[pullquote]فرانس، شارلی ایبدو میں متنازعہ خاکوں کی پھراشاعت[/pullquote]
فرانس کے طنز ومزاح کے میگزین شارلی ایبدو نے پیغمبر اسلام کے وہ متنازعہ خاکے دوبارہ شائع کردیے ہیں جن کی وجہ سے اس کے دفتر پر پانچ سال پہلے حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں متنازعہ خاکے بنانے والا کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔ متنازعہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت ایسے موقع پر کی گئی ہے جب اس حملے میں ملوث دو حملہ آوروں اور ان کے ایک درجن سے زائد مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بدھ کو مقدمے کا آغاز ہو رہا ہے۔ شارلی ایبدو میگزین کی انتظامیہ کا کہنا ہے خاکے شائع کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ خوف اور دہشت کے آگے ’کبھی ہار نہیں مانیں گے‘۔
[pullquote]چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں بھارتی اسپیشل فورسز کا اہلکار ہلاک[/pullquote]
چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں بھارت کی اسپیشل فورسز کا اہلکار مار اگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے ساتھ لگنے والے بھارتی سرحدی علاقے کے قریب چینی فوج کے ساتھ تازہ جھڑپ میں بھارتی فوج کے تبت ریجن سے تعلق رکھنے والا اسپیشل فورسز کا اہلکار ہلاک ہوگیا۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں بھارتی اور چینی فوج کے درمیان بارڈر پر جھڑپوں کے دو واقعات میں یہ پہلے فوجی اہلکار کی ہلاکت سامنے آئی ہے۔اس سے قبل 2 ماہ پہلے بھارتی فوج اور چینی فوج کے درمیان تصادم میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے اب تک چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں فوجی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم تبت کی پارلیمنٹ کی ایک رکن نمگیل ڈولکر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں بھارتی فوجی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
[pullquote]ٹرمپ کی طرف سے پولیس کو شاباش[/pullquote]
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسلی ہنگاموں سے متاثرہ ریاست وسکانسن کے شہر کنوشا کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے مظاہرین سے سختی سے پیش آنے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف پرتشدد مظاہروں کو امریکا میں ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا اور مظاہرین کے خلاف پولیس ایکشن کا بھرپور دفاع کیا۔ ریاست وسکانس کے گورنر نے صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ وہ اس دورے کی زحمت نہ کریں کیونکہ ان کے اشتعال انگیز بیانات سے سفید فام پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج اور کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ کنوشا شہر میں 23 اگست کو پولیس نے ایک سیاہ فام شخص جیکب بلِیک کو گولیاں ماری تھیں جس کے بعد سے وہاں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
[pullquote]کورونا: آسٹریلیا بھی کسادبازاری کا شکار[/pullquote]
آسٹریلیا میں حکام نے کہا ہے کہ کورونا کے معاشی نقصانات کے باعث 28 سال میں پہلی بار آسٹریلیا کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہوگئی ہے۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق دوسری سہ ماہی میں معیشت ریکارڈ سات فیصد تک سُکڑ گئی۔ آسٹریلیا میں حکومت نے وبا کے دوران شہریوں اور کاروباروں کو اربوں ڈالر کی مالی امداد مہیا کی ہے لیکن اس کے باوجود کورونا سے معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آسٹریلیا کی آبادی ڈھائی کروڑ ہے۔ اب تک وہاں کووڈ انیس کے 26000 کیسز سامنے آئے چکے ہیں جبکہ 663 اموات ہو چکی ہیں۔
[pullquote]امریکا کورونا ویکسین کی کوششوں میں ڈبلیو ایچ او کا ساتھ نہیں دے گا[/pullquote]
ٹرمپ حکومت نے کہا ہے کہ امریکا، عالمی ادارہ صحت کی قیادت میں کورونا کی ویکسین تیار کرنے کی کوششوں کا حصہ نہیں بنے گا۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کسی ایسی تنظیم سے تعاون نہیں کرے گا جو ’’بدعنوان عالمی ادارہ صحت اور چین کے زیر اثر ہوں۔‘‘ دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کورونا کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں جسے ’کوویکس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا کے توڑ کے لیے وہ اپنی الگ کوششیں جاری رکھے گی۔
[pullquote]ایران نے مظاہرین سے نمٹنے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، ایمنسٹی[/pullquote]
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایران میں گزشتہ برس ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے اندھا دھند گرفتاریاں کیں اور شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ آج بدھ کو جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی نے کہا کہ گزشتہ برس نومبر میں حکومت مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ایرانی سکیورٹی فورسز سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سرزد ہوئیں۔ تہران میں ان مظاہروں کا آغاز تیل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ہوا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئے تھے۔
[pullquote]خمیر روژ دور کے بدنام زمانہ جیلر انتقال کر گئے[/pullquote]
کمبوڈیا میں خمیر روژ دور کے بدنام زمانہ جیلر کانگ گیک ایو انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں سن دو ہزار بارہ میں اقوام متحدہ کے ایک ٹریبونل کی طرف سے جنگی جرائم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ سن ستر کی دہائی میں انہوں نے کمبوڈیا میں ماؤ فوجی آمریت کے دوران ہزاروں لوگوں پر تشدد کرایا، انہیں قید خانوں میں رکھا اور ان کا قتل عام کیا۔ خیال ہے کہ خمیر روژ دور میں ان کی بدنام زمانہ جیل میں عورتوں اور بچوں سمیت پندرہ ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے گئے۔