عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں الفاظ بھی ہتھیار بن چکے ہیں اور خاموشی بھی پیغام دیتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر موجودہ حالات میں یہ تنازع ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ملک نے سنجیدگی، تدبر اور غیر جانبداری کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کیا ہے تو وہ پاکستان ہے اور یہی کردار آج دنیا کی امید بن چکا ہے۔
جب تک امریکہ اور ایران دونوں کو ثالث پر اعتماد حاصل ہے، مذاکرات کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ یہی اعتماد وہ بنیادی ستون ہے جس پر امن کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر خدانخواستہ سخت بیانیہ، طاقت کے زعم یا ہٹ دھرمی غالب آ گئی اور مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ نہ ہو سکا، تو اس کے نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں کبھی مکمل حل نہیں دیتیں۔ جدید دور کی جنگوں میں نہ کوئی مکمل فاتح ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مکمل شکست خوردہ۔ اگر دوبارہ جنگ کا آغاز ہوا تو یہ محض تباہی، انسانی جانوں کے ضیاع، معاشی بحران اور خطے میں عدم استحکام کا سبب بنے گی۔ بالآخر، کچھ وقت بعد، فریقین کو دوبارہ سیز فائر کی طرف آنا پڑے گا اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی ہو گا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل تباہی کے بعد ہو یا دانشمندی کے ساتھ پہلے ہی اختیار کر لیا جائے؟
پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے۔ اپنی جغرافیائی حیثیت اور سفارتی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے، پاکستان نہ صرف ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی امن میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اسلام آباد کی فضا میں اگر ایک بار پھر مذاکرات کی خوشبو بکھرتی ہے، تو یہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہو گا۔
دونوں ممالک کی بالغ نظر قیادت سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت کو ترجیح دیں گے۔ پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرتے ہوئے اسلام آباد کے مذاکرات میں شرکت کریں گے اور ایک ایسے حل کی جانب بڑھیں گے جو نہ صرف ان کے اپنے مفاد میں ہو بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر ہو۔
آج دنیا کو جنگ نہیں، مکالمہ چاہیے۔ اور یہ مکالمہ اگر کہیں ممکن ہے، تو وہ اسلام آباد ہی ہے۔