[pullquote]کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد انیس ملین کے قریب[/pullquote]
عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد اب اٹھارہ اعشاریہ نو ملین سے زائد ہو گئی ہے۔ امریکا کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اب تک اس عالمی وبا کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات لاکھ آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس ہو چکی ہے۔ دسمبر 2019 ء میں چینی شہر ووہان میں سامنے آنے والے اس وائرس کی موجودگی کی اب تک دنیا کے دو سو دس خطوں اور ممالک میں تصدیق ہو چکی ہے۔ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے، جہاں اب تک قریب اڑتالیس لاکھ سے زائد افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ یہاں ہونے والی مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ اٹھاون ہزار سے زائد ہیں۔ پاکستان میں دو لاکھ اکیاسی ہزار سے زائد افراد میں اس وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے، جب کہ یہاں اس وبا کے نتیجے میں ہونے والی مصدقہ ہلاکتیں چھ ہزار پینتیس ہیں۔
[pullquote]شمالی کوریا کے رہنما کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ[/pullquote]
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے پر جمعے کو جاری کردہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اُن نے حکام سے کہا کہ وہ متاثرہ افراد کے لیے خوراک کا انتظام کریں اور انہیں پناہ گاہیں مہیا کریں۔ واضح رہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں جزیرہ نما کوریا میں شدید بارشیں ہوئیں ہیں، جس کی وجہ سے شمالی کوریا میں فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ شمالی کوریا کے میڈیا کے مطابق حکام متاثرہ افراد تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی میں مصروف ہیں۔
[pullquote]بھارت میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک[/pullquote]
بھارت میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ لینڈسلائیڈنگ کی وجہ مون سون سلسلے کی بارشیں ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں بیس گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ یہ مکانات چائے اگانے والے مزدوروں کے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے ریسکیو ٹیم روانہ کر دی ہے۔ مٹی کے تودے گرنے اور شدید بارشوں کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
[pullquote]امریکی سینیٹرز سعودی عرب کو ڈرون طیاروں کی فروخت روکنے کی کوشش میں[/pullquote]
امریکا میں متعدد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینٹرز نے جمعرات کو ایک قانونی مسودہ بحث کے لیے جمع کرایا ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کے لیے ڈرون طیاروں کی فروخت روکنا ہے۔ اس بل میں ایسے ممالک جو امریکا کے زیادہ قریبی اتحادی نہیں، کے لیے ہتھیاروں کی فروخت کو مشکل بنانے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے، جب کی سعودی عرب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ جون میں ایسی خبریں سامنے آئیں تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کو جدید عسکری ہتھیار فروخت کرنے کے لیے سرد جنگ کے دنوں کے ایک معاہدے کی نئی تشریح چاہتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکا حساس نوعیت کے ہتھیار 35 اقوام کو فروخت کرتا ہے، جو امریکا کے انتہائی قریبی اتحادی ممالک ہیں۔
[pullquote]بیروت ڈونر کانفرنس میں یورپی یونین بھی شریک[/pullquote]
فرانس نے اتوار کے روز لبنان کے لیے ایک ڈونر کانفرنس کا اجلاس بلایا ہے، جس میں یورپی یونین نے شریک ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کانفرنس ویڈیو لنک کے ذریعے ہو گی اور اس کا مقصد بیروت دھماکوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے تناظر میں لبنان کی مدد کرنا ہو گا۔ یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس کانفرنس میں یورپی یونین کی نمائندگی یورپی کونسل کے سربراہ شارل میشل کریں گے جب کہ یورپی یونین کے ہنگامی حالات اور انسانی بنیادوں پر امداد کے شعبے کے کمشنر ژانیز لینارچِچ بھی اس میں شرکت کریں گے۔
[pullquote]بیروت دھماکے، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 15 ملین ڈالر امداد کی اپیل[/pullquote]
عالمی ادارہ صحت نے بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے بم دھماکے کے تناظر میں عالمی برادری سے 15 ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔منگل کو بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے مجموعی طور پر ڈیڑھ سو افراد ہلاک جب کہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایسی صورت حال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات بہت بڑ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں ابتدائی اور بنیادی طبی امداد کے مراکز کے علاوہ متعدد ہسپتال بھی تباہ ہوئے ہیں۔
[pullquote]چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی، روایتی جرگہ شروع[/pullquote]
افغانستان میں جمعے کے روز روایتی جرگہ شروع ہو گیا ہے، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا کابل حکومت کی قید میں موجود چار سو طالبان قیدی رہا کیے جائیں۔ یہ بات اہم ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان رواں برس فروری کے آخر میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغان حکومت کی قید میں موجود تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بھی افغان عمائدین سے اپیل کی ہے کہ طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ پومپیو نے کہا کہ امریکا افغانستان میں امن کی کوششوں کی مضبوطی کے لیے تعاون کرتا رہے گا۔
[pullquote]کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری، آسٹریلوی سرحدیں فی الحال بند رہیں گی[/pullquote]
آسٹریلیا نے بین الاقوامی سیاحوں کے آسٹریلیا میں داخلے پر پابندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں بین الاقومی سفر کو فی الحال اگلے کچھ ماہ تک روکے رکھناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ملک میں قرنطینہ انتظامات پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا میں اس وقت فقط آسٹریلوی شہریوں، مستقبل رہائش کے حامل افراد اور شہریوں کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو اس پابندی سے استثناء حاصل ہے۔ موریسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس پالیسی میں تبدیلی اگلے چند ماہ میں ممکن ہو گی۔
[pullquote]اسرائیلی فوج کی غزہ میں کارروائی[/pullquote]
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے غزہ کی جانب سے دھماکا خیز مواد کے حامل غبارے اسرائیلی علاقوں کی جانب اڑائے جانے کے بعد غزہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ فوجی بیان کے مطابق لڑاکا طیاروں نے غزہ میں عسکریت پسندوں کے زیراستعمال متعدد عمارتوں کو تباہ کر دیا۔ اس اسرائیلی کارروائی میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی پولیس نے بتایا تھا کہ جنوبی قصبے عراد میں ایک دیسی ساختہ بم ملا تھا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔
[pullquote]بیروت دھماکوں کے بعد لبنانی قیادت پر عوامی برہمی[/pullquote]
بیروت دھماکوں کے بعد لبنانی قیادت کو شدید عوامی غصے کا سامنا ہے۔ جمعرات کے روز متعدد مقامات پر مظاہرے ہوئے جب کہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لبنان بڑی سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کرے۔ گزشتہ روز فرانسیسی صدر امانویل ماکروں نے بیروت کا دورہ کیا۔ بیروت میں خوف ناک دھماکوں میں کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکا ممکنہ طور پر بیروت کی بندرگاہ پر گزشتہ کئی برسوں سے ذخیرہ کیے گئے امونیم نائٹریٹ کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔
[pullquote]خصوصی اقتصادی زون کا قیام، مصر اور یونان کے درمیان معاہدہ[/pullquote]
مصر اور یونان نے بحیرہء روم کے خطے میں ایک خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک مل کر اس خطے میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کا کام کریں گے۔ اس اقتصادی زون کے قیام کا اعلان مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے اپنے یونانی ہم منصب نیکوس ڈینڈیاس کے ساتھ مصر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک اس مخصوص اقتصادی زون میں موجود وسائل کو بہ روئے کار لانے کے لیے تعاون کریں گے۔