‎ مائیک، میڈیا اور خاموشی کا سبق

‎پاکستانی معاشرے میں رائے دینا ہمیشہ سے ایک اہم روایت رہی ہے، مگر پچھلے چند برسوں میں یہ روایت ایک عجیب اور خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے۔ اب ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں مائیک آ جائے، خود کو صحافی، تجزیہ کار اور سچ کا علمبردار سمجھنے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو آسان بنایا، وہیں اس نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو، ذاتی حملوں اور سطحی سوالات کو بھی فروغ دیا۔ ایسے ماحول میں بعض اوقات وہ لوگ جو پہلے تنقید کا نشانہ بنتے رہے، وہی ہمیں برداشت، صبر اور وقار کا سبق سکھا جاتے ہیں۔

‎بے شک یہ میرے دل کی بات ہے کہ بطور ایک شخصیت یا اداکارہ کبھی بھی میرا میری پسندیدہ فہرست میں شامل نہیں رہیں۔ ان کے دور میں ریما اور صاحبہ جیسی اداکارائیں زیادہ سنجیدہ، باوقار اور متوازن نظر آتی تھیں۔ میرا کے کیریئر کے دوران مختلف تنازعات اور اسکینڈلز بھی سامنے آئے، جنہوں نے ان کے بارے میں عمومی رائے کو مزید متاثر کیا۔ مگر زندگی کا حسن یہی ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی سابقہ رائے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور یہی کچھ حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملا۔

‎حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں معروف اینکر اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی میزبان تھے اور مہمان کے طور پر میرا کو مدعو کیا گیا تھا۔ بظاہر یہ ایک عام انٹرویو ہونا چاہیے تھا، مگر اس میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے میڈیا کلچر کی ایک تلخ مگر سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ سوالات کا انداز، لہجہ اور بعض مواقع پر طنز و تضحیک کا پہلو ایسا تھا جس نے اس گفتگو کو محض ایک انٹرویو سے نکال کر ایک سماجی بحث میں بدل دیا۔

‎ارشاد بھٹی اپنی تیز زبان اور بے باک سوالات کے لیے جانے جاتے ہیں، مگر اس پوڈکاسٹ میں کئی مقامات پر ایسا محسوس ہوا کہ سوالات معلوماتی یا تجزیاتی ہونے کے بجائے ذاتی نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔ ایسے میں عام طور پر ایک مہمان دفاعی ہو جاتا ہے، غصے میں آ جاتا ہے یا پھر انٹرویو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک مختلف منظر دیکھنے کو ملا۔

‎میرا نے جس بردباری، تحمل اور وقار کے ساتھ ان سوالات کا سامنا کیا، وہ واقعی حیران کن تھا۔ نہ انہوں نے آواز بلند کی، نہ تلخ جواب دیا، نہ ہی کسی قسم کی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ کئی مواقع پر انہوں نے خاموشی کو اپنا ہتھیار بنایا، مسکرا کر بات کو ٹال دیا یا موضوع بدل دیا۔ یہ رویہ محض ایک اداکارہ کا ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سبق تھا جسے بڑے لوگ اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیں گے۔

‎یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: کیا ہر سوال کا جواب دینا ضروری ہے؟ کیا ہر مائیک پکڑنے والا شخص اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا کر سوال کرے اور سامنے والا جواب دینے کا پابند ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ نہیں۔ ہرگز نہیں۔

‎آج کے دور میں صحافت ایک مقدس پیشہ ہونے کے بجائے ایک ایسی کھلی منڈی بن چکی ہے جہاں دو ہزار روپے کا مائیک خرید کر، ایک یوٹیوب چینل بنا کر، کوئی بھی شخص خود کو صحافی کہلوانے لگتا ہے۔ نہ تربیت، نہ اخلاقیات، نہ پیشہ ورانہ اصول بس سوالات کی بارش اور ویوز حاصل کرنے کی دوڑ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں میڈیا ریفارم کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے میدان میں۔

‎اس پوڈکاسٹ نے ایک اور اہم حقیقت کو بھی اجاگر کیا: خاموشی کی طاقت۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جواب دینا ہی بہادری ہے، مگر کئی مواقع پر خاموش رہنا، نظر انداز کرنا اور خود کو اس سطح سے بلند رکھنا اصل جیت ہوتی ہے۔ جب سوال کرنے والا حد سے تجاوز کرے اور جواب دینے والا وقار برقرار رکھے، تو وقت خود فیصلہ سنا دیتا ہے کہ کون بہتر تھا۔

‎اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی خاموشی ایسا جواب ہوتی ہے جو سوال کرنے والے کو آئینہ دکھا دیتی ہے۔ اس پوڈکاسٹ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ کئی مواقع پر محسوس ہوا کہ سوال اپنی اہمیت کھو بیٹھے اور سوال کرنے والا خود اپنی پوزیشن کمزور کر بیٹھا، جبکہ میرا کا وقار مزید نمایاں ہوتا گیا۔

‎یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی غیر روایتی شخصیت نے ہمیں اہم سبق دیا ہو۔ اس سے قبل چاہت فتح علی خان بھی اپنی منفرد شخصیت اور انداز کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتے رہے، مگر ان کی خود اعتمادی اور مسلسل مزاحمت نے انہیں ایک الگ مقام دلایا۔ اب میرا کا یہ رویہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بن گیا ہے۔

‎یہاں سوال یہ نہیں کہ ہم میرا کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ان کے اس رویے سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر طرف شور ہو، جہاں ہر کوئی بول رہا ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنا اور خود کو غیر ضروری بحث سے دور رکھنا ایک بڑی حکمت ہے۔

‎پاکستان میں میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا، اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہر روز نئے پوڈکاسٹ، نئے چینلز اور نئے “تجزیہ کار” سامنے آ رہے ہیں۔ مگر معیار، تحقیق اور ذمہ داری کا فقدان واضح ہے۔ کسی کی ذاتی زندگی کو اچھالنا، غیر متعلق سوالات پوچھنا اور مہمان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنا اب ایک عام روش بن چکی ہے۔

‎ایسے ماحول میں اگر کوئی شخصیت وقار کے ساتھ خود کو سنبھالتی ہے، تو وہ نہ صرف خود کو بلکہ پورے معاشرے کو ایک مثبت پیغام دیتی ہے۔ میرا نے یہی کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عزت مانگنے سے نہیں، اپنے رویے سے حاصل ہوتی ہے۔

‎ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے لیے واضح ضابطہ اخلاق بنایا جائے، خاص طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے۔ ہر شخص کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کی عزت نفس کو مجروح کریں۔ سوال کرنا صحافت ہے، مگر تضحیک کرنا صحافت نہیں۔

‎اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کے مواد کو دیکھتے ہیں، کس کو فروغ دیتے ہیں اور کس کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اگر ہم غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد کو ویوز دینا بند کر دیں، تو خود بخود اس رجحان میں کمی آ جائے گی‎.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے