چین میں کتب بینی کو محض ایک ذاتی عادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ثقافتی رجحان کی صورت بنا نے کی کوششیں ہر گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں ۔ حالیہ برسوں میں اس رجحان کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریاستی سطح پر بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں 20 سے 26 سے اپریل کے چوتھے ہفتے کو "قومی ہفتۂ مطالعہ ” قرار دینا ایک اہم پیش رفت ہے۔20 سے 26 اپریل تک منایا جانے والا یہ ہفتہ نہ صرف مطالعے کے فروغ کا مظہر ہے بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش بھی ہے جو علم، شعور اور فکری بالیدگی کو اپنی بنیاد بنائے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ کا ایک حالیہ مضمون بھی اسی تناظر میں کمیو نسٹ پارٹی آف چائنا کے جریدے ” چھیو شی ” میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے لوگوں کو مطالعے کی جانب راغب کرنے اور ایک کتاب دوست معاشرہ کے قیام کے لئے اپنے وژن کی وضاحت کی ہے ۔یہ مضمون اس بات پر زور دیتا ہے کہ مطالعہ افراد کی فکری سطح کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی روحانی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔
چین میں کتب بینی کے رجحان کا اندازہ مختلف اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف پریس اینڈ پبلیکیشن کی رپورٹس کے مطابق شہریوں کی سالانہ مطالعے کی اوسط شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں ایک عام شہری سالانہ کئی کتابیں اور درجنوں ڈیجیٹل مضامین پڑھتا ہے۔ ڈیجیٹل ریڈنگ پلیٹ فارمز اور موبائل ایپس نے بھی اس رجحان کو تیز کیا ہے، جس سے نوجوان نسل میں مطالعہ مزید مقبول ہوا ہے۔
چین میں ڈیجیٹل رجحان کے بڑھنے کے باوجود کتب بینی کی مجموعی شرح مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ 2025 میں بالغ شہریوں کی جامع شرح مطالعہ 82.3 فیصد تک پہنچی ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں “ریڈنگ کلچر” تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف پریس اینڈ پبلیکیشن کے سروے کے مطابق فی کس مطالعہ (پرنٹ اور ڈیجیٹل) 8.39 کتب تک جا پہنچا ہے ، جبکہ ڈیجیٹل مواد کی تعداد 7 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔
ڈیجیٹل ریڈنگ خاص طور پر مقبول رہی، جہاں 80.8 فیصد افراد نے ای بکس، آڈیو بکس اور ویڈیو ریویوز سے استفادہ کیا، اور گزشتہ پانچ برسوں میں اس مارکیٹ کا حجم تقریباً دگنا ہو کر 59.48 ارب یوان تک پہنچ گیا ہے ۔ اس کے باوجود روایتی کتب کی اہمیت برقرار ہے اور 45.9 فیصد افراد اب بھی پرنٹڈ کتابوں کو ترجیح دیتے ہیں، خصوصاً ادب کے میدان میں۔
چین کے بڑے کتب خانے اس ثقافتی تحریک کا مرکزی ستون ہیں۔” نیشنل لائبریری آف چائنا "ایشیا کے سب سے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کروڑوں کتب اور ڈیجیٹل وسائل موجود ہیں۔ اسی طرح شنگھائی لائبریری اور گوانگچو لائبریری نہ صرف مطالعے کے مراکز ہیں بلکہ جدید عوامی ثقافتی مقامات بھی بن چکے ہیں جہاں لیکچرز، نمائشیں اور مطالعاتی سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں۔
کتابوں کی فروخت اور مطالعے کے فروغ میں بڑے بک اسٹورز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔” شنہوا بک اسٹور ” ملک بھر میں پھیلا ہوا ایک وسیع نیٹ ورک ہے، جبکہ دیگر کئی بڑے اسٹؤرز اپنی منفرد طرزِ تعمیر اور دلکش ماحول کی وجہ سے نوجوانوں کو مختلف شہروں اور علاقوں میں خاص طور پر متوجہ کرتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے بیجنگ کے وانگ فو جنگ اسٹور جانا ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس کثیر منزلہ بک اسٹور میں کتب کے حوالے سے کئی اور اہم مصنوعات جیسے قلم ،بک مارکس ،ڈائریز اور اسی طرح کی دیگر کئی چیزیں وسیع اقسام میں موجود تھیں ۔
چین میں کتب بینی کے فروغ کی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔ 1995 میں "قومی مطالعہ مہم ” کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد 2006 سے ہر سال 23 اپریل کو عالمی یومِ کتاب کے ساتھ بڑے پیمانے پر تقریبات منعقد ہونے لگیں۔ اب 2026 میں اس کو مزید وسعت دیتے ہوئے پورا ہفتہ مطالعے کے نام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین مطالعے کو قومی ترقی کے ایک کلیدی جزو کے طور پر دیکھتا ہے۔
چین کی ریاستی کونسل کی نئی پالیسی کے تحت لائبریریوں، ٹرانزٹ ہبز ، پارکس اور شاپنگ مالز میں عوامی مطالعہ گاہیں قائم کی جائیں گی، جبکہ بچوں، بزرگوں، معذور افراد اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور ڈیجیٹل دونوں طرز کے مطالعے کو فروغ دیا جائے گا، مگر خاص زور معیاری مواد کے انتخاب پر ہوگا۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین ایک “کتاب دوست معاشرہ” تشکیل دینے کے سفر پر گامزن ہے۔ یہاں مطالعہ محض علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور، تہذیبی تسلسل اور قومی ترقی کا اہم ستون بن چکا ہے۔ قومی ہفتۂ مطالعہ اسی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے، جو آنے والی نسلوں کو علم کی روشنی سے جوڑنے کا عزم لیے ہوئے ہے۔