[pullquote]لبنان میں مظاہرے: ملکی وزیر اطلاعات مستعفی[/pullquote]
لبنان میں جاری مظاہروں کے بعد ملکی وزیر اطلاعات مستعفی ہو گئے ہیں۔ استعفیٰ دینے والے وہ پہلے حکومتی عہدیدار ہیں۔ بیروت میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشت شب مظاہرین نے ملکی وزارت داخلہ سمیت متعدد حکومتی دفاتر پر قبضہ کر لیا تھا۔ کئی مظاہرین نے ملکی پارلیمان کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اب تک بیروت میں 238 مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جب کہ ایک پولیس اہلکار ہلاک بھی ہوا ہے۔ بیروت میں دھماکوں کے بعد لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم حسن دیاب نے ہفتے کی شام اپنے خطاب میں پارلیمانی انتخابات وقت سے پہلے کرانے کا اعلان بھی کیا۔ تاہم بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ لوگ اب حکومتی اعلانات کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔
[pullquote]سنگین جرائم میں ملوث چار سو طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا، افغان لویہ جرگہ[/pullquote]
افغانستان میں گرینڈ جرگے کے ارکان نے طالبان کے چار سو قیدیوں کی رہائی کی حمایت کر دی ہے۔ اس بات کا اعلان قومی مصالحتی اعلیٰ کونسل اور لویہ جرگہ کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اتوار کی صبح جرگے کے اختتام پر کیا۔ جرگہ کی مشاورت گزشتہ دو روز سے جاری تھی۔ اس پیش رفت کے بعد کابل حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دریں اثنا امریکا نے اعلان کیا ہے کہ نومبر کے اختتام تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد گھٹا کر پانچ ہزار سے کم کر دی جائے گی۔ یہ بات امریکی ڈیفنس سیکرٹری مارک ایسپر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔
[pullquote]کئی دہائیوں بعد اعلیٰ امریکی حکام کا دورہ تائیوان[/pullquote]
ٹرمپ انتظامیہ کے ہیلتھ سیکرٹری ایلکس آذر تائیوان کے تین روزہ دورے پر تائپے پہنچ گئے ہیں۔ چار دہائیوں کے دوران تائیوان کا دورہ کرنے والے وہ اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار ہیں۔ امریکی وزیر اس دوران تائیوان کے صدر اور وزیر صحت سے ملاقاتیں کریں گے۔ چین تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ بیجنگ نے اس دورے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’امن و استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔ چینی وزیر دفاع نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’کوئی خطرناک حرکت‘ کرنے سے باز رہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب چین اور امریکا کے باہمی تعلقات پہلے ہی سے کشیدہ ہیں۔
[pullquote]جرمنی کا لبنان کے لیے دس ملین یورو امداد کا اعلان[/pullquote]
جرمنی نے لبنان کو فوری طور پر دس ملین یورو کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے بعد وہاں کے عوام کو زندہ رہنے کے لیے فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں اور اقوام متحدہ کی مشترکہ میزبانی میں لبنان کی مالی امداد کے لیے عالمی کانفرنس کا انعقاد آج ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنما ورچوئل کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ بیروت دھماکوں کے نتیجے میں 158 افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ لبنانی حکومت کے مطابق تین لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں۔
[pullquote]اسرائیل: نیتن یاہو کے خلاف بڑا مظاہرہ[/pullquote]
یروشلم میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ نیتن یاہو کی کورونا وبا سے نمٹنے کی پالیسی کے مخالف مظاہرین نے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق یروشلم کے نواح سے کچھ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے بعد نیتن یاہو اور وزیر دفاع بینی گینٹس میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے طویل ڈیڈ لاک کے بعد ہنگامی حکومت سازی کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ گینٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ نیتن یاہو کے کچھ اقدامات باہمی معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
[pullquote]برازیل میں کورونا کے سبب ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئیں[/pullquote]
لاطینی امریکی ملک برازیل میں کووڈ انیس کے سبب ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ برازیل کی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 30 لاکھ 12 ہزار ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 100,477 ہو چکی ہے۔ برازیل امریکا کے بعد اس مہلک وائرس سے دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ امریکا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 50 لاکھ کے قریب ہے جبکہ وہاں کووڈ انیس کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد 162,425 ہے۔
[pullquote]بیلاروس: صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری[/pullquote]
بیلاروس میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ جاری ہے۔ چھبیس برس سے بیلاروس میں برسراقتدار صدر الیکسانڈر لوکاشینکو چھٹی مرتبہ منتخب ہونے کے لیے پر امید ہیں۔ اس مرتبہ انہیں ایک نوجوان خاتون سیاست دان سویتلانا تیخانووسکایا کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ووٹنگ کے دوران سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ صدر لوکاشینکو نے خبردار کیا ہے کہ وہ سکیورٹی صورت حال بے قابو نہیں ہونے دیں گے۔ دریں اثنا اپوزیشن ارکان اور صحافیوں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ڈی ڈبلیو کے رپورٹر الیگزینڈر بوراکوف بھی بدستور زیرحراست ہیں۔ انہیں انہیں منگل کی شام حراست میں لیا گیا تھا۔
[pullquote]ناگاساکی پر ایٹمی حملے کے 75 برس[/pullquote]
آج جاپانی شہر ناگاساکی میں امریکی ایٹمی حملے کو 75 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ چھ اگست کو ہیروشیما پر ایٹمی حملے کے تین دن بعد امریکا نے ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرایا تھا۔ 1945ء میں دو جاپانی شہروں پر امریکی ایٹمی حملے ابھی تک کسی بھی جنگ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا واحد واقعہ ہیں۔ ناگاساکی میں آج اس حوالے سے منعقد ہونے والی ایک تقریب کے شرکاء نے اس حملے کے وقت یعنی دن 11 بجکر دو منٹ پر خاموشی اختیار کر کے مرنے والوں اور متاثرہ افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔