غیر یقینی کائنات میں سب کچھ ممکن ہے

خدا بھلاکرے ورنر ہائیزن برگ کا جس نے کوانٹم میکینکس کا ’اصول ِعدم قطعیت ‘ بولے تو Uncertainty Principle دریافت کرکے ہمارے لکھاریوں کو تصوف کوسائنس سے ثابت کرنےکا موقع فراہم کردیا۔ اِس اصول کی رُو سے ایٹم میں موجود ذرات کی رفتار اور مقام کا بیک وقت تعین نہیں کیا جا سکتا ،یہ اصول نیوٹن کی کلاسیکی طبیعات کے ماڈل کی نفی ہے کیونکہ نیوٹن نے ہمیں بتایا تھا کہ اگر کسی شے پر طاقت نہیں لگائیں گے تو وہ شے ساکن رہے گی جبکہ ہائزن برگ کہتاہے کہ کسی ایٹمی ذرے کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس وقت کہاں ہوگا، ایک لمحے میں اگر وہ ذرہ مقام الف پر ہو تو اگلے ہی لمحے وہ ’ کائنات میں کہیں بھی ہوسکتا ہے ۔‘ ظاہر ہے کہ یہ بیان صوفیانہ ٹچ لیے ہوئے ہے ، صوفی حضرات بھی اسی قسم کی کیفیات کا ذکر کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آن کی آن میں ایسی دنیائیں دیکھ آتے ہیں جن کی منظر کشی ممکن نہیں ۔

اب ورنر ہائزن برگ تو جرمنی میں پیدا ہوا تھا ، وہ کسی خانقاہ کا مجاور نہیں تھا ، اسے تو ایک رات تنہائی میں کسی پارک میں بیٹھے بیٹھے یہ اصول القا ہوا تھا ، بالکل ویسے جیسے نیوٹن پر کشش ثقل کا قانون اُترا تھا۔لیکن ہائزن برگ کے اِس قانون نے تو گویا تصوف کے فلسفے میں نئی روح پھونک دی ، اشفاق احمد صاحب نے اِس پر’ من چلے کا سودا‘ لکھ مارا جس میں بظاہر ایک ان پڑھ موچی ڈرامے کے مرکزی کردار ارشاد کو، جو تصوف کی راہ کا مسافر ہوتا ہے ،کوانٹم میکینکس پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اُس کا ایک مکالمہ دیکھیے ’’کوانٹم تھیوری کو جانے بغیر اور فوٹون کی کیفیت سمجھنے بنا حضرت غوث الاعظم دستگیرؒ کا یہ اسرار کیسے سمجھ میں آجائے گا کہ موحد جب مقام توحید پر پہنچتا ہے تو نہ وہ موحد رہتا ہے نہ توحید ، نہ واحد نہ بِسیار ، نہ عابد نہ معبود،نہ ہستی نہ نیستی،نہ صفت نہ موصوف،نہ ظاہر نہ باطن،نہ منزل نہ مقام، نہ کفر نہ اسلام،نہ کافر نہ مسلمان….At sub atomic level matter does not exist with certainty but rather shows tendencies to exist, this is why particles can be waves at the same time….نہ عابد نہ معبود، نہ صفت نہ موصوف،نہ واحد نہ بِسیار، نہ ظاہر نہ باطن….کھُل گئی بات ، کھُل گئی بھائی جان، واضح ہوگیا کہ ہم کسی بھی ایٹمی ایونٹ کو یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے،صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ہوسکتا ہے ، تو پھر آگے اُس کی مرضی ، اُس کی مرضی ….‘‘

کوانٹم میکینکس نے اشفاق احمد کو ہی نہیں آئن اسٹائن کو بھی چکرا کر رکھ دیا تھا ، اُس کا مشہور قول کہ ’’God does not play dice with the universe‘‘بھی اسی تشکیک کو ظاہر کرتا ہے۔اِس معاملے میں آئن اسٹائن اور ماہر طبیعات نیلز بوہر کے درمیان مباحث کا ایک طویل سلسلہ بھی تاریخ کا حصہ ہے ، سائنس کی اِن دیوقامت ہستیوں کے درمیان ہونے والی بحث اِس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ کیا کائنات لگے بندھے اور یقینی طبیعاتی قوانین کے تحت کام کرتی ہےجن میں کسی غیر یقینی اصول کی گنجائش نہیں ؟ آئن اسٹائن کے نزدیک اِس سوال کا جواب ہاں میں تھا،تاہم آئن اسٹائن کے اِس مشہور زمانہ بیان سے کچھ لوگ یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ شاید اُس کا اشارہ ایسی کائنات کی طرف تھا جو خدا کی تخلیق کردہ ہے اور جس میں ہر بات حتمی طور پر طے شدہ ہے ، چونکہ یہ نقطہ نظر مذہب سے قریب تر تھا اِس لیے مذہبی دانشوروں نے اسے انہی معنوں میں لیا جبکہ آئن اسٹائن کا مقصد کوانٹم میکینکس پر سوال کرنا تھا ، وہی کوانٹم میکینکس جو بعدمیں ہمارے صوفی لکھاریوں کا من پسند موضوع بن گئی ۔

جدید دور کے مسلم فلسفیوں اور تصوف کے داعی لکھاریوں میں سے حسین نصر نےاِس سائنسی تصور کوبہت سلیقے سے اپنی تحریروں میں استعمال کیا ہے۔آئن اسٹائن چونکہ کلاسیکی طبیعات کا دلدادہ تھا اِس لیے اصولِ عدم قطعیت کو قبول کرنے میں اسے تامل تھالیکن آپ قدرت کا ’اتفاق ‘دیکھیں کہ جو آئن اسٹائن اتفاقات کا قائل نہیں تھا اسےکوانٹم میکینکس کے موضوع ’فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ ‘پر مقالہ لکھنے پر طبیعات کا نوبل انعام دیا گیا ،جبکہ آئن اسٹائن کے خصوصی اورعمومی نظریاتِ اضافیت زیادہ ’ہِٹ ‘ ہیں۔

یہاں ایک سوال بہت دلچسپ ہے کہ اگر ایٹم میں موجودذرات کے مقام اور رفتار کا بیک وقت تعین کرنا ممکن نہیں تو پھر ہمارے سامنے موجود اشیا ساکن حالت میں کیوں رہتی ہیں اور ہم باآسانی اُن کی رفتار اور مقام کا تعین کیسے کر لیتے ہیں ۔ اِس سوال کا جواب کچھ پیچیدہ ہے۔ ایک مرد دانا اسی سوال کے ہاتھوں اِس قدر زِچ ہوا کہ اُس نے کوانٹم فزکس سے ہی توبہ کرلی۔ اُس کا نام ’اَروِن شروڈنگر‘ تھا ، اسے کوانٹم میکینکس کے بانیوں میں سمجھاجاتا ہے ، اُس کا ایک تخیلاتی تجربہ ’شروڈنگر کیٹ ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔اُس نے کہا کہ اگر ہم ایک بلی کو کسی ڈبے میں بند کردیں اور ساتھ ہی ڈبےمیں کوئی ایسا آلہ لگا دیں جس کی وجہ سے اگلے ایک گھنٹے میں بلی کی موت کا امکان پچاس فیصد ہو تو ایک گھنٹے بعد جب ہم ڈبہ کھولیں گے تو بلی کس حالت میں ہوگی ؟ عقل تو یہی کہتی ہے کہ بلی یا تو مری ہوئی ملے گی یا پھر زندہ مگر شروڈنگر کا کہنا تھا کہ کوانٹم میکینکس کے اصول کے مطابق ڈبہ کھولنے سے ایک لمحہ پہلے تک بلی آدھی مری ہوئی ہوگی اور آدھی زندہ۔

یہ بات چونکہ بے معنی تھی اِس لیے شروڈنگر نے کوانٹم فزکس کو خیرباد ہی کہہ دیا۔اب اُس سوال کی طرف آتے ہیں کہ روز مرہ مشاہدے میں ہمیں چیزیں عام حالت میں کیوں ملتی ہیں ، تو اِس کا جواب سائنس دان یوں دیتے ہیں کہ کوانٹم کی سطح پر ذرات چونکہ لہروں کے انداز میں حرکت کرتے ہیں اِس لیے اُن کے مقام کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا جبکہ نارمل حجم کی اشیا کی حرکت میں ویولنتھ اِس قدر معمولی ہوتی ہے کہ اس کا احساس ہی نہیں ہوپاتا۔کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ کائنات کی گتھی کوانٹم میکینکس کے کسی تجربے سے ہی سلجھے گی کیونکہ سائنس دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایٹمی سطح پرالیکٹرون اورنیوٹرون کی گردش اور خلا میں اجرام فلکی کے گھومنے میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ سو میں یہ سوال آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایٹم کے اندر بھی ایک کائنات پوشیدہ ہوجو ہماری نظروں سے اوجھل ہو یا پھر ہم کسی دوسری کائنات کا محض ایک ایٹمی ذرہ ہوں؟ غیر یقینی کائنات میں سب کچھ ہی تو ممکن ہے!

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے