پنجاب میں انتخابی دنگل سجنے کو تیار،ڈیروں کی رونقیں بحال

پنجاب کی سیاست کا اپنا ہی ایک الگ مزہ ہے، اور جب بات گلی محلوں اور لوکل گورنمنٹ کے الیکشن کی ہو تو یہ رنگ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاست کا اصل رخ اسلام آباد کے ایوانوں یا لاہور کے مال روڈ پر نہیں، بلکہ ہمارے پینڈو ڈیروں، چائے کے ہوٹلوں اور محلے کی بیٹھکوں میں نظر آتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جیسے ہی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا اشارہ دیا ہے، صوبے بھر کی مقامی سیاست میں یکدم جان آ گئی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر، قصبے اور گاؤں میں انتخابی ماحول بن چکا ہے۔ امیدواروں نے کمر کس لی ہے، پرانے ڈیروں کے تالے کھل گئے ہیں اور پنجاب ایک نئے اور دلچسپ انتخابی دنگل کے لیے تیار کھڑا ہے۔

ایک طرف الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر کے مہینے میں ووٹنگ کرانا چاہتا ہے، تو دوسری طرف پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ شدید سردی، دھند، اسموگ اور رمضان المبارک کی وجہ سے الیکشن اگلی بہار یعنی اپریل میں کرائے جائیں۔ اب الیکشن دسمبر کی دھند میں ہوں یا اپریل کی بہار میں، میدان میں اترنے والے امیدواروں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے لیے الیکشن کی خبر ہی کافی تھی، جس کو سنتے ہی انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا دھماکے دار آغاز کر دیا ہے۔ اب ہر گلی، چوک اور تھڑے پر بس یہی ایک بحث چل رہی ہے کہ اس بار ہمارے محلے کا کونسلر یا چیئرمین کون بنے گا اور کس کا پلڑا بھاری ہے۔

پنجاب کے بلدیاتی الیکشن کی سب سے بڑی حقیقت ”برادری“ اور”دھڑے بندی“ ہے۔ بڑے الیکشن یعنی ایم این اے اور ایم پی اے کے انتخابات میں تو لوگ پارٹی کے نام بڑے لیڈروں کی شکل یا سیاسی نعروں پر ووٹ دے دیتے ہیں، لیکن بلدیاتی الیکشن بالکل الگ چیز ہے۔ یہاں ووٹر کسی نظریے یا بین الاقوامی سیاست کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ آدھی رات کو دکھ سکھ میں اس کے کام کون آئے گا، تھانے کچہری اور ہسپتال کے چکروں میں اس کی مدد کون کرے گا اور گلی کی نالی، بجلی کا کھمبا یا سڑک کون بنوائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امیدواروں نے سب سے پہلے اپنی اپنی برادری کے بڑوں کو منانا اور ان کے پاؤں پکڑنا شروع کر دیے ہیں۔ جو لوگ کل تک ایک دوسرے کا منہ دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے، آج الیکشن کی خاطر ایک دوسرے کے گلے مل رہے ہیں اور پرانے گلے شکوے مٹائے جا رہے ہیں۔

اس انتخابی لہر کا سب سے شاندار نظارہ پنجاب کے روایتی ڈیروں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہ ڈیرے جہاں سال بھر سناٹا رہتا تھا اور صرف کتے سوتے تھے، اب وہاں دن رات رونق لگی ہوئی ہے۔ چائے کی پیالیاں چل رہی ہیں، حقے کی گڑگڑاہٹ جاری ہے اور ووٹرز کی ایسی خاطر تواضع ہو رہی ہے جیسے ہر ووٹر ہی اس علاقے کا سب سے بڑا چودھری ہو۔ امیدوار صبح سویرے ہی گھر سے نکل پڑتے ہیں اور علاقے میں ہونے والی ہر شادی, غمی، عقیقے یا چھوٹی موٹی تقریب میں لازمی حاضری دیتے ہیں۔ یہ وہ الیکشن ہے جہاں بڑے بڑے خان، ملک اور چودھری صاحب کو بھی ایک عام ووٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہونا پڑتا ہے اور یہی اس لوکل سیاست کا اصل حسن ہے۔

مگر اس بار الیکشن کی مہم میں ایک نئی چیز بھی دیکھنے کو مل رہی ہے، اور وہ ہے ”سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ڈیرے داری“۔ اب صرف گلیوں میں کپڑے کے بینرز یا پینافلیکس لگانا کافی نہیں رہا، بلکہ امیدواروں نے ٹک ٹاک، فیس بک اور واٹس ایپ پر بھی طوفان مچایا ہوا ہے۔ نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے جوشیلے گانوں اور بھاری ڈائیلاگز کے ساتھ ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں، جن میں حلقے کو پیرس بنانے اور دودھ کی نہریں بہانے کے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ محلے کی چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگز کو انٹرنیٹ پر لائیو دکھایا جا رہا ہے تاکہ جو لوگ روزگار کے لیے کراچی، اسلام آباد یا پھر ملک سے باہر بیٹھے ہیں، وہ بھی اپنی برادری کی مہم دیکھ سکیں اور الیکشن کے لیے فنڈز بھیج سکیں۔

سننے میں یہ آرہا ہے چونکہ یہ الیکشن سیاسی جماعتوں کے نشان پر ہو رہے ہیں، اس لیے بڑی پارٹیوں کے ضلعی دفاتر میں ٹکٹ لینے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ ہر پارٹی چاہتی ہے کہ نچلی سطح پر اس کے بندے جیتیں، کیونکہ یہی کونسلر اور چیئرمین آگے چل کر بڑے الیکشن میں ایم این اے اور ایم پی اے کو جتوانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جس پارٹی کا بلدیاتی الیکشن پر ہولڈ مضبوط ہوتا ہے، صوبے کی اصل طاقت اور گراس روٹ لیول پر کنٹرول اسی کے پاس ہوتا ہے۔ اسی لیے بڑی جماعتیں بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں اور صرف تگڑے امیدواروں کو ہی میدان میں اتارنے کا سوچ رہی ہیں۔

میری نظرمیں بلدیاتی الیکشن عام آدمی کے لیے بہت ضروری ہیں، کیونکہ اس سے ہمارے روزمرہ کے مسائل جیسے پانی کی لکیر، گلی کی صفائی، اسکول کی حالت اور گلیوں کی پختگی ہمارے اپنے محلے کا بندہ حل کرتا ہے جس کا گریبان ہم جب چاہیں پکڑ سکتے ہیں۔ چائے کے کھوکھوں سے لے کر بڑے ڈیروں تک جاری یہ رونق اور جوڑ توڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب کے عوام اپنے مقامی نمائندے چننے کے لیے بے تاب بیٹھے ہیں۔ اب فیصلہ الیکشن کمیشن اور حکومت نے مل کر کرنا ہے کہ وہ دنگل کب سجاتے ہیں، لیکن امیدواروں نے تو لنگوٹ کس لیے ہیں اور وہ اب پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ دنگل شروع ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور جیت کا ہما کس کے سر سجتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے