پیر : 22 جون 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]برازیل میں کورونا اموات پچاس ہزار سے بڑھ گئیں[/pullquote]

امریکا کے بعد دنیا میں اب برازیل تیزی سے کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن کر ابھر رہا ہے، جہاں اتوار کو مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر گئی۔ برازیل کے علاوہ لاطینی امریکا کے دیگر ملکوں میکسیکو، پیرو اور چِلی میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں۔ برازیل کے صدر بولسونارو اپنے ملک میں کورونا کے بحران سے نمٹنے میں مبینہ ناکامی پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے شروع سے اس وبا کی سنگینی کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے رہے۔ صدر بولسونارو کا موقف ہے کہ لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں بلکہ کاروبار اور معیشت کے لیے تباہ کن تھا۔

[pullquote]سعودی عرب ميں وبا کے باوجود کرفيو کا خاتمہ[/pullquote]

سعودی عرب نے کوئی تین ماہ کی پابندیوں کے بعد ملک گیر کرفیو اٹھا لیا ہے۔ اتوار کو سینما اور حجام کی دکانوں کو کاروبار دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ مکہ کی مساجد میں بھی اب با جماعت نماز کی اجازت ہے۔ تاہم سعودی عرب میں ابھی کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی پروازوں اور پچاس سے زائد لوگوں کے اجتماعات پر ابھی پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اس سال حج جولائی کے آخری ہفتے میں ہونا ہے تاہم کورونا وبا کے باعث سعودی حکومت ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ حج ہوگا یا نہیں، اور اگر ہوگا تو کتنے محدود پیمانے پر۔ ملائشیا اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک نے کہہ رکھا ہے کہ اس سال ان کے شہری حج پر نہیں جا سکيں گے۔

[pullquote]جرمن شہر میں قرنطینہ توڑنے پر پولیس طلب[/pullquote]

جرمنی کے شہر گوئٹنبرگ میں لوگوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ شہر میں چند روز پہلے کورونا کے درجنوں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے سات سو لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم ہفتے کو دو سو کے لگ بھگ لوگوں نے قرنطینہ توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی اور پولیس پر بوتلوں، پٹاخوں اور سلاخوں سے حملے کیے۔ جرمنی میں اب تک کورونا کے ایک لاکھ نوے ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ آٹھ ہزار آٹھ سو سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

[pullquote]چاقو حملے میں ملوث شخص ذہنی مسائل کا شکار تھا، برطانوی پولیس[/pullquote]

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو روز پہلے لندن سے باہر ریڈنگ کے علاقے میں چاقو حملے میں ملوث شخص ذہنی مسائل کا شکار تھا۔ پچیس سالہ خیری سعد اللہ نے ہفتے کوایک پارک میں لوگوں پر چاقو کے وار کیے تھے۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ برطانوی حکام نے اسے ’دہشت گردی‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حملہ آور کا تعلق لیبیا سے ہے اور اسے حال ہی میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اپنی مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے وہ برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی فائیو کی نظروں میں بھی تھا۔

[pullquote]جلسہ "ناکام” کیوں ہوا؟ صدر ٹرمپ اپنی ٹيم پر ناراض[/pullquote]

امریکا میں صدر ٹرمپ کی تازہ انتخابی ریلی پر تنقید جاری ہے۔ ٹلسا اوکلاہوما میں ہفتے کو ہونے والے جلسے میں شرکا کی تعداد کم دیکھنے میں آئی۔ تین ماہ میں صدر ٹرمپ کی يہ پہلی بڑی انتخابی ریلی تھی۔ مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی تقریر میں نہ کورونا وبا سے متعلق کوئی اہم بات تھی اور نہ ہی امریکا میں نسلی امتیاز پر بڑھتی ہوئی بے چینی پر۔ دونوں ہی معاملات پر انہوں نے کوئی قابل ذکر بات نہيں کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس جلسے میں خالی کرسیوں اور لوگوں کی کم شرکت پر صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

[pullquote]چین اور یورپی یونین کے اعلی سطحی ویڈیو مذاکرات[/pullquote]

یورپی یونین اور چین باہمی کشیدگی کم کرنے کے لیے آج پیر کو ويڈیو لنک پر اجلاس کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کا چین پر الزام ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ڈس انفارمیشن پھیلانے میں بیجنگ کا ہاتھ ہے، جس سے چین مسلسل انکار کرتا آیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چین کی طرف سے صدر شِی جِن پِنگ اور وزیراعظم جبکہ یورپی یونین کی طرف سے یورپی کمیشن اور کونسل کے صدور شرکت کریں گے۔ اس ویڈیو کانفرنس کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کا امکان نہیں۔ اسی دوران جرمنی نے چینی صدر کے ساتھ ستمبر میں متوقع یورپی سربراہی اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر اس کی وجہ کورونا وبا بتائی گئی ہے تاہم اطلاعات ہیں کہ یہ فیصلہ تجارتی تنازعات کے حل میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے