بزرگ صحافی اور تاریخ کا امتحانی پرچہ

میر صاحب 1810ء میں رخصت ہوئے تھے۔ اس دوران فلک نے کیسا کیسا انقلاب دیکھا، اجداد پہ کیا گزری اور خود ہماری محضر پر کیسا کیسا نوشتہ مْہر کیا گیا۔ خدائے سخن کے نشتر کی کاٹ مگر بدستور حقیقت کی پرتیں وا کئے جاتی ہے۔ فرمایا، ’عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا / اگلے زمانے میں تو یہی لوگوں کی رسم و عادت تھی‘۔ اور یہ اگلا زمانہ کوئی ایسا زیادہ پرانا بھی نہیں۔ کوئی چالیس برس پہلے لاہور میں گورنمنٹ کالج تک باریابی نصیب ہوئی تو بزم کو برہم ہوئے زیادہ مدت نہیں گزری تھی۔ بہار کی صبحوں میں املتاس کے پھولوں سے سجی کسی روش پر گاہے گاہے وہ روشنی بھی نظر آ جاتی تھی جسے ڈاکٹر نذیر احمد کہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے کلام کی تاب مگر ہم ایسے خاک نشینوں کو نہیں تھی۔ ہمیں صابر لودھی صاحب سے فیض اٹھانے کا زیادہ موقع ملا۔

ایسی ہی کسی مجلس میں ایک روز استاد مکرم نے سنہ 62 کا ایک قصہ سنایا تھا۔ فرمایا کہ جھنگ سے طارق محمود نام کا ایک نوجوان انگریزی ادب اور فارسی میں بی اے کر کے لاہور پہنچا۔ فلسفے میں ایم اے کا ارادہ تھا۔ داخلے میں شاید کوئی تکنیکی اڑچن تھی مگر ڈاکٹر نذیر احمد نے 22 سالہ نوجوان میں امکان کی جھلک دیکھ لی تھی۔ داخلے کی سبیل ہی پیدا نہیں کی بلکہ راوی کی ادارت بھی سونپ دی۔ اس طالب علم نے بعد ازاں محمود شام کے نام سے صحافت میں مقام پیدا کیا، گیسوئے سخن کی آب بڑھائی۔ درویش کا غائبانہ تعارف غالباً 1978 میں ہفت روزہ معیار کے کسی شمارے میں بیگم بھٹو کے انٹرویو سے ہوا تھا۔ نصرت بھٹو کی گفتگو میں گندم کی قیمت اور کپاس کی پھُٹیّ کا تذکرہ تھا۔ آمریت سے پنجہ آزمائی کا عزم تھا۔ بھٹو صاحب قید تھے اور قوم کو نظر بند کیا جا چکا تھا۔ ایسے میں کوئی بھٹو کا نام بھی لیتا تو ہمیں تانتیا ٹوپے معلوم ہوتا تھا۔ یہ صحافت میں منہاج برنا، احفاظ الرحمن، نثار عثمانی اور جوہر میر کے دن تھے۔ محمود شام نے ہمارے دل جیت لیے۔

بہت برس بعد محمود شام کی تحریروں کا رنگ بدلتا ہوا محسوس ہوا۔ فرد کی تھاہ پانا مشکل ہے۔ ندی کنارے دیا جلت ہے، کیا جانوں کیا ہوئے/ جے کے کارن بھئی جوگیا، وہی نہ جلتا ہوئے۔ گزشتہ روز مکرم محمود شام کی ایک تحریر دیکھی۔ تحریک عدم اعتماد کے پس منظر میں ’متبادل قیادت‘ سے اٹھائیس سوال پوچھے ہیں۔ سوال برمحل ہیں لیکن ایک احساس نے آ لیا۔ اگر سیاسی قیادت کا کوئی حصہ ’متبادل‘ قرار پاتا ہے تو فریق اولیٰ کون ہے۔ اگرچہ محترم صحافی نے موجودہ حکومت کی معاشی ناکامی کا اعتراف کیا ہے لیکن زیر متن پیغام تو حزب اختلاف پر فرد جرم معلوم ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اس ملک میں حکومت اور حزب اختلاف کے بیچ ایک تیسرا عامل بھی تو موجود ہے جس کا ذکر محمود شام نے بھی جنرل عبدالوحید کاکڑ کے حوالے سے کیا ہے۔ سوال ہے کہ نواز شریف حکومت کے خلاف محترمہ بے نظیر بھٹو کے لانگ مارچ پر جنرل کاکڑ کو کس دستوری شق کے تحت رائے دہی کا استحقاق تھا۔ درویش نے نتیجہ نکالا کہ سیاسی رستا خیز کے کسی ایک فریق سے یک طرفہ جوابدہی جمہوری فریم ورک سے انصاف نہیں۔ دراصل تو ہمیں اپنی تاریخ کا امتحانی پرچہ مرتب کرنا چاہیے۔ آئیے محمود شام کے کچھ بنیادی سوالات کا جائزہ لیں۔

پارلیمانی جمہوریت میں تمام سیاسی جماعتیں اپنا ایک پالیسی تشخص رکھتی ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا حزب اختلاف کا جمہوری حق ہے اور یہ حق کسی متبادل لائحہ عمل سے مشروط نہیں۔ محمود شام پوچھتے ہیں کہ حزب اختلاف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرے گی یا اس پروگرام کو منسوخ کر دے گی۔ آئی ایم ایف سے رجوع نہ کرنے کا اعلان تو عمران خان نے کیا تھا مگر یہ کہ جولائی 2019ء میں اسی کوئے ملامت میں پہنچے جہاں قوم پہلی مرتبہ 8 دسمبر 1958ء کو پچیس ہزار ڈالر کی مالی مدد لینے گئی تھی۔ 1980ء میں آئی ایم ایف کے قرض کا حجم پہلی مرتبہ ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کو پہنچا تھا۔ دسمبر 2001ء میں دوسری مرتبہ آئی ایم ایف کی معاونت ایک ارب ڈالر سے متجاوز ہوئی۔ 2008ء میں ایک طرف عالمی کساد بازاری کا بحران تھا اور دوسری طرف نو سالہ آمریت کی پرچھائیاں تھیں۔ چنانچہ سوا سات ارب ڈالر کی مدد لی گئی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 22 مرتبہ قرض کے معاہدے کئے ہیں۔ اس روایت کی جڑیں ہماری معیشت کی غیر پیداواری نوعیت اور غیرحقیقی معاشی ترجیحات میں ہیں۔

مستقبل قریب میں ملکی معیشت کے خود کفیل ہونے کا دور دور تک امکان نہیں۔ آئی ایم ایف سے چھٹکارا پانا ایک سیاسی نعرہ نہیں، قومی نصب العین کو ازسرِنو مرتب کرنے کا سوال ہے۔ محمود شام اربوں ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی سے انکار یا تاخیر کا سوال کرتے ہیں۔ یہ نہیں بتاتے کہ بیرونی دنیا سے کس برتے پر تتا پانی مانگا جائے گا۔ فیٹف کے کٹہرے میں صفائی دینے کا سوال سیاسی قیادت کی بجائے ان طاقتوں سے کرنا چاہیے جنہوں نے 1979ء، 1989ء اور 2002ء میں خارجہ پالیسی کے تباہ کن خدوخال مرتب کئے تھے۔ سیاسی قیادت نے تو 2015ء میں فیٹف کی سفید فہرست میں واپسی کا راستہ نکال لیا تھا۔ جون 2018 ء میں پھر سے گرے لسٹ میں واپسی کا سوال ہائبرڈ بندوبست کا نقشہ جمانے والوں سے کیا جانا چاہیے۔ محمود شام کے سوالات کی فہرست طویل ہے لیکن بنیادی سوال یہ پوچھا ہے کہ ملک کے مقتدر اداروں سے کیسے تعلقات رکھیں گے۔ گستاخی معاف پاکستان کا ایک شہری یہ پوچھنے کی اجازت چاہتا ہے کہ دستور میں ’مقتدر اداروں‘ کا ذکر کہاں پایا جاتا ہے۔ صحافی استغاثے یا دفاع کا وکیل نہیں، جمہوری بساط پر قوم کی آواز ہے۔ صحافی کو ایک فریق سے جرح کرنے کی بجائے قومی تاریخ کی تقویم مرتب کرنی چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے