جمعہ : 15 مئی 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]بھارت میں مسلمانوں کو قربانی کا بکرہ بنا یا جارہا ہے[/pullquote]

مذہبی آزادی سے متعلق ايک امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ جب دنیا کورونا بحران سےگزر رہی ہے، بھارت کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان کے حقوق کے تحفظ کو يقينی بنائے۔ ’یونائٹیڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم‘ (یو ایس سی آئی آر ایف) نے کووڈ 19 کی وبا کے دوران بھارتی مسلمانوں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اسی لیے اسے انتہائی تشویشناک صورتحال والے ممالک کی فہرست ميں رکھا گيا ہے۔

[pullquote]تعلقات ختم کرنے کی امريکی دھمکی اور چينی رد عمل[/pullquote]

تعلقات منقطع کرنے کی امريکی صدر کی دھمکی کے رد عمل ميں چين نے کہا ہے کہ امريکا اور چين کے مابين اچھے اور مستحکم باہمی تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد ميں ہيں۔ چينی وزارت خارجہ کی يوميہ بريفنگ ميں کہا گيا ہے کہ بہتر تعلقات استوار کرنے کے ليے امريکا کو چين کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ قبل ازيں جمعرات کو نشر کردہ اپنے ايک انٹرويو ميں ڈونلڈ ٹرمپ نے چين کو ايک مرتبہ پھر وائرس کے پھيلاؤ کا ذمہ دار قرار ديا۔ ٹرمپ کے بقول چينی حکام نے ابتدائی دنوں ميں وائرس کی شدت اور اس کے پھيلاؤ کے حوالے سے اہم معلومات پر پردہ ڈالا، جس کی وجہ سے بعد ميں اسے سنبھالا نہ جا سکا۔ انہوں نے اس انٹرويو ميں چين کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی بھی دی۔

[pullquote]مغربی کنارے کے مزيد حصوں کو اسرائيل ميں ضم کرنے کا منصوبہ[/pullquote]

يورپی يونين کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ آج اس بارے ميں بحث کر رہے ہيں کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے مزيد حصوں کو ضم کرنے کے اسرائيلی منصوبوں پر کيا موقف اختيار کيا جائے۔ يورپی بلاک کی خارجہ پاليسی کے چيف جوزف بوريل نے کہا ہے کہ اس معاملے پر مختلف وزراء کی رائے بھی منقسم ہے۔ اسرائيل ميں نئی کوليشن حکومت اتوار کو حلف اٹھائے گی۔ معاہدے کے تحت مغربی کنارے کے مزيد حصوں کو ضم کرنے کا منصوبہ يکم جولائی تک پيش کيا جا سکتا ہے۔ يورپی يونين مقبوضہ علاقوں ميں اسرائيلی آباد کاری کی ايک عرصے سے مذمت کرتی آئی ہے۔

[pullquote]ہانگ کانگ ميں پوليس واچ ڈاگ کی رپورٹ جاری[/pullquote]

ہانگ کانگ ميں اعلی ترين پوليس واچ ڈاگ نے جمہوريت نواز مظاہروں ميں پوليس کے کردار پر رپورٹ جاری کر دی ہے، جس ميں پوليس کو طاقت کے ناجائز استعمال اور اور ديگر کئی الزامات سے بری کر ديا گيا ہے۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ ميں البتہ يہ ضرور کہا گيا ہے کہ پوليس کی کارکردگی ميں بہتری کی گنجائش ہے۔ رپورٹ ميں چھ ايسے واقعات کا جائزہ ليا گيا جن ميں سراپا احتجاج بنے ہوئے مظاہرين زخمی ہوئے تھے۔ واچ ڈاگ کی رپورٹ ميں باون تجاويز بھی پيش کی گئی ہيں۔ ايک متنازعہ بل پر ہانگ کانگ ميں پچھلے جون ميں وسيع تر مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

[pullquote]کورونا وائرس کا پھيلاؤ جاری، ہلاکتيں تين لاکھ سے متجاوز[/pullquote]

دنيا بھر ميں نئے کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد ساڑھے چار ملين کے قريب پہنچ چکی ہے جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد بھی اب تين لاکھ سے متجاوز ہے۔ چينی شہر ووہان سے گزشتہ برس کے اختتام پر پھيلنے والے اس وائرس نے امريکا کو سب سے زيادہ متاثر کيا ہے۔ وہاں متاثرين کی تعداد چودہ لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پچاسی ہزار سے زائد ہے۔ امريکا کے بعد کووڈ انيس سے سب سے زيادہ مریض برطانيہ ميں ہلاک ہوئے ہيں، وہاں ہلاکتيں ساڑھے تينتيس ہزار سے بھی زيادہ ہيں۔ تقريباً سولہ لاکھ افراد اس بيماری سے صحت ياب بھی ہو چکے ہيں۔

[pullquote]بھارت:کورونا سے متاثرین کی تعداد82 ہزار سے متجاوز[/pullquote]

بھارتی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پندرہ مئی تک کووڈ انیس کے متاثرین کی تعداد بياسی ہزار سے زائد ہو چکی ہے جبکہ چھبيس سو سے زيادہ افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ گزشتہ چوبيس گھنٹوں کے دوران ملک ميں تقريباً چار ہزار نئے کیسز سامنے آئے اور ايک سو لوگوں کی موت ہوئی۔ بھارت ميں گزشتہ دو دنوں میں دس ہزار سے زائد افراد نئے کورونا وائرس کا شکار بن چکے ہيں۔ ادھر اپوزیشن کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت کورونا سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔

[pullquote]روہنگيا مہاجرين کے کيمپوں ميں کووڈ انيس کا اولين کيس[/pullquote]

بنگلہ ديش ميں روہنگيا مہاجرين کے کيمپ ميں کووڈ انيس کے اولين کيس کی تشخيص ہوئی ہے۔ ملکی ريفيوجی کمشنر محبوب عالم تالوکدر نے بتايا کہ روہنگیا کميونٹی کے متاثرہ شخص اور اس کے ساتھ رابطے ميں آنے والے کوکس بازار کے ايک اور مقامی شخص کو قرنطينہ کر ديا گيا ہے۔ کوکس بازار ميں فی اسکوئر کلوميٹر چاليس ہزار سے زائد افراد مقيم ہيں جبکہ مجموعی طور پر ايک ملين سے زائد روہنگيا مہاجرين اس علاقے ميں پناہ ليے ہوئے ہيں۔ امدادی کارکن خبردار کرتے آئے ہيں کہ ان کيمپوں ميں کووڈ انيس کی آمد انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

[pullquote]افريقہ ميں کووڈ انيس سے ڈيڑھ لاکھ اموات کا خدشہ، ڈبليو ايچ او[/pullquote]

عالمی ادارہ صحت نے سائنسی ماڈلنگ کی مدد سے پيشن گوئی کی ہے کہ بر اعظم افريقہ ميں نيا کورونا وائرس ڈيڑھ لاکھ اموات کا باعث بن سکتا ہے۔ آئندہ بارہ ماہ کے دوران مختلف افريقی ملکوں ميں 231 ملين افراد اس وائرس ميں مبتلا ہو سکتے ہيں۔ جمعے کو چھپنے والے اس مطالعے ميں يہ بھی بتايا گيا ہے کہ يورپ اور امريکا کے مقابلے ميں افريقہ ميں انفيکشن ريٹ کم رہے گا جبکہ بيماری کی شدت اور شرح اموات بھی دنيا کے ديگر حصوں سے کم رہنے کا امکان ہے۔ افريقہ ميں ساڑھے چار ملين افراد کو کووڈ انيس کے باعث ہسپتالوں ميں داخل کرانا پڑ سکتا ہے۔ ڈبليو ايچ او نے يہ مطالعہ ايسے خدشات کے تناظر ميں کرايا ہے کہ ترقی پذير ملکوں ميں کمزور طبی ڈھانچوں کے باعث مقامی آباديوں کو زيادہ خطرہ لاحق ہے۔

[pullquote]فلپائن ميں طاقت ور سمندری طوفان[/pullquote]

فلپائن ميں طاقتور سمندری طوفان کے باعث ڈيڑھ لاکھ کے قريب افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہنگامی مراکز ميں پناہ لينا پڑی۔ ٹائيفون وونگ فونگ سمر جزيرے پر تباہی مچا چکا ہے اور اس کی راہ ميں آنے والے بيشتر حصوں ميں مکانات وغيرہ کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہيں ہوئی ہے۔ کووڈ انيس کے پھيلاؤ سے بچنے کے ليے امدادی کارکنوں کو حفاظتی تدابير کا بھی خيال رکھنا ہے، جس سبب ريسکيو کی سرگرميوں ميں دشوارياں پيش آ رہی ہيں۔

[pullquote]افغانستان ميں ہونے والے حملوں ميں داعش کا ہاتھ ہے، زلمے خليل زاد[/pullquote]

امريکا نے افغانستان ميں اس ہفتے ہونے والے دوہرے حملوں کا الزام اسلامک اسٹيٹ پر عائد کيا ہے۔ افغانستان کے ليے خصوصی امريکی مندوب زلمے خليل زاد نے جمعے کو ٹوئٹر پر اپنے ايک پيغام ميں لکھا کہ تجزيے سے پتا چلتا ہے کہ ان حملوں ميں داعش ملوث ہے۔ انہوں نے مزيد لکھا کہ اسلامک اسٹيٹ ايسے حملے کرتی آئی ہے اور اس تنظيم سے نہ صرف افغان شہريوں بلکہ دنيا کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ کابل ميں ايک زچگی وارڈ اور صوبہ ننگر ہار ميں ايک جنازے پر اس ہفتے ہونے والے حملوں ميں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کابل کے ہسپتال پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والوں ميں کئی نامولود بچے اور عورتيں بھی شامل تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے