کاروبارِ حیات، ہماری نسل اور توازن کی تلاش
انسانی تاریخ کا پہلا اور بنیادی سبق یہی ہے کہ ہر آنے والے دور کا اپنا ایک مخصوص مزاج، تمدنی تقاضے اور مختلف سوچ ہوتی
انسانی تاریخ کا پہلا اور بنیادی سبق یہی ہے کہ ہر آنے والے دور کا اپنا ایک مخصوص مزاج، تمدنی تقاضے اور مختلف سوچ ہوتی
نشتر ہسپتال ملتان کے ایمرجنسی گیٹ کے باہر سات سالہ فالج زدہ بچی ماہ نور کو اس کے والدین نے سڑک کنارے کپڑا بچھا کر
گزشتہ کئی برس سے ہم خاصے ہرجائی ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ بات خود ہم نے بھی محسوس کی ہے اور دوست بھی ہمارے نوٹس
رات کے آخری پہر دارالحکومت کی ایک بلند عمارت میں ایک بوڑھا معیشت دان اپنے سامنے پھیلے ہوئے بجٹ کے کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔
مہربان قدردان ! اس وقت آپ کے سامنے یہ ڈب کھڑبا لال رنگ کا جو سانپ پڑا ہے، اسے جونسرا کہتے ہیں۔ یہ گھروں میں
ڈیرہ اسماعیل خان صبح گھر سے کام کے لیے نکلتے وقت 32 سالہ سلمی(فرضی نام) اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑ کر دروازے پر تالا لگاتی
تصور کریں کہ ایک شاطر جادوگر آپ کے ہاتھ سے لوہے کی وزنی زنجیریں کھول دے، آپ کے گلے سے غلامی کا پٹہ اتار پھینکے،
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے بھاری بھرکم ڈگریاں تھما دیتے ہیں اور نوجوان مارکیٹ میں آکر پھر سے نئی زندگی، یعنی دوبارہ
شام اتر رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں، مگر دور کہیں کسی بستی کے ملبے پر ابھی بھی دھوئیں کی
میں گزشتہ ہفتےاورینٹل کالج کے مین گیٹ سے کالج میں داخل ہوا تو میری نظروں میں 1964ء کے وہ لمحات گھوم گئے جب میں ایم
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے