ایک جسم، ہزار ٹکڑے: مسلکی مناظروں کے شور میں غزہ کا ایک جنازہ

اللہ پاک کے بابرکت نام پر قربان جاؤں، جو وقتاً فوقتاً لکھنے کی سعادت عطا فرماتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر کروڑوں اربوں درود و سلام، جن کی زندگیاں باعثِ ہدایت و روشنی ہیں۔

آپ مجھے اکثر و بیشتر اہلِ بیت علیہم السلام کی زندگی پر لکھتا ہوا پاتے ہیں۔ پڑھنے والے پوری طرح حق بجانب ہیں کہ مجھے شیعہ سمجھیں یا سنی، مگر ایک بات پر میں خود کو اللہ پاک کا بہت شکر گزار محسوس کرتا ہوں: اہلِ بیتؑ کی محبت میں اُس نے مجھے مسالک اور فرقوں کی تقسیم اور نفرت سے دور رکھا ہے۔ اسی لیے اِس سلسلے میں بلا جھجک لکھنے کی سعادت پر بھی اللہ پاک کا بہت شکر گزار ہوں۔

سوشل میڈیا اور موبائل کمپنیوں نے ایسی ٹیکنالوجی رکھ دی ہے کہ آپ جس موضوع پر بات کریں یا جس میں دلچسپی رکھیں، وقتاً فوقتاً اُسی موضوع سے متعلق ریلز، پوسٹس اور آن لائن مواد آپ تک پہنچتا رہتا ہے۔ یہ ایک ٹیکنالوجیکل عمل ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے مسلسل اسی وجہ سے مجھے مختلف مسالک، یعنی شیعہ اور سنی حضرات کے درمیان، مختلف موضوعات پر ہونے والی بحثیں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ شیعہ حضرات اپنے خیالات کے اظہار سے رکتے نظر نہیں آتے، اور سنی حضرات اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے دین تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔ چودہ سو سال پہلے کے تاریخی مواد کو لے کر، عقائد کی روشنی میں اور دبے لفظوں میں، ایک دوسرے کو گویا غلط ثابت کرنے کا ایک ایسا مقابلہ شروع ہو گیا ہے جو ختم ہی نہیں ہو رہا۔

ایک مولانا صاحب کو فرماتے سنا کہ ہم نے شیعوں کے خلاف پچاس سال محنت کی تھی، لوگوں کی ذہن سازی کی تھی، مگر مولانا اللہ وسایا کی بارہ جلدوں پر مشتمل نئی کتاب ”احتسابِ ناصبیت“ نے سب پر پانی پھیر دیا۔ گویا یہ دین نہیں، کوئی میچ ہے جس میں ایک کی ہار دوسرے کی جیت ہے۔

یہ پوسٹ یا ریل ابھی نظر سے گزری ہی تھی کہ اچانک فلسطین کے معصوم شہریوں کے اجتماعی جنازے کی تصویر آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ وہاں لاشوں کی باقیات اکٹھی کی گئی تھیں کسی بھی شہید کا جسدِ مبارک پورا نہیں تھا، ٹکڑے جمع کیے گئے تھے۔ اِنہی دنوں کی خبر ہے کہ 18 اکتوبر کو غزہ شہر کے محلہ الدرج میں تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے نکالی گئی 75 فلسطینیوں کی باقیات، فلسطینی پرچموں میں لپیٹ کر، شیخ رضوان قبرستان میں دفنائی گئیں۔ اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی، جو اپنے ہی گھروں کے اندر نشانہ بنے تھے۔ غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق تقریباً آٹھ ہزار فلسطینیوں کی باقیات اب بھی ملبے تلے دبی ہیں۔

اسی طرح ایک شیعہ ذاکر کو سنا تو وہ بس یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے کہ فلاں صحابی نے ایسا کیا، حدیثیں جلائیں اور باتوں باتوں میں ایک عجیب سے انداز میں اُن کے کردار پر طنز کرتے رکتے نہیں تھے۔

پھر نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے مناظر دیکھے، جہاں دونوں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر پوری سنجیدگی سے کام کر رہے تھے۔ اور اتفاق دیکھیے کہ جس دن غزہ میں وہ باقیات دفنائی جا رہی تھیں، اُسی دن امریکی صدر نے 27 اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات سے پہلے نیتن یاہو کی ”مکمل اور بھرپور حمایت“ کا اعلان کیا۔

اب ذرا آتے ہیں اِن دونوں واقعات کی طرف ہم مسلمانوں کی سوچ پر، اور غیر مسلموں کے رویوں کی طرف۔

ہم اِس بات میں مگن ہیں کہ شیعہ غلط ہیں یا سنی۔ بدقسمتی سے بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی، سنیوں کے اندر الگ مسالک ہیں اور شیعوں کے اندر الگ۔ وہاں بھی بات ختم نہیں ہوتی کہ ایک ہی گھر میں، شیعہ ہوں یا سنی، ایک ہی مسلک کے پیروکار ہو کر بھی اپنے ہی مسلک کے اندر برسرِ پیکار ہیں۔

مزید بدقسمتی یہ ہے کہ علما اور ذاکرین تو پھر بھی کچھ ملے جلے الفاظ میں، عزت کی حدود میں رہتے ہوئے بات کرتے ہیں مگر نیچے کمنٹس میں عام لوگ جو گالم گلوچ بک رہے ہوتے ہیں، وہ ناقابلِ بیان ہے۔

دوسری طرف صیہونی قوتیں مسلمانوں کو ایسے کاٹ رہی ہیں جیسے بھیڑ بکریوں کو کاٹا جاتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں سوچتیں کہ ہم شیعہ ہیں یا سنی اُن کی نظر میں ہم بس مسلمان ہیں۔ وہ ہمارے مقابلے میں اپنے دین اور اپنی قوم کی سرپرستی کے لیے یکسو ہو کر کام کر رہی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ

مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

(صحیح مسلم: 2586)

”ایمان والوں کی مثال آپس کی محبت، رحم اور شفقت میں ایک جسم کی سی ہے کہ جب اُس کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اُس کا ساتھ دیتا ہے۔“

غزہ میں شہیدوں کے جسم ٹکڑوں میں جمع کیے جا رہے تھے، اور یہاں اُمت کا جسم مسلکوں کے ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ وہاں جسموں پر دشمن کے بم گرے جبکہ یہاں ہم نے اپنے ہی جسم کو اپنے ہاتھوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھا ہے۔

دیکھیے بھائی، اسلامی نقطۂ نظر سے اہلِ بیت علیہم السلام کے مقابلے میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ اور اہلِ بیتؑ کی محبت میں کسی بھی صحابیِ رسول ﷺ کی بے عزتی اور اُن پر سب و شتم مناسب نہیں۔

حضرت علیؑ خود روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے، میں سو رہا تھا۔ حسینؑ نے پانی مانگا تو آپ ﷺ خود اُٹھے اور گھر کی ایک کم دودھ والی بکری کا دودھ دوہا۔ اتنے میں حسنؑ بھی آ گئے، مگر آپ ﷺ نے پہلے حسینؑ کو پلایا۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لگتا ہے یہ آپ کو زیادہ پیارا ہے؟ فرمایا: نہیں، اِس نے پہلے پانی مانگا تھا۔ پھر فرمایا: ”میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا (یعنی علیؑ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہوں گے“ (مسند احمد: 792)۔ اِس روایت کو شیخ احمد شاکر اور شیخ البانیؒ نے صحیح قرار دیا ہے، اگرچہ بعض محدثین نے اِس کی سند پر کلام کیا ہے۔

اہلِ بیتؑ کے بارے میں خود اصحابِ رسول ﷺ کا ایمان یہی تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ فرماتے تھے: ”ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ“، یعنی محمد ﷺ کا لحاظ اُن کے اہلِ بیت کے بارے میں رکھو (صحیح بخاری: 3713)۔ اور جب عراق کے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے احرام کی حالت میں مکھی مارنے کا مسئلہ پوچھا تو فرمایا: ”اہلِ عراق مکھی کا مسئلہ پوچھتے ہیں، حالانکہ اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے بیٹے کو قتل کر ڈالا؛ اور نبی ﷺ نے فرمایا تھا: یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں“ (صحیح بخاری: 3753)۔ اب کسی صحابی کا اہلِ بیتؑ سے مقابلہ کروانا اور درجات کی بحث چھیڑنا خود اُنہی اصحاب کے اپنے اقوال کے خلاف جاتا ہے؛ اور ہم ہیں کہ خود اُن اصحاب کا اہلِ بیتؑ سے مقابلہ کرتے نہیں تھکتے۔

یہ سبق ہمیں خود اہلِ بیتؑ نے دیا ہے۔ صفین کی جنگ کے دنوں میں مولا علیؑ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اہلِ شام کو برا بھلا کہتے سنا تو فرمایا:

إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ… وَقُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ: اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا وَدِمَاءَهُمْ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَبَيْنِهِمْ

(نہج البلاغہ، خطبہ 206)

”مجھے یہ پسند نہیں کہ تم گالیاں دینے والے بنو… اُنہیں برا بھلا کہنے کے بجائے یوں کہو: اے اللہ! ہمارا اور اُن کا خون محفوظ رکھ، اور ہمارے اور اُن کے درمیان صلح کرا دے۔“

یہ بات میدانِ جنگ میں سامنے کھڑے مخالف کے بارے میں فرمائی گئی تھی اور ہم چودہ سو سال بعد بیٹھ کر اُن ہستیوں کو برا بھلا کہتے ہیں جو ہمارے سامنے بھی نہیں، اور ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔ یہی مولا علیؑ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو یوں یاد کرتے ہیں: ”میں نے محمد ﷺ کے اصحاب کو دیکھا ہے، تم میں سے کوئی مجھے اُن جیسا نظر نہیں آتا“ (نہج البلاغہ، خطبہ 97)۔ جس کی محبت کا ہم دم بھرتے ہیں، اُس کا اپنا طریقہ یہ تھا۔

قرآن نے ہمیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا:

وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ

(سورۃ الانفال: 46)

”آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔“

ہماری ہوا اُکھڑ چکی ہے، اور غزہ کے جنازے اِس کی گواہی دے رہے ہیں۔

ذرا سوچیے، سمجھیے، اتفاق و اتحاد اِس اُمت کو سپر پاور بنا دے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے