چیک ریپبلک اور حسنِ یار کی باتیں
براتس لاوا ٹرین اسٹیشن پر ٹکٹ لینے پہنچے تو کاؤنٹر پر موجود خاتون اپنی زندگی سے بیزار نظر آئی، سوائے ٹکٹ کی قیمت کے ہم نے اُس سے جو سوال کیا اُس کا جواب تھا مجھے نہیں معلوم۔ بدقت تمام ہم اپنا سامان اٹھا کر پلیٹ فارم پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ لِفٹ بھی […]
یورپ کا ایک مسکین شہر
میرے جن دوستوں کو پتا چلا کہ میں ویانا میں ہوں انہوں نے مجھے عجائب گھروں اور اوپرا ہاؤسز کی ایک فہرست بھیج دی کہ یہاں ضرور جانا، آرٹ گیلریز اور محلات اِس کے علاوہ تھے۔ میرا نظریہ ہے کہ بندہ کوئی محل اُس وقت دیکھے جب اُسے خرید کر وہاں رہنا ہو ورنہ خواہ […]
انتظار
میرے گلے میں پٹا ہے، یہ مضبوط چمڑے کا بنا ہوا ہے اور کافی پرانا ہے، جب میں پیدا ہوئی تھی تب سے یہ میرے گلے میں ہے، میں نے کئی مرتبہ اسے اتارنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی، اور اب تو مجھے اِس کی عادت ہو گئی ہے۔ میرا مالک مجھے اِس […]
درست انتخاب کا مخمصہ
پہلے میرا خیال تھا کہ مسئلہ صرف میرے ساتھ ہے لیکن بھلا ہو ایک ماہر نفسیات کا جس نے سمجھایا کہ ہر بندہ ہی اِس کا شکار ہے۔ خاطر جمع رکھیں میں نفسیاتی مریض نہیں ہوں اور اصل مسئلہ میرا نہیں بلکہ ’ڈیپارٹمنٹل اسٹورز‘ کا ہے۔ یادش بخیر، ہمارے بچپن میں سپر اسٹورز نہیں بلکہ […]
غیرت مندوں کے معاشرے میں ایک حمیرا
’’وہ کتنے دن سے بھوکی ہے ،بیمار ہے، مر گئی ہے، کوئی نہیں جانتا۔ وہ کس سے ملتی ہے، کہاں جاتی ہے، کتنی بد کردار ہے، سب جانتے ہیں!‘‘ (منقول) ’’غیرت مندوں‘‘ کو بہت غصہ ہے، اُن کا خیال ہے کہ اگر اُن کی بیٹی یا بہن اُن کی مرضی کے خلاف ٹی وی ڈراموں […]
مونا لیزا کی مسکراہٹ جیسی بیٹیاں
انڈیا میں ایک بیٹی کو باپ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور پاکستان میں ایک باپ نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دو خبریں ہر کچھ دیر بعد میرے سامنے آ جاتی ہیں، میں اِن کی تفصیل پڑھتا ہوں اور لرز اٹھتا ہوں۔ رادھیکا کی عمر پچیس سال […]
کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی
آج کل آپ نے ٹی وی چینلز پر اِس قسم کی تحریر ضرور دیکھی ہوگی کہ ’اس پروگرام میں پیش کیے جانے والے خیالات، آرا اور تجزیے مہمانوں اور شرکاء کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں، جن سے چینل یا ادارہ ہذا کا متفق ہونا ضروری نہیں‘۔آج یہ تحریر لکھنے سے پہلے خیال آیا کہ […]
یہ دنیا یہ محفل مرے کام کی نہیں
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے ہم غلط وقت اور غلط جگہ پر پیدا ہو گئے، ہر وقت جنگ کا خطرہ اور موت کا خوف۔ خدا خدا کرکے پاک بھارت جنگ ٹَلی تھی کہ ایران اسرائیل جنگ شروع ہو گئی اور وہ بھی بالکل ہمارے بغل میں، اُس سے پہلے دو افغان جنگیں بھی ہم […]
بعد از جدیدیت کس بلا کا نام ہے؟
خدا بھلا کرے سارتر کا، ایسا فلسفی تھا کہ جس کا فلسفہ وجودیت توسمجھ میں نہیں آتا تھا مگر یار لوگ ہر محفل میں اُس کا نام یوں لیتے تھے جیسے Being and Nothingness انہوں نے گھول کر پی ہوئی ہو۔ اُس زمانے میں ہم بالکل ہی بالکے تھے،ویسے تو اب بھی کوئی افلاطون نہیں […]
قربانی سے منسوب ایک قدیم قصہ
ہندؤوں کی قدیم کتاب رگ وید میں، جسے ہندو مت کی بنیادی کُتب میں شمار کیا جاتا ہے، ایک کہانی ہے، پہلے وہ کہانی پڑھتے ہیں، باقی بات بعد میں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ راجہ ہریش چندر کی کئی بیویاں ہونے کے باوجود کوئی بیٹا نہ تھا، جس کی وجہ سے وہ خاصا پریشان […]