تبدیلی کی ہوائیں
لیاقت علی خان کی شہادت ہماری تاریخ میں وہ نقطہ تھا جہاں غیر سیاسی قوتوں کے اونٹ نے سادھارن عوام کے خیمے میں گردن داخل کر لی۔ خواجہ ناظم الدین نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی اور روہیل کھنڈ ریلوے میں اسسٹنٹ آڈٹ افسر کی ملازمت سے عملی زندگی شروع کرنے والے غلام محمد پاکستان کے گورنر […]
خاتون کے سر میں کیل اور قوم کے چوراہے میں ہاتھی
گورنمنٹ کالج لاہور ایک درس گاہ نہیں، ہمارے تمدنی ارتقا کا اشاریہ تھا۔ ’’جاننے کی جستجو‘‘ اس ادارے کا اعلان ہی نہیں تھا، یہاں کی ایک ایک اینٹ پر علم، تحقیق اور تخلیق کے نشان ثبت تھے۔ مولانا آزاد، آرنلڈ، اقبال، گنگا رام، پطرس، صوفی تبسم، عبدالسلام، ڈاکٹر نذیر، پروفیسر سراج، خواجہ منظور، فیض، راشد، […]
جہاں ادیب مر جاتا ہے
اب میں آپ کو چھ دہائی پرانی حکایت کیا یاد کراؤں کہ محمد حسن عسکری ایک مختصر سے شذرے میں اردو ادب کی موت کا اعلان کر کے مفتی محمد شفیع کے صحبت نشین ہو گئے تھے۔ مرحوم عسکری صاحب نے کچھ ایسی ہی افتاد پائی تھی۔ پاتال اور ثریا کے بیچ کہیں پڑاؤ کے […]
پاکستان میں سول سوسائٹی کی موت؟
عجیب موسم ہے۔ گویا اماوس کی رات میں دھند نے سارے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ادھر ہردے کے بندی خانوں میں دل ایسے خالی ہیں گویا متروکہ گھروں کے دالان۔ اندیشوں کی چاپ تک نہیں۔ ناگزیر سے آشنائی ہو جائے تو وقت کے ظلم سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ نا امیدی کی سفاک […]
قومی سلامتی اور ناخداؤں کی خواب فروشی
ٹوپی سے کبوتر نکالنا، رائی کا پہاڑ بنانا اور کمرے میں موجود ہاتھی سے انکار کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔ ہمارے قومی رہبر عمران خان اور قومی مفکر معید یوسف نے ملکی تاریخ میں ’پہلی قومی سلامتی پالیسی‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ’سنگ میل‘ عبور کرتے ہوئے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ’معاشی […]
قائد اعظم کی عینک اور دیگر مال مسروقہ
اس برس اکبر الہ آبادی کی وفات پر ایک صدی گزر گئی۔ 1846 میں پیدا ہونے والے اکبر الہ آبادی نے 1857 ء کا ہنگامہ بھی مشاہدہ کیا اور پہلی عالمی جنگ بھی دیکھی۔ اکبر اردو ادب میں قدامت پسندی کی اولین آوازوں میں سے تھے۔ سرسید، علی گڑھ تحریک اور آزادی نسواں کے سخت […]
عقل مند لوگو! معیشت ہی میں راہ نجات ہے
مارچ 1971 ءکے دن تھے جب قائد اعظم کے پاکستان کی بنیاد کھودی جا رہی تھی۔ مشرقی پاکستان میں شفیع الاعظم چیف سیکرٹری تھے جنہیں عملی طور پر حکومت اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ ایک اعلیٰ فوجی افسر نے خانہ جنگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش […]
شارق جمال خان کی خرد پسندی
پطرس کے مضامین ہم سب نے پڑھ رکھے ہیں۔ اردو مزاح کی یہ کلاسیک تصنیف 1927 ءمیں شائع ہوئی جب پطرس کیمبرج سے انگریزی ادبیات میں ٹرائی پوز مکمل کر کے لاہور لوٹ آئے تھے۔ یہ بات قدرے کم معروف ہے کہ برطانیہ میں قیام کے دوران پطرس بچوں کے منفرد رسالے پھول کے لئے […]
سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟
نومبر کا تیسرا ہفتہ بالآخر گزر گیا۔ یہ اور بات کہ ہمارے سیاسی بحران، معاشی مسائل اور داخلی امن وسلامتی کی گْتھیاں وا نہیں ہوئیں۔ خرابی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے […]
سیاست اور سیاست دان کو برا کہنے کی روایت
اگر آپ نے مختلف تعلیمی درجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کے اردو اخبارات میں انٹرویو پڑھے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ ان نونہالوں سے ایک سوال سیاست دانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے اور ان ہونہاروں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: ’ہمیں سیاست سے […]