطرات کے خلاف استعمال کیا جائے، نہ کہ سیاسی اختلاف یا ذاتی مخالفت کے لیے۔
حکومت اور انتظامیہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن اور آزادی ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور بے گناہ شہری کے حقوق کی بھی حفاظت کرے۔
کیونکہ پائیدار امن خوف سے نہیں، انصاف، اعتماد، شفافیت اور قانون کی یکساں عمل داری سے قائم ہوتا ہے۔