پشاور کے اسلامیہ کالج کے سامنے گلی نمبر دو میں ایک ایسا گھر تھا، جس کی یاد آج بھی دل کے دریچوں میں روشنی بن کر جھلملاتی ہے۔ گلی کے آغاز میں ہی شمیم فضل خالق کا گھر آتا تھا اور اس سے چند قدم آگے ہمارا آشیانہ تھا۔ یہ قربت صرف گھروں تک محدود نہ تھی دلوں کا فاصلہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ ان کا تعلق چارسدہ کے گاؤں ابازئی سے تھا۔
شمیم خالق ہمارے لیے ایک پڑوسن تھیں اور اس سے زیادہ محبت، خلوص اور شفقت کی جیتی جاگتی تصویر بھی تھیں۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور لہجے کی مٹھاس آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ ہم بچے روزانہ ان کے گھر جایا کرتے، کبھی کھیل کے بہانے، کبھی بس ان کے پاس بیٹھنے کے لیے۔ ان کے شوہر فضل خالق انکل نہایت سادہ مزاج اور مہربان انسان تھے جو اپنی ڈیوٹی پر روانہ ہو جاتے، جبکہ شمیم خالق گھر میں کتابوں کے ساتھ مصروف رہتیں مگر اس مصروفیت میں بھی ہمارے لیے وقت نکالنا کبھی نہیں بھولتیں۔
قدرت نے انہیں اپنی اولاد سے محروم رکھا تھا، انہوں نے اس کمی کو محبت سے بھر دیا۔ ایک ننھی بچی اندلیب خالق، کو انہوں نے گود لیا تھا اور اس پر ایسی شفقت نچھاور کرتی تھی جیسے وہ ان کے دل کا ٹکڑا ہو۔ اندلیب بہت شوق سے سکول جاتی تھی اور ان کے گھر کے معاملات ایک وفادار ملازم حیات خان سنبھالتا، مگر اس گھر کی اصل رونق شمیم خالق کی موجودگی ہی تھی۔ وہ بہت زیادہ مہمان نواز خاتون تھی اور مہمانوں کا پرجوش استقبال کرتی تھی اور ان کے سامنے دسترخوان پر طرح طرح کی لذیذ کھانے بنا کر پیش کرتی تھی۔
ان کا گھر صفائی، سلیقے اور خوبصورتی کا نمونہ تھا۔ آنگن میں کھلے پھول، ہریالی سے سجا باغیچہ اور ہر کونے میں ترتیب کا حسن نمایاں ہوتا۔ ہمیں ان کے باغ میں کھیلنا، ان کی باتیں سننا اور ان سے کہانیاں سننا بے حد پسند تھا۔ وہ صرف کہانیاں نہیں سناتیں علم کی اہمیت بھی ہمارے دلوں میں بٹھاتیں۔ عید کے دنوں میں ان کا ہمارے گھر آنا تحفے دینا اور محبت بھرا انداز ہمارے لیے خوشیوں کا الگ ہی رنگ لے آتا۔ ان کا مشہور پشتو ڈرامہ “شاندانہ” بھی ہم سب گھر والے شوق سے دیکھا کرتے تھے اور یوں ہمیں فخر محسوس ہوتا کہ ہماری اپنی شمیم آنٹی ایک نامور لکھاری ہیں۔
وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا گیا۔ ہم بڑے ہو گئے پشاور کے حالات نے رخ بدلا اور پھر ایک دن ہم اسلام آباد منتقل ہو گئے۔ فاصلے بڑھ گئے مگر یادیں وہیں کی وہیں رہ گئیں۔ برسوں بعد 2023 میں اسلام اباد میں رات کے دس بجے کے لگ بھگ ایک ادبی، ثقافتی تقریب میں شرکت کی جہاں ایوارڈز دیے جا رہے تھے وہاں ایک چہرہ نظر آیا جو جانا پہچانا سا لگا۔ دل نے گواہی دی کہ یہ وہی شمیم خالق ہیں۔ میں نے قریب جانے کی کوشش کی مگر ہجوم نے راستہ روک لیا۔ پل بھر میں وہ ہال سے نکل گئیں اور یوں ملاقات کی خواہش دل میں ایک ادھوری حسرت بن کر رہ گئی۔ شاید انہوں نے مجھے پہچانا نہ ہو آخر میں اس وقت بہت کم عمر تھی مگر میں آج بھی انہیں ویسے ہی پہچانتی ہوں جیسے کل کی بات ہو۔
آج بھی جب کبھی پشاور جانا ہوتا ہے تو اپنے گھر کی چھت سے ان کے گھر کی طرف نظر ضرور اٹھتی ہے۔ وہی آنگن، وہی دیواریں، مگر افسوس اب ان میں گونجتی آوازیں صرف یادوں میں باقی ہیں۔ انہی یادوں کے تسلسل میں جب ان کی شخصیت کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جس خاتون کو ہم نے ایک شفیق پڑوسن کے طور پر جانا وہ دراصل ادب کے افق پر جگمگاتا ہوا ایک درخشاں ستارہ بھی تھیں۔
محترمہ شمیم فضل خالق واقعی ادب کے آسمان پر چمکنے والا وہ روشن نام تھیں، جن کے لیے پشاور رہائش گاہ ہی نہیں تھی ان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں تک وہ مسلسل تخلیقی سفر میں مصروف رہیں۔ بطور ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ناول نگار اور نثر نگار انہوں نے ادب کے ہر میدان میں اپنی منفرد پہچان قائم کی خاص کر اردو اور پشتو زبانوں میں۔ ادبِ اطفال میں بھی ان کی خدمات نہایت اہم ہیں، جہاں انہوں نے بچوں کے لیے دلنشین کہانیاں لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی فکری تربیت میں بھی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ساتویں جماعت ہی سے بچوں کے رسائل میں لکھنا شروع کیا اور پھر قلم کا یہ سفر کبھی رکا نہیں۔
ان کے افسانے ملک کے معروف ڈائجسٹوں جیسے دوشیزہ، پاکیزہ اور خواتین میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے اور قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی تحریروں میں انسانی جذبات، سماجی مسائل اور خواتین کے داخلی احساسات کی موثر اور خوبصورت عکاسی ملتی ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہیں گئیں۔ انہوں نے اخبارات میں بھی بھرپور لکھا اور پی ٹی وی و ریڈیو کے لیے متعدد یادگار ڈرامے تخلیق کیے۔ کراچی سنٹر کے لیے لکھا گیا ڈرامہ “میلے آئینے”، بچوں کے لیے “دیس دیس کی کہانیاں” اور “سنہری لکیریں” اور خصوصاً پشتو ڈرامہ سیریل “شاندانہ” ان کے فنی کمال کی روشن مثالیں ہیں، جس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
ان کی ادبی تصانیف میں "محبت فاتح عالم” اور چلتی ہوں میں ستاروں پر” شامل ہے اس کے علاؤہ ان کی چار اردو کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، جبکہ وہ مختلف ادبی اور فلاحی تنظیموں سے بھی وابستہ رہیں۔ کاروانِ حوا لٹریری فورم خیبر پختونخوا میں بطور ایگزیکٹو ممبر بھی اپنی خدمات انجام دیتی رہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا جن میں وومن چیمبر ایکسیلینس ایوارڈ، کاروانِ حوا ایکسیلینس ایوارڈ، فاطمہ جناح ایوارڈ اور قومی ایوارڈ برائے ادبِ اطفال نمایاں ہیں۔ مختلف ڈائجسٹوں کی جانب سے بھی انہیں کئی بار سراہا گیا جو ان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔
انتہائی افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ شمیم فضل خالق اب اس دنیا میں نہیں رہیں وہ 20 اپریل 2026 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں، مگر اپنی روشنی پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے ہر دل کو افسردہ اور ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا کیونکہ وہ ایک لکھاری ہی نہیں تھی ایک پورے عہد کا نام تھیں۔ ان کی تحریریں، ان کی مسکراہٹ، ان کا سلیقہ اور ان کی شفقت بھری یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی دلوں میں بستے ہیں وہ انہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کی تمام ادبی و انسانی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ تمام لواحقین اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔